Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

سرپر لکڑیوں کا گٹھار کھے بستی میں سے چلے آرہے تھے سارا عرب جانتا تھا یہ وہ بزرگ تھے جن کے پاس چارسو غلام تھے ۔ روپے پیسے کی ریل پیل تھی خوب پھیلا ہوا کاروبار تھا ۔ اُنہیں سامان ڈھونے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی ۔ اسلام نے جہاں ہمیں اور بہت سی باتیں سکھلائیں وہاں یہ بھی بتایا کہ محنت کی عظمت کیا ہوتی ہے ! یہ نہیں کہ صرف یہ اصول بتا دیا گیا بلکہ اللہ کے نبیۖ اور صحابہ نے اس پر عمل کر کے دکھلا یا ۔ آج بھی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ بڑے آدمی کوچھوٹے چھوٹے کام نہیں کرنے چاہئیں ۔ اللہ کے رسولۖ نے ہمیں سبق دیا کہ یہ بیکار بات ہے ، اپنا یا دوسروں کا چھوٹے سے چھوٹا کام کرنا آدمی کے مرتبے کو گراتا نہیں بڑھاتا ہے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیںکہ سرور کونین ۖ گھر میں ہوتے اور ملازمین کو آٹا گوندھتے دیکھتے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے اور آٹا گوندھتے ، بکریوں کا دودھ دوہتے گھر میں جھاڑو لگاتے ۔ اپنے کپڑے سی لیتے جوتے ٹانک لیتے ۔ اپنا ہی نہیں دوسروں کا سودا سلف بھی لے آتے ۔ حتیٰ کہ گھر کی چھت ڈال لیتے ۔ حضرت ابوبکر کپڑے کی تجارت کرتے تھے ۔ کندھے پر تھان ڈالے بازار میں جاتے اور فروخت کرتے ۔ آپ خلیفہ بن گئے تب بھی یہی کام کرتے رہے ۔ خلیفہ بن کر بھی آپ محلے کے بعض گھرانوں میں جاتے ان کی بکریوں کا دودھ نکلالتے اوران کا سامان بازار سے لا د یا کرتے تھے ۔ حضرت عمر خلیفہ بنے تو دنیا نے کئی بار نظارہ دیکھا کہ وہ بیت المال کے گودام سے آٹے کے بورے پیٹھ پر لاد کرلے جاتے اور لوگوں میں تقسیم کرتے ۔ حضر ت علی کنویں سے پانی نکالتے بازار میں سامان ڈھوتے محنت میں کبھی کوئی عار محسوس نہ کرتے ۔ اللہ کے ان جلیل القدر بندوں نے ہمیں بتایا کہ بڑائی چھوٹائی کام کی وجہ سے نہیں آدمی کے اخلاق اور کردار کی وجہ سے ہوتی ہے محنت میں تو عظمت ہی عظمت ہے ۔ کوئی پیغمبر ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ۔ حضور اکرم ۖ بھی یہ کام کرتے رہے ۔ کشف المحجوب میں ہے ، سر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر گزرنے والے اپنے کھجوروں کے باغ سے نکل کرا پنے گھر جارہے تھے ۔ یہ اُس وقت دنیا کی سب سے بڑی مملکت کے حاکم بھی تھے اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ امیر آدمی بھی تھے ۔ لوگوں نے اس حال میں انہیں دیکھا تو سلام کیا اور بولے امیرالمومنین ! آپ کیوں وزن ڈھو رہے ہیں ؟ امیر المو منین حضرت عثمان نے جواب دیا دوستوں ! میں اپنے نفس کو آزما رہا ہوں ۔دیکھ رہا ہوں کہ لوگوں کے سامنے اپنا کام کرنے سے مجھے جھجک تو محسوس نہیں ہوتی ۔ حضرت عثمان کا اپنے نفس کو آزمانا مسلمانوں کو ایک بار پھر یہ سبق یاد دلانا مقصود تھا کہ اللہ کے رسولۖ اپنا ہر کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے ۔ اسلام نے قیادت کا بڑا کھر ا معیار رکھا ہے ، رہبر اور رہنما جب تک خود نمونہ بن کر نہ دکھلائیں معاشرہ سدھر نہیں سکتا ۔ صاحبان اقتدار کے لئے یہ پابندیاں اور بھی زیادہ ہیں ۔ (روشنی)

اداریہ