Daily Mashriq

اے وطن پیارے وطن

اے وطن پیارے وطن

آج چودہ اگست ہے، آزادی کا دن۔ یہ ملک خداداد اب 72برسوں کا ہوگیا ہے۔ قوموں کی تاریخ میں ستر بہتر برس بہت کم ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بَہتر برس لمبا سفر ہے۔ ان بیتے برسوںکے بطن میں ہزاروں کہانیاں چھپی ہیں اور ہر کہانی کا اپنا پس منظر ہے۔ ہر لحظہ اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے کے اندیشے ظاہر کئے جاتے رہے۔ ہزاروں دشمنیوں کی زد میں رہا یہ وطن لیکن اس ملک میں اپنی بقاء قائم رکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود تھی سو وجود قائم رکھ پایا۔ یہ صلاحیت اس کے عوام کی سخت جانی کے باعث ممکن ہوسکی ہے۔ یہ ملک کہ جسے قدرت نے اپنی اپنی فیاضیوں سے مالامال رکھا ہے۔ چاروں موسموں کا مالک یہ ملک کہ جس کے پاس زرخیر زمینیں ہیں مگر پھر بھی اس میں بھوک اُگتی ہے تو یہ بدقستی نہیں جہالت ہے کہ ہم قدرت کے دئیے ہوئے ان چار موسموں اور بہتے پانیوں کی قدر نہیںکرپائے، ورنہ ان چار موسموں اور ان پانیوں سے اناج کیا سونا بھی اگایا جاسکتا ہے۔ خودکفیلی میں اجناس درآمدکئے جائیں۔ ظاہر ہے یہ سسٹم کا فیل ہونا ہے۔ میرا دہقان تو کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتا نہ صبح نہ شام بس اپنے کھیت کو سینچتا رہتا ہے۔ وہ ایسا نہ کرے تو اپنا اور اپنے ایال کا پیٹ نہیں پال سکتا۔ اس کی مجبوری ہے کہ وہ محنت کرے، ہماری زمین قدرت کے چھپے خزانوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک تیل کی دولت عربوں کو ملی تو وہ صحرانشین دنیا کی مالدار قوم بن گئے کہ پوری دنیا کے مزدور وانجینئر اس دھرتی کو بنانے سنوارنے وہاں پہنچ گئی اور وہاں کے صحراؤ ں کی صورتیں ہی بدل گئیں اور وہاں کے لوگوں کی قسمتیں بھی۔ ہمارے تیل، گیس، قیمتی پتھر ومعدنیات کے ذخیرے اب بھی ہمارے انتظار میں ہیں کہ کب کون آئے اور انہیں نکالے۔ ہماری افرادی قوت دنیا جہاں میں اپنے حالات کو سدھارنے کیلئے محنت مزدوری کرنے کیلئے ہجرت کرکے جاتی ہے۔ یہی افرادی قوت ملائیشیا نے استعمال کی تو وہ ایشین ٹائیگر بن گیا۔ جاپان نے اپنے کارخانوں کو چلانے کیلئے اپنی مہنگی لیبر کو ملائیشیا کی سستی لیبر دیدی اور بہت بڑی انڈسٹری ملائیشیا پہنچ گئی۔ ملائیشیا کے عوام کو روزگار ملا۔ حکومت کو ٹیکس ملا، زرمبادلہ ملا، کارخانوں کو چلانے کا ہنر سیکھ لیا اور پھر حالات تبدیل ہوگئے۔ چائنہ کی کمزوری اس کی آبادی تھی لیکن اس نے اپنی اس بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیساتھ ساتھ اس کو ایک نظام عطا کیا کہ ہر فرد اپنے حصہ کا کام کرنے پر مجبور ہے۔ سسٹم کی پیچیدگیا ختم کردیں اور اتنی پروڈکشن کی کہ اب دنیا اس کی محتاج ہے۔ جاپان نے جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دینے کی پاداش میں دو ایٹم بموں کے حملوں میں اپنے دو شہر ہیروشیما ناگاساکی کو تباہ کرواڈالا۔جنگ کے خاتمے کے بعد اس پر پابندیاں لگیں لیکن اس نے پھر بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جاپان معیار کا نام بن گیا۔ آج بھی ہمیں کسی چیز کے جاپانی ہونے کا یقین ہوجائے تو ہم اسے خریدنے میں دیر نہیں کرتے۔ بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ جہاں اقوام عالم نے کیسے اپنے حالات کو بدلا لیکن ان حالات کو بدلنے کی خواہش کو دل میں جنم دینا بہت ضروری ہے۔ ہمیں تو مصیبت یہ ہے کہ ایسی غیر ضروری چیزوں میں اُلجھائے رکھا گیا ہے کہ ہم نے ترقی کے خواب دیکھنے ہی چھوڑ رکھے ہیں۔ حکمرانوں نے کبھی قوم کو اعتماد میں ہی نہیں لیا جبکہ قوم نے حکمرانوں کے فیصلوں کے اتنے زخم اُٹھائے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی۔ اتنے برس تک کسی دوسری قوم کو بجلی کیلئے اس طرح ترسایا گیا ہوتا تو اس حکم نے حکمرانوں کو سمندر میں پھینک دیا ہوتا اور ہمیں آنیوالے کل کے لالی پاپ سے تسلیاں دیدی جاتی ہیں اور ہم بھی بہل جاتے ہیں۔ رات اور دن کے کسی بھی وقت بجلی چلی جائے ہم اس پر صبر کرلیتے ہیں۔ دنیا کے کسی حکمران کو اتنی صابر اور شاکر قوم نہیں ملی ہوگی لیکن اسی صابر وشاکر قوم کے حالات بدلنے کی کسی نے کوئی کوشش نہیں کی۔ ہماری قوم کی سادگی کاہمیشہ استحصال کیا گیا ہے۔ ان کے ووٹ کو مدنظر رکھا ہے ان کے مسائل اور ترقی کو کسی نے خاطر میں نہیں لایا۔ ہماری جمہوریت بنیادی طور پر جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے کہ جس جمہوریت میں عوام کو مزارعے اور کمی کمین ہی سمجھا جاتا ہے ایسی صورت میں عوام بھی دل سے خو دکو طاقت کا سرچشمہ نہیں سمجھ پاتی اور ادارے اور حکمران مل کر ان کے خون کو جونکوں کی طرح چوستے ہیں۔ قوم کیساتھ سب سے بڑی بے انصافی قوم کو صحیح تعلیم نہ دیکر کی گئی ہے۔ اس قوم کو جان بوجھ کر ناخواندہ رکھا گیا ہے کہ کہیں اپنا حق نہ مانگ بیٹھے کہ خواندہ تو اپنی فرائض اور اپنے حقوق دونوں سے واقف ہوتا ہے۔ یہاں دانش کا قتل کیا گیا ہے، لوگوں کی سوچوں تک پر پہرے لگادئیے گئے ہیں جو روشنی کی بات کرے وہی مطعون ٹھہرتا ہے۔ مگر اب حالات کو بدلنا ہے، میڈیابہت کچھ دکھا رہا ہے، انٹر نیٹ کے سوشل میڈیا پر بہت سی سچائیاں کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ شعور پھیل رہا ہے، اب ٹھگی کرنا مشکل ہوگیا ہے، اب جھوٹ بولنے کیلئے مزید فنکاریاں درکار ہیں۔ اب حالات کو ہر حال میں بدلنا ہے۔ ہم تو دعائیں کرنے والے لوگ ہیں۔ آج پھر احمد ندیم قاسمی کی اس نظمیہ دعا کو آپ کیساتھ شیئر کرتے ہیں۔

خدا کرے کہ میری ارض ِ پاک پر اُترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبزرہے

اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں

کہ پتھروں سے بھی روئیدگی محال نہ ہو

خداکرے نہ خم ہو سروقار وطن

کہ اس کے حسن کو تشویش ماہ وسال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب وفن کا اوجِ کمال

کوئی ملول نہ ہوکوئی خستہ حال نہ ہو

خداکرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کیلئے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

متعلقہ خبریں