Daily Mashriq

انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا مسئلہ

انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا مسئلہ

وطن عزیز میں ایک عام تاثر یہ بن گیا ہے کہ عوامی اور حکومتی مقدمات برسوں عدالتوں میں پڑے رہتے ہیں اور وقت گزرتا رہتا ہے۔ عدالتیں ثبوت اور شواہد پر فیصلہ کرتی ہیں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ عدالتوں سے شواہد اور دستاویزات بھی غائب ہوجاتی ہیں۔ جب تک ملک میں اس طرح کی صورتحال رہے گی اس وقت تک ملک میں شفافیت اور کرپشن سے پاک پاکستان کی ساری مساعی رائیگاں ہی ٹھہریں گی۔ وطن عزیز میں ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ سزا دلوانے والی اگر ایک قوت متحرک ہو جائے تو مقدمہ کچھ اور، سزا کچھ اور لیکن سزا ہر حالت میں ہوتی ہے۔ کیا معروضی صورتحال ایک مذاق سے کم دکھائی دیتی ہے جہاں اولاً کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن کے مقدمات بڑے زور و شور سے قائم کردئیے جاتے ہیں۔ ان کا خوب چرچا کیا جاتا ہے اور انجام کار چھوٹنے کی صورت سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نظام میں وہ کیا خرابی ہے اور عدلیہ میں وہ کیا کمزوری ہے جس کا کھوج لگا کر اسے دور کیا جائے۔ ہمارے تئیں سیاسی بنیادوں پر مقدمات کا قیام سیاسی اور اقتدار کی مصلحتوں کے مطابق ان کو چلانے اور اسی کے تحت ان کے تمت بالخیر ہونے کی جو کیفیت ہے اس سے ملک میں قانون اور احتساب مذاق بن کر رہ گئے ہیں اور عوام کا عدالتوں اور اداروں پر سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ اگر صورتحال یہی رہی تو عوام بہت جلد ان تکلفات پر قومی خزانے کے ضیاع سے پرہیز کا مشورہ دینے پر مجبور ہوں گے۔ وطن عزیز میں احتساب اور انصاف کا نعرہ تو بہت لگتا ہے مگر عملی طور پر اس حوالے سے مایوسی کوئی انکشاف نہیں بلکہ نوشتہ دیوار ہے۔ یہاں پر اعتراضات اور تنقید اس وقت ہوتی ہے جب اپنے اوپر بن آئے اگر ایسا نہیں تو راوی اداروں سے لیکر حکمرانوں تک اور افراد تک چین ہی چین لکھتا ہے۔ جب تک ہم اس روئیے کو نہیں بدلتے سوالات اور انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔ مگر پرنالہ وہیں کا وہیں گرے گا۔ گوکہ اس وقت یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وطن عزیز میں طاقتور کا احتساب پہلی مرتبہ شروع ہوا، اولاً یہ سوچ ابھی پختہ نہیں ہوئی اور نہ ہی حالات وواقعات نے اسے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ واقعی ایسا ہوا ہے یا ہونے جا رہا ہے۔ طاقتور کا احتساب صرف اس کے طاقتور ہونے کی بناء پر ہی نہیں بلکہ طاقتور دولت کے بل بوتے پر ایسے وکلاء کی ٹیم سے اپنا دفاع کرواتا ہے کہ عدالت میں اس پر مقدمہ ثابت کرنا نہایت مشکل بن جاتا ہے۔ غرض طرح طرح کے حربوں سے طاقتور تقریباً انصاف خرید لیتا ہے۔ عدالت کو شواہد اور دستاویزات کے مطابق ہی فیصلہ دینا ہوتا ہے۔ معزز عدالت کے سامنے جو دستاویزات وشواہد اور ریکارڈ پیش ہو فیصلہ ان کی روشنی میں ہی آتا ہے۔ اندریں حالات وواقعات اور مشکلات میں بہتری کی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔ اطمینان کے اظہار کیلئے وقت درکار ہے جس کی طرف پیشرفت جاری ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وہ وقت بہت جلد آئے گا جب انصاف سستا بھی ہوگا، بروقت بھی، آسان بھی اور آسانی سے ملے گا بھی۔

سپورٹس گرائونڈز کے ادھورے منصوبے

تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت نے نوجوانوں کے کھیلوں کی سہولتوں کو ترجیح قرار دیکر جن اقدامات کا اعلان کیا تھا وہ ان کے دوسرے دور حکومت میں بھی پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے ہر ضلع اور بڑے قصبے میں کھیلوں کے میدان اور کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کے جو وعدے کئے تھے وہ ہنوز پوری نہیں ہوسکیں اور نہ ہی صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوئی مثال قائم کی گئی۔ کھیلوں کے جن میدانوں کے منصوبہ جات ادھورے پڑے ہیں ان سے قطع نظر کھیلوں کے جو میدان پایۂ تکمیل تک پہنچائے جا چکے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان میدانوں میں نوجوانوں کو کھیلوں کے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں۔ ان کی ٹریننگ کا معقول انتظام ہونا چاہئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان میدانوں کو اُجڑنے سے روکنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی ہونی چاہئے کیونکہ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ کھیلوں کے جو میدان بنائے جاتے ہیں اولاً ان کی دیواریں گرنے لگتی ہیں، جنگلے اکھاڑے جاتے ہیں' کھیلوں کے میدان چراگاہ بننے لگتے ہیں اور دھیرے دھیرے اجڑے دیار کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں جہاں کھلاڑیوں کی جگہ سماج دشمن عناصر اور نشے کے عادی افراد نے ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتوں اور اس صحت مند رجحان کے فروغ کیلئے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی خواہش اور وژن کے مطابق کام جاری رہے گا اور صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے نمایاں اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں