اے وطن پیارے وطن

اے وطن پیارے وطن

آج چودہ اگست ہے ۔آزادی کا دن ۔یہ ملک خداد اد اب 70برسوں کا ہوگیا ہے ۔ لمبا سفر ہے لیکن ان بیتے برسوں میں کتنی کہانیاں ہیں ہر کہانی کے پس منظر میں اس ملک خداداد کو پامال کیا گیا ہے ۔ ہر لحظہ اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے کے اندیشے ظاہر کیے جاتے رہے ۔ ایک بازو اس سے الگ بھی کیا گیا،ہزاروں دشمنیوں کی زد میں رہا یہ وطن لیکن اس ملک میں اپنی بقاء قائم رکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجودتھی سو وجود قائم رکھ پایا ۔ یہ صلاحیت اس کے عوام کی سخت جانی کے باعث ممکن ہوسکی ہے ۔ یہ ملک کہ جسے قدرت نے اپنی اپنی فیاضیوں سے مالا مال رکھا ہے ۔ چاروں موسموں کا مالک یہ ملک کہ جس کے پاس زرخیززمینیں ہیں مگر پھر بھی اس میں بھوک اگتی ہے تو یہ بدقسمتی نہیں جہالت ہے کہ ہمیں قدرت کے دیے ان چار موسموں اور بہتے پانیوں کی قدر نہیں ورنہ ان چار موسموں اور ان پانیوں سے اناج کیا سونا بھی اگایا جاسکتا ہے ۔ پھر اجناس درآمدکیے جائیں۔ظاہر ہے یہ سسٹم کا فیل ہونا ہے ۔ میرادہقان تو کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا نہ صبح نہ شام بس اپنے کھیت کو سینچتا رہتا ہے ۔وہ ایسا نہ کرے تو اپنا اور اپنے ایال کا پیٹ نہیں پال سکتا ۔ اس کی مجبوری ہے کہ وہ محنت کرے ۔ ہماری زمین قدرت کے چھپے خزانوں سے بھری پڑی ہے ۔ایک تیل کی دولت عربوں کو ملی تو وہ صحرانشین دنیا کی مالدار قوم بن گئی کہ پوری دنیا کے مزدور وا نجینئر اس دھرتی کو بنانے سنوارنے وہاں پہنچ گئی اور وہاں کے صحراؤ ں کی صورتیں ہی بدل گئیں اور وہاں کے لوگوں کی قسمتیں بھی ۔ ہمارے پاس تیل ، گیس ،قیمتی پتھرو معدنیات کے ذخیرے اب ہمارے انتظار میں ہیں کہ کب کوئی آئے اور انہیں نکالے ۔ہماری افرادی قوت دنیا جہاں میں اپنے حالات کو سدھارنے کے لیے محنت مزدوری کرنے ہجرت کرکے جاتی ہے ۔ یہی افرادی قوت ملائیشیا نے استعمال کی تو وہ ایشین ٹائیگر بن گیا ۔ جاپان نے اپنے کارخانوں کو چلانے کے لیے اپنی مہنگی لیبر کو ملائیشیا کی سستی لیبردے دی اور بہت بڑی انڈسٹری ملائیشیا پہنچ گئی ۔ ملائیشیا کے عوام کو روزگار ملا ۔حکومت کو ٹیکس ملا۔زرمبادلہ ملا۔کارخانوں کو چلانے کا ہنر سیکھ لیا اور پھر حالات تبدیل ہوگئے ۔ بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ جہاں اقوام عالم نے کیسے اپنے حالات کو بدلا ۔ لیکن ان حالات کو بدلنے کی خواہش کو دل میں جنم دینا بہت ضروری ہے ۔ ہمیں تو مصیبت یہ ہے کہ ایسی غیر ضروری چیزوں میں الجھائے رکھا گیا ہے کہ ہم نے ترقی کے خواب دیکھنے ہی چھوڑ رکھے ہیں ۔ حکمرانوں نے کبھی قوم کو اعتماد میں ہی نہیں لیا ۔جبکہ قوم نے حکمرانوں کے فیصلوں کے اتنے زخم اٹھائے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی ۔اتنے برس تک کسی دوسری قوم کو بجلی کے لیئے اس طرح ترسایا گیا ہوتا تو اس قوم نے حکمرانوں کو سمندر میں پھینک دیا ہوتا اور ہمیں نے والے کل کے لالی پاپ سے تسلیاں دے دی جاتی ہیں اور ہم بھی بہل جاتے ہیں ۔ رات اور دن کے کسی بھی وقت بجلی چلی جائے ہم اس پر صبر کرلیتے ہیں ۔ دنیا کے کسی حکمران کو اتنی صابر اور شاکر قوم نہیں ملی ہوگی لیکن اسی صابر وشاکر قوم کے حالات بدلنے کی کسی نے کوئی کوشش نہیں کی ۔ہماری قوم کی سادگی کاہمیشہ استحصال کیا گیا ہے ۔ ان کے ووٹ کو مدنظر رکھا ہے ان کے مسائل اور ترقی کو کسی نے خاطر میں نہیں لایا ۔ ہماری جمہوریت بنیادی طور پر جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے کہ جس جمہوریت میں عوام کو مزارعے اور کمی کمین ہی سمجھا جاتا ہے ایسی صورت میں عوام بھی دل سے خو دکو طاقت کا سرچشمہ نہیں سمجھ پاتی اور ادارے اور حکمران مل کر ان کے خون کو جونکوں کی طرح چوستے ہیں ۔ قوم کے ساتھ سب سے بڑی بے انصافی قوم کو صحیح تعلیم نہ دے کر کی گئی ہے ۔ اس قوم کو جان بوجھ کر ناخواندہ رکھا گیا ہے کہ کہیں اپنا حق نہ مانگ بیٹھے کہ خواندہ تو اپنی فرائض اور اپنے حقوق دونوں سے واقف ہوتا ہے ۔یہاں دانش کا قتل کیا گیا ہے ۔ لوگوں کی سوچوں تک پہرے لگادیے گئے ہیں ۔ جو روشنی کی بات کرے وہی مطعون ٹھہرتا ہے ۔ مگر اب حالات کو بدلنا ہے ۔تبدیلی تو آنی ہے ۔ میڈیابہت کچھ دکھا رہا ہے ۔ انٹر نیٹ کے سوشل میڈیا پر بہت سی سچائیاں کھل کر سامنے آرہی ہیں ۔ ہم تو دعائیں کرنے والے لوگ ہیں ۔آج پھر احمد ندیم قاسمی کی اس نظمیہ دعا کو آپ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں ۔

خدا کرے کہ میری ارض ِ پاک پر اترے وہ
فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے ،وہ کھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے ،وہ ہمیشہ سبزرہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیںیہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں سے بھی روئیدگی محال نہ ہو
خداکرے نہ خم ہوسرِ وقاروطن
کہ اس کے حسن کو تشویش ماہ وسال نہ ہو
ہرایک فرد ہو تہذیب وفن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہوکوئی خستہ حال نہ ہو
خداکرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہوزندگی وبال نہ ہو۔

متعلقہ خبریں