Daily Mashriq

جشن آزادی مبارک ہو…!!

جشن آزادی مبارک ہو…!!

پاکستان کی تاریخ میں شاید وہ پہلی چودہ اگست جس روز آزادی نے ایک گہری سانس لے کر نیند سے آنکھیں کھولی ہیں۔ شاید پہلی چودہ اگست جو 1947ء کے بعد ان جذبوں کے اظہار کے لئے تیار ہو رہی ہوگی جن کو ہم نے آج سے ستر سال پہلے اپنے رگ و پے میں سرایت کرتے محسوس کیا تھا۔ یہ ستر سال کی اماوس کی رات۔ جس میں ایک بار بھی چاند نہیں نکلا۔ ایک بار بھی کسی کوئل کی آواز سنائی نہیں دی۔ ایک بار بھی پوپھٹنے کی امید پیدا ہی نہیں ہوئی۔ ایک بار بھی کسی آواز پر دل یہ سوچ کر نہیں بھڑکا کہ اس میں کوئی سچائی بھی ہوگی۔ ہر دعا کی قبولیت کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اس قوم کی آزادی کی قبولیت کا یہی وقت ہوگا۔ میاں نواز شریف جی ٹی روڈ پر جس جلوس میں لاہور کی طرف جا رہے تھے۔ اس میں شامل لوگوں کے چہروں پر کوئی تاثر مجھ جیسے لوگوں کو تو دکھائی ہی نہ دیا۔ وہ جو باتیں کرتے رہے وہ قریباً ایسی ہی محسوس ہوئیں جیسے نوابوں کے جنازوں پر ردالیاں آکر بین کیا کرتی تھیں۔ ان نوابوں کی رعایا' کسی محبت ،کسی الفت' کسی بھی تعلق کے بغیر ان نوابوں کے جنازوں میں ان کی آخری رسومات میں شامل ہوتی۔ ان کرائے کے ماتم کرنے والیوں کے ساتھ رونے دھونے میں شریک بھی ہوتی اور پھر اپنے اپنے کچے گھروں کو لوٹ جاتی۔ انہیں اپنے گھروں کے آنگن میں کبھی نواب کے اونچے محل کے جگمگاتے فانوس یاد بھی آتے تو وہ سر جھٹک دیا کرتے اور اکثر اوقات تو رعایا کے یہ لوگ نواب کی خوشی اور غمی میں بس اس ہو شر با خوبصورت محل کے نظارے کے لئے ہی جایا کرتے تھے۔ ایک سرکس کی طرح وہ یہ سب کچھ دیکھتے اور خوشی خوشی لوٹ آتے اور پھر ایک عرصے تک وہ ذکر چلتا رہتا۔

