Daily Mashriq

بہتر سالوں کا حساب اور احتساب ہونا چاہئے

بہتر سالوں کا حساب اور احتساب ہونا چاہئے

گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی آزادی کا پہلا دن ہم نے اس عزم کے اعادے کیساتھ منایا کہ پاکستان کو بابائے قوم محمد علی جناح کے تصورات کے مطابق ایک حقیقی اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے۔ تحریک آزادی اور قیام پاکستان سے لیکر اب تک کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہماری قوم کا مزاج بنیادی طور پر جمہوری اور پارلیمانی ہے جس پر وہ بارہا اپنے اعتماد کا اظہار کرچکی ہے۔ یہ تاریخ کا جبر ہے کہ مزاج سے مطابقت رکھنے والا نظام پورے طور پر برگ و بار نہ لاسکا ۔ضروری ہے کہ قوم گروہی اور طبقاتی مفادات سے بالاترہو کر اپنے درمیان وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرے، جمہوری روئیے میں بلوغت اور پختگی جبکہ قومی ترقی اور استحکام کی ہمواری کا راستہ یہی ہے۔ اس وقت ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ غیر جذباتی طریقے سے ان مسائل کا جائزہ لیکر ملک میں اعتدال اور معقولیت کو فروغ دیا جائے۔ آزادی کے بہترسالوں کی تکمیل پر اگر جائزہ لیا جائے تو ہم مکمل خارجہ پالیسی کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ ہم اندرونی طورپر خارجہ پالیسی کی تشکیل میں کشمکش کا شکار ہیں اور ہماری ترجیحات بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر ہم نے ملک کو دنیا کے ممالک کی صفوں میں نمایاں مقام پر کھڑا کرنا ہے اور ملک کو ایک آزاد و خود مختار ملک ثابت کرنا ہے تو خارجہ پالیسی پارلیمنٹ کی رہنمائی اور قومی امنگوں کے مطابق بنانی ہوگی۔ صرف خارجہ پالیسی کی تشکیل ہی مسئلہ نہیں وطن عزیز میں ابھی جمہوریت بھی استحکام کی منزل نہیں پاسکی۔ آمرانہ قوتوں کو کسی نہ کسی طرح بالا دستی حاصل رہتی ہے اور اس چارہ دستی کا استعمال کرکے ملک میں جمہوری حکومتوں کو مستحکم ہونے نہیں دیا جاتا۔ آج بھی وطن عزیز میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے بلکہ وطن عزیز میں باہمی کشمکش کسی نہ کسی صورت جاری رہتی ہے جس کا بالآخر اثر نظام کے عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ آج دیکھا جائے تو اس وقت بھی ملک میں وہ صورتحال نہیں جوبہترسال بعد گزار کر ایک سنجیدہ اور متین قوم کا ہونا چاہئے، اس وقت بھی معاملات میں بگاڑ پکار کر اصلاح احوال کی ضرورت اجاگر کر رہا ہے۔ہم قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر کے مطابق پاکستان کے خواہاں تو ہیں مگر ان کے خوابوں اور خیالات کے مطابق پاکستان کی تشکیل پر آمادہ نہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح ایک فلاحی اسلامی ریاست کے خواہاں تھے۔ کیا آج پاکستان کو ایک عملی طور پر فلاحی اسلامی ریاست قرار دیاجاسکتاہے اس سوال کا ٹھنڈے دماغ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیا قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات کو ہم اس کی روح کے مطابق حقیقی انداز میں پیش کرکے ا س پر عملدرآمد کی سعی کرتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیامِ پاکستان کیلئے کی جانے والی جدوجہد میں اس دور کی نوجوان نسل نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور بانی پاکستان کے پاس اس نومولود ریاست کے مستقبل میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے بھی ایک وژن تھا۔اس وژن کا اظہار ان کی تقاریر اور خطبات کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل اور قیام کے بعد بھی جناح نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ملک کا مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے۔بابائے قوم چاہتے تھے کہ پاکستان کا نوجوان ترقی کے سفر کو آگے لیکر چلے جس کا اظہار انہوں نے پاکستان کے طلبا کیساتھ وزارتِ تعلیم کے ذریعے بھجوائے گئے ایک پیغام میں کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ کیا آپ مستقبل کی ذمہ داریاں نبھانے کی تیاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور کیا آپ کے پاس تربیت ہے؟ اگر نہیں، تو جائیں اور تیاری کریں کیونکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کیلئے تیاری کرنے کا وقت یہی ہے۔بابائے قوم پاکستان کے حوالے سے اپنے وژن کا نفاذ شاید نہیں کر پائے اور نہ ہی ان کے بعد نوجوانوں کے حوالے سے ان کے وژن پر کبھی صحیح طرح سے عمل درآمد ہو پایا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان دنیا میں تنہا کھڑا ہے۔ بہر حال روشن پہلو یہ ہے کہ 72برس بعد آج پاکستان کی نئی نسل میں ایسے افراد موجود ہیں جو نہ صرف دنیا میں اپنے ملک کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر سے مایوسی کا شکار نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر رائج طور طریقوں کو استعمال کر کے اپنی اور ملک کی ترقی کے نئے راستے کامیابی کیساتھ تلاش کر رہے ہیں۔حالات سے کبھی کبھار مایوس ہونا فطری امر ہے لیکن من حیث المجموع ہم ایک ایسی قوم ضرور بن چکے ہیں جو تیز آندھی اور ہر قسم کے طوفانوں کامقابلہ کرنے کے باوجود چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کامیابی نے ہمارے حوصلوں کو پوری دنیا میں منوا دیا ہے اور قوم کو جو اعتماد ملا ہے اگر ہم باہم اختلافات ختم کرکے ایک سمت سفر کا آج بھی آغاز کریں تو ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ ممکن ہے۔ بہترویں سال کو اگر ہم قومی خود احتسابی کا سال قرار دیں اور افراد سے لیکر اداروں تک سبھی کا احتساب کیا جائے اور ہر ایک اپنی پٹڑی پر سیدھی سمت سفر کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی خرابیوں اور خامیوں پر قابو نہ پا سکیں اور ترقی کی راہ پر تسلی بخش طور پر گامزن نہ ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں