Daily Mashriq

جشن آزادی بطور یکجہتی کشمیر

جشن آزادی بطور یکجہتی کشمیر

ہماری آزادی کو بہتر برس ہوچکے ہیں اور اس کیساتھ ساتھ کشمیر کے آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے بھی سات دہائیوں سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ دن خوشیاں بانٹنے کا، مسکراہٹیں بکھیرنے کا، اپنے پرائے کو گلے لگانے کا، پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کا، خوشبوئیں سمیٹنے کا دن ہے۔ بچے، بوڑھوں، نوجوانوں، خواتین وحضرات نے آج اپنے پیارے گھر، سکول، گلی، محلے کو چھوٹی بڑی سبز پرچمی جھنڈیوں سے سجایا ہوا ہے، آج آزادی کا دن ہے، جشن منانے کا دن ہے، آزادی کسی کسی کی قسمت میں ہوتی ہے، آج اتنی خوشی کا دن ہے کہ اگر پوری ایک سو عیدیں بھی جع کردی جائیں تو بھی اس دن کی خوشی کم نہ ہوگی، پاکستان آج پورے بہتر سال کا ہوگیا، ان بہتر سالوں میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا اس کا حساب بھی کرلیتے ہیں، آزادی جن نامساعد حالات میں ملی وہ دکھ برے مناظر یاد تو تب آئیں کہ جب ہم انہیں بھول پائیں، وہ زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے۔ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے بھی نہ پائے تھے کہ ہمارے دو ٹکڑے کر دیئے گئے اور پھر گزشتہ دنوں کشمیر پر شب خون مارا گیا اور 370اور35اے کو ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کشمیریوں کو پوچھا تک نہیں گیا۔ پاکستان کے عوامی نمائندوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد منظور کی اور حکومت نے اس دفعہ یوم آزادی کو کشمیر سے یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ خیبر سے لیکر کراچی تک کا ہر شہری آزادی کی خوشی میں مصروف ہے۔ بچے، بڑے، بزرگ، خواتین، مزدور کسان، وکیل، سیاسی کارکن، صحافی، ڈاکٹر غرض کہ ہر پیشہ سے تعلق رکھنے والا ہر پاکستانی خوش وخرم ہے اور اپنی خوشی کا دل کھول کر اظہار بھی کر رہا ہے، اس موقع پر جہاں ہم آزادی کا جشن منا رہے ہیں وہاں اپنے پیارے وطن کے بانی بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کو بھی بھرپور خراج عقیدت پیش کررہے ہیں کہ جنہوں نے ہمارے اوپر یہ احسان عظیم کیا۔ ان کے مشن ایمان، اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنے کیلئے ہر پاکستانی کوشاں ہے، ایک قومی سوچ کو اُجاگر کیا جا رہا ہے۔ سات دھائیاں کسی قوم کی ترقی کیلئے کچھ کم نہیں، ہماری قوم نے بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کا استعمال کرکے ہر شعبہ میں ترقی کیلئے بھرپور کوشش کی اور ان میں سے اکثر میں کامیاب بھی ہوئی، ہم نے کسم پرسی کے حالات میں صفر سے شروع کیا تھا مگر آج پاکستان دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں بڑے فخر اور پورے وقار کیساتھ کھڑا ہے، ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں، زراعت کیلئے وسیع زرخیز زمیں ہے، پرعزم افرادی قوت موجود ہے، دریا پہاڑ، معدنیات سے بھرے پڑے ہیں، گہرا سمندر، وسیع پورٹ اور بہت کچھ۔ ایک زرعی ملک ہونے کی وجہ سے زراعت کے میدان میں لازوال ترقی کی، پاکستان کا چاول اور کپاس دنیا بھر میں مشہور ہے اور اعلیٰ کوالٹی ہونے کی وجہ سے اچھی خاصی مقدار میں ایکسپورٹ کئے جاتے ہیں۔ ہمارے پیارے ہم وطنوں نے صنعتوں کے میدان میں بھی اچھی خاصی ڈویلپمنٹ کی ہے، ملک بھر میں صنعتوں کا جال بچھایا گیا ہے، وسط ایشیا کی ریاستوں کو گرم پانیوں تک رسائی کیلئے بین الاقوامی سطح کی سی پیک پروجیکٹ پر کام ہورہا ہے۔ یہ بظاہر سڑک موٹروے تعمیر کی جارہی ہے اور پھر اس کیساتھ ساتھ انڈسٹریل سٹی بنائی جائے گی۔ گوادر کی بندرگاہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ گوادر پروجیکٹ کی تکمیل سے جہاں پاکستان کے غربت زدہ اور پسماندہ صوبہ بلوچستان میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا وہاں چین سمیت وسط ایشیائی ریاستیں اور خود پاکستان بھی اس بندرگاہ سے بھرپور فائدہ اُٹھائے گا۔ پاکستان بنتے وقت بھی نوجوانوں نے لازوال کردار ادا کیا، قائداعظم کو بھی ان سے بڑی اُمیدیں تھیں اور آج بھی ہماری نظریں ان نوجوانوں پر ہی ہیں کہ جو اس وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کیلئے اعلیٰ تعلیم اور ہنر حاصل کر کے وطن عزیز کی بے لوث خدمت کریں تاکہ اس عظیم قائد کا عظیم خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔ایٹمی طاقت پاکستان کا بچہ بچہ جہاں پاکستان کی آزادی کا جشن منارہا ہے، وہاں کشمیر پر ہونے والے ظلم کیخلاف آواز بھی اُٹھا رہا ہے۔ اس وقت پوری قوم متحد ہے' حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ ہماری فوج نے دشمن کے ہر ہر غلط قدم پر اس کو سبق سکھایا، چونڈہ کا محاذ ہو یا دنیا کا بلند ترین میدان جنگ کارگل، سیاچن گلیشئر، ہمارے فوجی جوان دشمن کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی۔ ان سات دہائیوں میں ہم نے کئی چیلنجوں کا اﷲکے فضل سے بڑی خوش اسلوبی سے سامنا کیا، پاکستان نے چند سال پہلے ہی ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے، ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول کسی عیاشی کیلئے نہیں تھا بلکہ ہمیں اپنی بقا کا مسئلہ درپیش تھا، کیونکہ ہمارا دشمن بھارت ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ایٹمی دھماکے کر کے بڑا اترا کے چل رہا تھا لہٰذہ طاقت کے توازن کیلئے پاکستان کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول اور ایٹمی دھماکے کرنے ضروری تھے۔ کشمیر کیلئے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں سیکورٹی کونسل کے چیئرمین کو اطلاع دی جاچکی ہے، اقوام متحدہ کو نوٹس مل چکا ہے، ہمارے حکومتی اہلکار اپنے دوست ملکوں کو مدد کیلئے پکار رہے ہیں اور او آئی سی نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری بھی نہ سمجھا جائے اور اگر جنگ ہوئی تو ایٹم بم چلانے کا اس سے اچھا موقع شاید کوئی اور ہو۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اس پر کسی قسم کا غاصبانہ قبضہ قبول نہیںکریں گے۔

متعلقہ خبریں