اب کی بار بھی مجھے کچھ ایسا ہی ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ اس ملک کی عدالت عالیہ نے اپنے ایک فیصلے سے بد عنوان سیاست کے جسم سے روح قبض کرلی۔ چونکہ یہ موت ابھی بالکل نئی نئی ہے اس لئے ماتم کرنے والے اس کے جسم کو کاندھوں پر اٹھائے گھوم رہے ہیں۔ وہی وزیر اعظم جو یہ کہہ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف ہی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ ہیں جب ا نتظامی امور میں مشغول ہو جائیں گے تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ میاں نواز شریف کا فون بھی نہ اٹھائیں گے۔ یہ دنیا ایسی ہی ہے۔ میاں صاحب ابھی بھائی کے کاندھوں پر سواری کر رہے ہیں۔ تہمینہ درانی تو اس وزن کا اظہار کر چکیں۔ میاں شہباز شریف بھی خاموشی سے کبھی یہ سب کہہ دیں گے ابھی تو میاں نواز شریف کا غم غلط کرنے کو انہیں دلاسے دئیے جا رہے ہیں۔ وہ جنوبی پنجاب کے دورے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں لیکن میاں صاحب کو یہ معلوم ہی نہیں کہ جلد ہی یہ سب انہیں معلوم ہوجانے والا ہے۔ جلد ہی حقیقت سامنے آنے لگے گی۔یہ بھی سب جانتے ہیں کہ اس حقیقت کی سحر پھیلنے میں بہت وقت نہ لگے گا۔ تاریکی کی چادر کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے لئے صرف ایک کرن ہی کافی ہوتی ہے۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے نے پاکستان کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔ اب پاکستان کے لئے آزادی کی ایک روشن صبح طلوع ہونے ہی والی ہے۔ ایک ایسی روشن صبح جس کی روشنی اور ضیاء کو اوربھی جلا بخشنے کیلئے ایک دھبے کے احتساب کا بندوبست ہوگا۔ صرف مسلم لیگ(ن) تک ہی نہیں بلکہ اس صفائی کا دائرہ کار ہر ایک سیاسی جماعت تک پھیلے گا۔ وہ جن پر سیاہ کاریوں کے الزام ہیں اور ان تک بھی جن پر غداریوں کے الزامات ہیں۔ مذہبی جماعتوں تک بھی اور ہر اس شخص تک جو کسی بھی حیثیت سے کبھی بھی اس ملک کو نقصان پہنچانے کی کسی کوشش میں ملوث رہا ہے۔ یہ آزادی کا دن ہمارے لئے خوشیوں سے بھرپور دن ہے۔ اس آزادی کے دن کے ہاتھ میں ہمارے لئے نئی صبحوں کی کئی کہانیوں کے عنوان ہیں۔ اس ترقی جسے سمجھنے میں ہماری عمر گزر جاتی تھی۔ ترقی معکوس ہر جانب دکھائی دیتی تھی اور ہمیں مسلسل اس فریب میں مبتلا رکھا جاتا تھا کہ اب ترقی کا روپیلا جسم نظر آئے گا اور اسی آس میں ہمارے ستر سال گزر گئے۔ اب اس سراب سے ہم آزاد ہوگئے ہیں ۔ میاں صاحب توجو بھی واویلا مچا رہے ہیں ، مجھ جسے لوگوں کو اس سے کوئی علاقہ نہیں ، ہمارا واسطہ ، ہمارا ربطہ ہمارا تعلق پاکستان سے ہے ، ہمیں لوگوں سے کوئی مطلب نہیں ، کسی نام سے کسی حرف تہجی سے کسی علم سے ، کوئی مطلب نہیں ، ہم تو اس ملک سے وابستہ لوگ ہیں ، کیونکہ ہمارا مستقبل ، ہمارا حال اور ہمار ا ماضی اس ملک سے جڑا ہے ۔ ہماری ہجرت بس اس ملک کے ایک شہر سے دوسرے کی جانب ہوتی ہے ۔ ہم پاکستانی کہلاتے ہیں ۔ ہم پاکستانی ترانوں کو پڑھتے ہوئے گاتے ہوئے ایک عجیب طاقت اپنے جسموں میں محسوس کرتے ہیں ۔ ہم اس وطن کے لیے جان دے سکنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔ہم یہیں رہتے ہیں اور ہمارے آباء کی قبریں بھی اس مٹی میں موجود ہیں ۔ اس ملک سے محبت ہمیں تقریباً اپنا مذہبی فریضہ محسوس ہوتی ہے ۔ اس ملک سے محبت ہم اپنے بچوں کے کانوں میں ان کی پہلی آزان کے ساتھ ڈالتے ہیں ۔ ہم لوگ اس فیصلے کے ساتھ اس 14اگست کو ایک گھنائونی سیاست کے پنجوں سے آزاد ہوئے ہیں ، وہ سیاست جس کی گرفت سے تڑپ کر ہمارے قائد نے کہا تھا کہ میری جیب میں سب کھوٹے سکے ہیں ۔ وہ کھوٹے سکے ہم اپنی جھولیوں میں ڈال کر اتنے سال چلتے رہے ۔ اب آزادی نصیب ہوئی ہے ۔ یہ چودہ اگست بہت خوبصورت ہے کیونکہ اس کے بعد ہماری آزادی کے سفر کا آغاز ہو رہا ہے ، جشن آزادی مبار ک ہو ۔

اداریہ