ایک کالم، قوم پرستوں اور لبرل دوستوں کے لئے

ایک کالم، قوم پرستوں اور لبرل دوستوں کے لئے

مکرر عرض کئے دیتا ہوں یہ جمہوریت اور سول بالادستی کی جنگ ہر گز نہیں جیسا کہ اے این پی کے کچھ دوست اور پیپلز پارٹی کاایک جذباتی عنصر کہہ رہا ہے۔ مجھے اپنے ایک دوست کی خدمت میں عرض کرنا ہے کہ وہ قریبی دنوں کی تاریخ کاریکارڈ درست کرلیں۔ زرداری نے میثاق جمہوریت سے انحراف نہیں کیا تھا۔ میثاق جمہوریت سے انحراف میں پہل جناب نواز شریف نے کی تھی۔ پی سی او ججز بارے میثاق جمہوریت میں جو طے پایا تھا نواز شریف اس کے بر عکس افتخار چودھری اینڈ کمپنی کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ آصف علی زرداری نے نواز شریف سے ججز کی بحالی کے لئے معاہدہ کیا۔ پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اس پر گرما گرم بحث ہوئی۔ ارکان کی اکثریت کا موقف تھا ججز کی بحالی کے معاملے میں میثاق جمہوریت کو فالو کیا جائے۔ اپنی پارٹی کی رائے پر زرداری کا وہ بیان تھا جسے بنیادبنا کر ترقی پسند قوم پرست محفوظ جان نے اپنی تحریر لکھی۔ یہ کہنا کہ نواز شریف کے ساتھ ظلم ہوا وہ ڈٹ گئے۔ اب سویلین بالا دستی کی جنگ ہے اس کا ساتھ دیا جانا چاہئے۔ کیا اس سے قبل سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف بننے والے اے آر ڈی نامی اتحاد کی اساسی دستاویزات نہ پڑھ لی جائیں۔ اے آر ڈی کے قیام کے وقت اتحاد کی بنیادی دستاویزات پر دستخط کرنے والی جماعتیں فوجی حکومت سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ کرنے یاریلیف نہ لینے کی پابند تھیں۔ ہم سے طالب علم اس وقت بھی کہہ رہے ( مشرق کے کالم گواہ ہیں) کہ نواز شریف اے آر ڈی کو طاقت کے اظہار کا ذریعہ بنائیں گے اور نکل لیں گے۔ پھر یہی ہوا ان کی اپنی جماعت میں فقط راجہ ظفر الحق جانتے تھے کہ نواز شریف کیا کرنے جا رہے ہیں۔ امریکی مداخلت اور سعودی عرب و قطر اور لبنان کے رفیق الحریری کے مذاکرات کامیاب ہوئے۔ میاں صاحب نے ایک معافی نامہ لکھا 10سال کا معاہدہ جلا وطنی خریدا اور چپکے سے نکل گئے۔ یاد دلاتا چلوں کہ نواز شریف نے ایک نہیں کوئی درجن بھر صحافیوں کو لندن اور جدہ میں انٹرویو کے دوران کہا۔ ''بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے خلاف میری حکومتوں کو (دونوں حکومتوں) مقدمات بنانے کا حکم آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو نے دیا تھا۔ نواز شریف کہا کرتے تھے '' اب مجھے عقل آگئی ہے دوبارہ اقتدار ملا تو ماضی کو نہیں دہرائیں گے۔ 2008ء سے 2013ء کے درمیان کیا ہوا۔ جنرل کیانی اور پاشا کی خوشنودی کے لئے سپریم کورٹ کالا کوٹ پہن کر کون گیا۔ پی سی او ججز کی بحالی کے لئے تحریک کس کے کہنے پر چلائی نواز شریف نے؟ شہباز شریف کس کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی قومی دولت نکالنے اور گلے میں رسہ ڈال کر لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کے اعلانات کرتے تھے۔ پنجاب میں میڈیا نے پورے پانچ سال پیپلز پارٹی کا جینا حرام کئے رکھا۔ 