Daily Mashriq


ہجرت کی داستان کا ایک ورق

ہجرت کی داستان کا ایک ورق

وطن عزیز کی آزادی کی تیسری سالگرہ ہماری یادوں کے پردے پر نقش ہے۔ اس سے پہلے کی یادیں دھندلی پڑ چکی ہیں۔ لیکن ان کابیشتر حصہ اپنی تلخیوں کی وجہ سے ذہن میں محفوظ رہ گیا ہے۔ یہ وطن کو ہجرت سے پہلے کی باتیں ہیں۔ جب ہمارے ابا ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد ہندوستان کی ایک مسلم ریاست بھوپال میں سکونت اختیار کر چکے تھے اُن کا یہ قیام اگر چہ عارضی تھا لیکن انہوں نے بھو پال کے گھوڑا نخاس کے علاقے میں چونکہ آٹو موبیل انجینئر تھے اپنا ایک ورکشاپ قائم کر ر کھا تھا۔اپنے ابا کو اسی ورکشاپ کے ایک گوشے میں شیشے کی دیواروں سے بنے چھوٹے سے دفتر میں کام کرتے ہمیں یاد ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض احاطے میں قائم ورکشاپ تھا یہاں گاڑیوں کی سروس بھی کی جاتی اور دس بارہ ملازمین ان کی مرمت میں بھی مصروف نظر آتے۔ انہیں کوئی مسئلہ پیش آتا تو ہمارے ابا انہیں ہدایات دینے اُن کے پاس چلے جاتے۔ ہمارے ابا کا بھوپال میں مستقل قیام کا ارادہ نہ تھا اس لئے انہوں نے وہاں ذاتی مکان بنانے کا کبھی نہیں سوچا۔ اپنے مختصر خاندان کے ساتھ اسی علاقے کے ایک محلے میں دو کمروں کے مکان میں رہ رہے تھے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کمروں کے سامنے برآمدہ تھا۔ گھر کے مختصر صحن میں ہمارے ابا نے کچھ پودے لگا رکھے تھے۔بر آمدے میں پھولوں کے کچھ گملے پڑے تھے۔ وہ باقاعدہ ان پودوں کی حفاظت کرتے انہیں پانی دیتے۔ ہمیں صحن کی دیواروں پر انگور کی بیلیں بھی یاد ہیں۔ انگوروں کے خوشوں پر ابا تھیلیاں چڑھا دیتے۔ گھر کے صحن میں انار کا ایک درخت بھی تھا۔ بار آنے پر اس کی شاخیں جھک جاتی تھیں اور ہم اچھل اچھل کر اس سے انار توڑتے تھے۔ زندگی بڑے سکون سے گزر رہی تھی۔ اچانک ہم نے محسوس کیا کہ ہمارے ابا کے مزاج میں کچھ تلخی پیدا ہونے لگی ہے۔ وہ طبعاً خوش مزاج تھے اور اپنی گفتگو میں مزاح کا تڑکا لگاتے رہتے تھے۔ ورکشاپ کے بیشتر ملازمین ہندو تھے ، جب اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی تو ہمارے ابا اُنہیں ٹھیٹ پشتو میں بے نقطہ سنانے لگے۔ ہندو ملازمین کی کوشش ہوتی کہ وہ ابا کو پشتو بولنے کا موقع نہ دیں۔ ایک شام جب ابا گھر پہنچے تو وہ ضرورت سے کچھ زیادہ پریشان نظر آئے۔ بار بار کہتے کہ دیکھو ان بد بختوں نے آج پھر مسجد کے تالاب میں مردہ کتا پھینک دیا ہے۔ میرا ننھا ذہن اس کی وجہ جاننے سے قاصر تھا کہ بھوپال جو ہمیشہ سے ایک پر امن شہر رہاہے وہاں کے حالات میں یہ اچانک تبدیلی کیسے آگئی۔ بعض دفعہ تو ڈھول بجا کر شہر میں منادی کرادی جاتی کہ مسلمان بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں' فساد کا خطرہ ہے۔ ہندوئوں نے مسلم برادری کو تنگ کرنے کے لئے ایک ہی طریقہ سوچ رکھا تھا کہ وہ نماز کے اوقات میں مسجدوں کے سامنے ڈھول تاشے لے کر پہنچ جاتے اور اس قدر زور زور سے بجانے لگتے کہ مسلمانوں کو توجہ کے ساتھ نماز پڑھنا نا ممکن ہوتا۔ یہ وہ حالات تھے جن کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے بھو پال میں مزید قیام محال ہوگیا اور پھر ایک روز ابا نے وطن لوٹنے کے پختہ ارادے کے ساتھ ورکشاپ بیچنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے اپنے محلے کے مسلمانوں کی ایک تنظیم بنا رکھی تھی جس کی وجہ سے انہیں قتل کی دھمکیاں بھی ملنے لگیں۔ ایک بار گھر آتے ہوئے ان پر کچھ ہندو غنڈوں نے حملہ بھی کیا جس سے ان کے سر پر زخم آگئے۔ 

