اسلامی ممالک کی ابتر صورت حال

اسلامی ممالک کی ابتر صورت حال

جمہوریت اصلی ہو اور آئین و دستور کے مطابق ہو توا س میں شک نہیں کہ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی کی قیمتی نعمت ملتی ہے ۔ بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے بیسویں صدی ہی وہ صدی ہے جس میں جمہوری نظام کے ذریعے بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہوئی ۔ برطانیہ ، امریکہ اور یورپ کے ممالک میں جمہوریت کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ بڑے بڑے واقعات رونما ہو جاتے ہیں لیکن پارلیمنٹ اور عدلیہ کے ذریعے اُسے حل کر لیتے ہیں ۔ اور ہاں جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ اگر کسی کو عدلیہ اور جمہوری نظام کے حوالے سے کوئی اعتراض یا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے اختلافی نقطہ نظر کا اظہار بھی آئین و دستورمیں موجود طریقہ کار اور حدود کے اندر ہی کر تا ہے ۔ اس لئے اُن کے ہاں احتجا ج اور ریلیاں کبھی اس انداز سے نہیں ہوتیں کہ سرکاری یا پرائیویٹ و پبلک اثاثوں اور انفراسٹر کچر کو نقصان پہنچے۔ تیسری دنیا بالخصوص اسلامی ممالک کا بڑا المیہ یہ ہے کہ خیر سے مغربی استعماری دور کے خاتمے کے بعد بعض ممالک میں بادشاہتیں قائم ہوئیں جیسے خلیجی ممالک جہاں آج تک بادشاہ سلامت کا راج ہے ۔ جبکہ بعض اسلامی ممالک میں جب بادشاہوں کے خلاف انقلاب بر پا ہوا جیسے عراق اور لیبیا اور مصر وغیر ہ ، تو وہاں انقلاب اور عوامی حکومت کے نام پر ایسی آمریتیں قائم ہوئیں کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے اُن سے نجات کی دعائیں مانگیں ۔ مصر کے جمال ناصر ، انورالسادات اور حسنی مبارک ، عراق کے صدام حسین اور لیبیا کے قذافی کے ادوار میں اپوزیشن کی جماعتوں اور مخالفین کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔ مصر میں جمال ناصر نے انقلاب کے نام پر اخوان المسلمون کی جن نابغہ علمی شخصیات ( سید قطب ، عبدالقادر عود ہ وغیرہ ) کو پھانسی پر چڑھا یا وہ پوری امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ اس وقت عبدالفتاح سیسی آمر سعودی عرب کے تعاون سے اخوانیوں پر مظالم کے جو پہاڑ توڑ چکا ہے اور توڑ رہا ہے ، اُس کا بہت کم لوگوںکو علم ہے ۔ قطر کے ساتھ ان چار عرب ملکوں کی مخاصمت کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اخوانیوں پر مظالم کا مخالف ہے ۔ لیکن ان سارے ممالک میں جہاں سخت آمریت تھی ، بہرحال ایک بات مسلمہ تھی کہ عراق اور لیبیاجیسے ملکوں میں عوام کو روٹی کپڑا مکان اور تعلیم و صحت اور ملک میں امن و امان کی صورت حال مثالی تھی ۔ یہ ممالک ہر لحاظ سے اقتصادی و معاشی خوشحالی کے سبب ہنستے مسکراتے اور خوشحال تھے ۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں مزدوری کرنے آتے تھے ۔ خونخوار استعماری طاقتوں نے جب تک ممکن تھا ، اپنی تجارت ، ٹیکنالوجی ، مین پاور کے ذریعے دونوں ہاتھوں سے کمایا ، لیکن پھر ایک وقت آیا کہ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں پر ایسی حکومتیں ہونی چاہئیں جو اُن کے اشاروں پر چلیں اور ملکی اقتصادیات پر اُن کا بھر پور قبضہ ہو ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ان عالمی استعماری طاقتوں کے طاقتور میڈیا اور انٹیلی جنس اداروں نے ان حکمرانوں اور عوام کے درمیان اختلافات اور بد اعتمادی کی ایسی فضا پیدا کی کہ وہ ایک دوسرے کو برباد کرنے پر تل گئے۔ ان ممالک میں ابتداء بالکل اس طرح ہوئی تھی کہ عوام میں ایسے گروپ اور جماعتیں پیدا کر دی گئیں کہ وہ حکمران طبقات پر کیچڑ اچھالتے تھے ۔ بیان بازیاں ہوتی تھیں ، کردار کشی ہوتی تھی ۔ ۔۔اور یوں بات بڑھتے بڑھتے خانہ جنگی میں بدل گئی اور استعماری طاقتوں نے حکومت مخالف گروپوں کو ہر لحاظ سے (مالی ، عسکری ، فنی ، انٹیلی جنس وغیرہ ) سپورٹ فراہم کی ۔ اور پھر ان خوشحال ملکوں کی تجارت اور معاشیات تباہ و برباد ہو کر لوٹ کھسوٹ میں بدل گئیں ۔ ہر طرف سفاکانہ موت کا رقص شروع ہو ا جو آج تک جاری ہے ۔ کم و بیش یہی صورتحال شام ، سوڈان ، (جو شمالی و جنوبی سوڈان میں تقسیم ہوا ) تیونس ، صومالیہ ، اریٹریا ، مالی وغیرہ سخت انتشار ، خانہ جنگیوں اور معاشی بر بادی کے شکار ہیں ، مسئلہ فلسطین اور کشمیر کی طرف اس وقت اپنے اندر ونی خلفشار کے باعث کسی کی نگاہ ہی نہیں اُٹھتی ۔ اس لئے اسرائیل اور بھارت وہاں کی نہتی اور مظلوم آبادیوں پر انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ افغانستان ، عراق ، شام ، لیبیا ، فلسطین اور کشمیر میں گزشتہ دو عشروں سے جو انسانیت سوز مظالم جاری ہیں اس کا احاطہ تو کالم میں ممکن ہی نہیں یہ تو مئورخ کی توجہ کی طلبگار ہیں ۔ ان ممالک میں خانہ جنگیوں کی بربادیوں کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہاں کے لوگ برملا کہہ رہے ہیں کہ ظاہر شاہ ،صدام حسین ، قذافی اور بشارالاسد وغیرہ موجود ہ خلفشار اور خانہ جنگی سے بہتر تھے ۔ سعودی عرب و امارات کو ٹرمپ نے پہلے ایران کے خلاف اور اب قطر کے خلاف جس طرح بھڑا دیا ہے ، وہ بہت بڑے خلیجی طوفان کا پیش خیمہ ہوگا اگر سنبھالا نہ گیا ۔ ایران کے ساتھ پہلے اوباما کے ذریعے معاہد ہ کر ایا گیا اور سعودی عرب کو ڈرا یا گیا اور اب دوبارہ پابندیاں لگوادی گئیں ۔ ان سارے حالات میں تکلیف وخسارہ عام آدمی یعنی عوام اوربالخصوص خواتین اور معصوم بچوں کو اُٹھانا پڑتا ہے اور وہ ناقابل بیان ہے ، اس وقت پورا عالم ا سلام جن حالات سے دو چار ہے ان میں پاکستان فی الحال دہشت گردی کی بربادیوں کے باوجود مقابلتاً بہتر صورت میں ہے ۔ یہاں کھانے پینے کی اشیاء بہر حال وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ پاک افواج اور عدلیہ موجودہیں کسی نہ کسی حالت و درجہ میں جمہوری نظام موجود ہے ۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اداروں کو اتحادو اتفاق ، محبت و رواداری اور عفوو ودرگزر کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے ۔

متعلقہ خبریں