2013ء کے انتخابی نتائج بارے زرداری کا تبصرہ یہ تھا کہ پنجاب میں یہ خالص آر اوز کا الیکشن تھا۔ یہ الزام نہیں تھا تین دن تک آر اوز کے دفاتر ایک ادارے کے قبضے میں رہے۔ نتائج تبدیل ہوئے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی سے کم و بیش قومی اسمبلی کی 30سیٹیں چھینی گئیں۔ نواز شریف کو دو تہائی اکثریت کے قریب کس نے لا کھڑا کیا؟ انگنت سوالات اور ہیں مگر فائدہ۔ چلیں ایک سوال نواز شریف سے دریافت کرلیں وہ 10اگست بروز جمعرات 130کلو میٹر کی سپیڈ سے گاڑیاں بھگا کر پنڈی سے جہلم کیوں گئے؟ جو شخص اپنے ایک ساتھی کے ذریعے ملے پیغام اور ایک فون کال پر ریلی میں شریک ساتھیوں کو چھوڑ کر نکل جائے اس پر اعتبار کون کرے؟ کیا محض نواز شریف کی محبت میں سپریم کورٹ کو گالیاں دی جا ئیں۔ یہ وہی سپریم کورٹ ہے جس نے فیصلہ دیا کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نہیں ہوئی۔ وہ فیصلہ نون لیگ کے حق میں تھا اس لئے حلال اور انصاف کا منہ بولتا ثبوت۔ یہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف ہے اس لئے حرام بھی ہے اور جمہوریت پر حملہ بھی۔ سبحان اللہ کیا پیپلز پارٹی کا اقتدار جنوبی افریقہ کے ووٹروں کا مرہون منت تھا؟معاف کیجئے گا میرے ترقی پسند قوم پرست دوستو! فوجی آمروں کے گملوں میں لگے سیاستدانوں سے جمہوریت پرستی کی توقع فضول ہے۔ یہ بنیادی طور پر طبقاتی نظام کے مالک و محافظوں اور ٹھیکیداروں کی جنگ ہے۔ پیپلز پارٹی کو نواز شریف کا ساتھ دینے کاجمہوری مشورہ دینے والے قوم پرست نیکی کمانے کاموقع ضائع کیوں کر رہے ہیں۔ کیا محض جمہوریت کی محبت میں کھربوں روپے کی کرپشن کو بھلا دیا جائے۔ ملک سے باہر مقیم ہمارے ترقی پسند' قوم پرست اور لبرل دوست ان عذابوں کا تصور کرسکتے ہیں جن سے اہل پاکستان گزر رہے ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران شہباز شریف نے تین بار چودھری نثار کے ہمراہ اور تین ہی بار تنہا عسکری حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ نواز شریف میں تو اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اپنی مرضی کا وزیر اعظم نامزد کر سکتے۔ ان کی ترجیح خواجہ آصف اور احسن اقبال تھے۔ پوچھ لیجئے کہ شاہد خاقان عباسی کا نام کہاں سے آیا؟ ہم سے طالب علم سمجھتے ہیں کہ طبقاتی نظام کے مالکوں اور ٹھیکیداروں کی اس لڑائی میں جو نمائشی ہے توانائیاں برباد کرنے کی ضرورت نہیں۔ اچھا اگر یہ جنگ ہے اور واقعتا ہوتی ہے تو ہونے دیجئے۔ مالک اور ٹھیکیدار دونوں کمزور ہوں گے۔ اس لڑائی سے ممکن ہے کہ اس صورت میں عوامی جمہوریت کا راستہ بن سکے۔ بہت ادب سے عرض کروں پاکستانی سیاست خاندانی جماعتوں کے قبضے میں ہے۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں کاحق ملکیت محدود ہے۔ شخصیت پرستی کا سر چڑھ کر بولتا جادو عوامی جمہوریت بارے سوچنے نہیں دیتا۔ پھر عرض کرتا ہوں۔ آزاد مائوں کے جنے غلامی کا طوق کیوں پہنے رہیں؟ پاکستان کا مستقبل انصاف اور حقیقی جمہوریت سے مشروط ہے۔ فی الوقت دونوں چیزیں طبقاتی ہیں عوام در بدر ہیں ۔ مہنگائی عروج پر اور مسائل آسمان کو چھو رہے ہیں۔

اداریہ