کوئٹہ میںایک اور المناک دہشت گردحملہ

کوئٹہ میںایک اور المناک دہشت گردحملہ

کوئٹہ کے پشین چوک میںہفتہ کے روز ایک خود کش دھماکہ یہ باور کرنے کے لیے کافی ہے کہ دہشت گردوں نے کراچی اور پنجاب میں آپریشن ردالفساد کی کامیابیوں کے بعد بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی طرف توجہ مرکوز کر لی ہے۔اس المناک واقعہ کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ اس المناک سانحہ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں خبروں کے مطابق آٹھ سیکورٹی اہلکاروں سمیت پندرہ عزیزان وطن شہید ہوئے ہیں اور 25زخمی ہوئے ہیں۔ اللہ کریم اس دار فانی سے رخصت ہونے والوں کی مغفرت فرمائے ' ان کے درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو شفائے عاجلہ و کاملہ عطا فرمائے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا۔ اور اس واردات میں جو بم استعمال کیاگیا اس میں آگ لگانے والا مواد بھی تھا جس کی وجہ سے ارد گرد گاڑیوں کو آگ لگ گئی ۔ اس نئی تکنیک کے استعمال کی وجہ سے لگتا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں میں پڑھے لکھے افراد بھی شامل ہیں۔ امن وامان کے ذمہ دار اداروں نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے تاہم اس تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے اور ایسے افراد کا پتہ لگایا جانا چاہیے جو بم بنانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ اس حوالے سے کراچی میں گرفتار دہشت گردوں سے ممکن ہے کچھ سراغ مل سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں عوام الناس کا اور مقامی حکومتوں کے نمائندوں کا تعاون بہت ضروری سمجھا جاناچاہیے جن کی ایسے لوگوں پر نظر ہوتی ہے جو علاقے میں اجنبی ہوں یا ایسے مقامی ہوں جو ہفتوں اور مہینوں بعداچانک نمودار ہوتے ہوں۔ ا نٹیلی جنس کے اداروں کو بھی مقامی لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اداریہ