ان کے ہندو دوست جو اب بالکل دشمنی پر اتر آئے تھے ان سے کہنے لگے خان صاحب! اب تو تمہارا وطن آزاد ہوگیا ' تمہارا اب یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ جب وہ کسی سے اپنا ورکشاپ خریدنے کی بات کرتے تو ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا جاتا یہ تو ہماری جائیداد ہے جس پر تم نے قبضہ جما رکھا ہے اور یہی کچھ ہوا۔ ابا نے ورکشاپ کا سامان اونے پونے داموں بیچ کر انہوں نے ایک دن ایسی حالت میں رخت سفر باندھا کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک سوٹ کیس تھا۔ برقعے میں لپٹی لپٹائی اماں ہمیں انگلی سے پکڑے ان کے پیچھے آرہی تھیں۔ یہ مختصر لٹا پٹاتہی دست خاندان بے سر و سامانی کے عالم میں اپنے خوابوں کے جزیرے کی جانب چل پڑا تھا۔ ہمارے ننھے ذہن میں راستے کی بے شمار صعوبتوں کی تلخ یادیں محفوظ ہیں۔ کبھی آدھی رات کو لق و دق صحرا میں ٹرین کھڑی کرکے مسافروں کو اترنے کا حکم دیا جاتا اور ان کی تلاشی لینا شروع کردی جاتی۔ یا پھر گھنٹوں کسی ویران ریلوے سٹیشن پر مسافروں کو روک کر ذہنی اذیت میں مبتلا کیاجاتا۔ جب ہمارا خاندان کھوکھرا پار کے راستے کراچی کے کینٹ ریلوے سٹیشن پر اترا تو اب ہمارے ابا کے پاس مزید سفر کے لئے ٹکٹ خریدنے کے پیسے نہ تھے۔ ہماری اماں کی رولڈ گولڈ والی چین کی گھڑی بیچنا پڑی۔ ان پیسوں سے صرف ملتان تک کا ٹکٹ خریدا جاسکا اور اس سے آگے پشاور تک کے سفر میں جب ٹکٹ کلکٹر اماں سے ٹکٹ طلب کرتا تو وہ اسے کہتیں مردانے میں بیٹھے میرے شوہر کے پاس ہے اور ابا سے پوچھنے پر وہ اماں کے پاس ہونے کا بہانہ بنا دیتے۔ ملتان سے پشاور شہر کے ریلوے سٹیشن پہنچنے کے بعد ہم مردان میں اپنے گائوں بغدادہ کیسے پہنچے؟ یہ ایک الگ داستان ہے۔ بتانا صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم خوش قسمت تھے کہ جان بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ ہجرت کے اس سفر میں کروڑوں مسلمان بے گھر ہوئے۔ پندرہ لاکھ مسلمان شہید ہوئے اور 90ہزار مسلمان بیٹیاں بے آبرو ہوگئیں۔ آج 70سال گزرنے کے بعد ہمارے طالع آزما سیاستدان بی ایم ڈبلیو گاڑیوں میں بیٹھ کر ایک نئے انقلاب کی نوید دے رہے ہیں۔ کون سا انقلاب' کیسا انقلاب' محلات میں رہنے والے ان لوگوں کو پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں