Daily Mashriq

تکنیکی تعلیم' خوش لباسی' غریب اور اساتذہ

تکنیکی تعلیم' خوش لباسی' غریب اور اساتذہ

سے پیغامات میں قارئین موضوع تجویز کرتے ہیں، ان سے عرض ہے کہ اس کالم میں دئیے گئے نمبر پر صرف شکایات اور مسائل ہی اس کالم میں شائع کئے جاسکتے ہیں تاکہ اس کی افادیت متاثر نہ ہو۔ اس مرتبہ درجنوں اور گزشتہ ہفتے بھی درجنوں برقی پیغامات موصول ہوئے۔ کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ مسائل شامل کالم کئے جاسکیں۔ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے بی ٹیک کے طالب علم لقمان خان نے وطن عزیز میں ٹیکنیکل ایجوکیشن سے حکومت کی سرد مہری اور ملازمت مواقع نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپان' چین اور بھارت میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بڑی مانگ ہے لیکن پاکستان میں کم ہی ادارے ایسے ہیں جہاں بی ٹیک کی سند رکھنے والوں کو ملازمت ملتی ہے ان کیلئے سرکاری اسامیوں میں کوئی حصہ ہی نہیں۔ سب سے پہلے تو میں اس نوجوان کو حوصلہ دینا چاہتی ہوں اور ان کو ناامید نہ ہونے کا مشورہ دوں گی۔ میرے خیال میں مسئلہ یہ نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے خواہ وہ تکنیکی تعلیم کے ہوں یا فنون لطیفہ' سائنس اور کامرس کے، بنیادی مسئلہ معیار تعلیم اور اس کے بعد طلبہ کی محنت ومہارت کا ہے۔ بی ٹیک ہو یا کوئی اور مضمون دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ طالب علم کو اپنے مضمون میں کس حد تک مہارت حاصل ہے، اس کی قابلیت کتنی ہے۔ بعض طالب علموں کو فوری ملازمت مل جاتی ہے اور بعض کو نہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ملک میں سفارش رشوت' سیاسی دبائو اور اقرباء پروری حصول ملازمت کے عاملین ہیں لیکن مکمل طور پر ایسا بھی نہیں کہ ان عوامل کے بغیر روزگار وملازمت کا حصول ممکن نہیںجن طالب علموں کو اپنے مضمون میں مہارت ہوتی ہے ان کو روزگار مل ہی جاتا ہے۔ بلا شبہ ٹیکنیکل تعلیم اہم ہے اور اس کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہئے اور اس کی تعلیم پانے والوں کو مواقع ملنے چاہئیں۔دیرپائیں سے سیدسبکتگین شاہ نے بہنوں' بیٹیوں یعنی خواتین کی ایک کمزوری کا تذکرہ کیا ہے۔ لباس' جوتے اور ملتے جلتے لوازمات میں خواتین کی فضول خرچی اور اسراف کوئی الزام نہیں حقیقت ہے لیکن قدرت نے یہ سب کچھ خواتین کی فطرت کا حصہ بنایا ہے تو شکایت کیسی ' رہی بات اسراف اور فضول خرچی کی اس کی ہمارے دین' مذہب اور معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔ خواتین میں زرق برق لباس اور فیشن کو کائنات میں رنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ مہنگائی اور اخراجات کے مقابلے میں کم آمدنی کاجو مسئلہ ہے اس نے فیشن تو کجا زندگی کی بنیادی سہولتیں تک چھین لی ہیں۔ ایسے میں بہنوں' بیٹیوں کی فرمائش پوری کرنا مردوں کے بس کی بات نہیں۔ خواتین کو میں یہی کہوں گی کہ وہ دیکھیں کہ جتنی بھی پڑھی لکھی اور سلجھی خواتین ہوں گی وہ سادہ پرنٹ کے عام لباس پہنتی ہوں گی' سادگی میں بھی ایک حسن ہے، اگر گھر کے مرد جان جوکھوں میں ڈال کر دال روٹی کماتے ہیں' بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرتے ہیں' خواتین اگر ان کی مدد نہیں کرسکتیں، ملازمت اور کاروبار نہیں کرسکتیں تو کم از کم ان پر اتنا بوجھ تو نہ ڈالیں جسے وہ برداشت نہ کرسکیں۔ میں نے بہت سے مردوں کو دیکھا ہے جو خود اچھا نہیں پہن سکتے مگر بیوی بچوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔طارق شاہ نے ضلع باجوڑ سے تعلیم نسواں پر توجہ نہ ہونے کا رونا رویا ہے یہ ایسا موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر جن ذہنوں کو بچیوں کی تعلیم قبول نہیں ان کو باور کرانا بہت مشکل ہے۔ بہر حال جوں جوں معاشرے میں تبدیلیاں آتی جائیں گی بچیوں کی تعلیم کی اہمیت کے لوگ قائل ہوتے جائیں گے۔ جو لوگ اس کے قائل ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلاتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب بچے پڑھ لکھ کر اچھی ملازمت حاصل کرتے ہیں، باعزت روزگار کماتے ہیں تو ماں باپ کو خوشی اور آسودگی ملتی ہے۔ کسی اور کیلئے نہیں اپنی خوشی واطمینان کیلئے ہی بچیوں کو پڑھائیں۔ ڈومیل بنوں سے فضل حبیب نے بڑے فلسفیانہ طور پر ہمارے سیاسی لیڈروں کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کا تجزیہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سیاسی لیڈر عوام کیلئے غریب عوام، مسائل کاشکار عوام، عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا وغیرہ قسم کے الفاظ عوام کے غم میں دبلا ہو کر استعمال نہیں کرتے بلکہ عوام ہی کو دھوکہ دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اگر وہ مخلص ہوتے تو عوامی مسائل حل ہو چکے ہوتے اور وہ غریب نہ رہتے۔ بڑی حد تک آپ کے خیالات سے اتفاق ممکن ہے لیکن یہاں بات بنتی نہیں ہے بادہ وساغر کہے بغیر والی ہے۔ عوام کو اگر غریب عوام نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ اس طرح کے الفاظ تو لکھنے والے بھی استعمال کرتے ہیں جس کا مقصد عوام کے مسائل کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے۔ دعا کریں کہ عوام خوشحال ہوں ان کے مسائل حل ہوں اور ان کو غریب عوام کہنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ایک ایسا برقی پیغام ملا ہے جس پر یقین نہ کرنے کو دل کرتا ہے بہر حال پیغام میں کہا گیا ہے کہ بعض اساتذہ انعام اور سکول کی کارکردگی بہتر ثابت کرنے کیلئے بچوں سے نقل کرواتے ہیں اور پرچہ حل کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں ' اساتذہ اپنے سکول کے بچوں کو ملی بھگت سے زیادہ سے زیادہ نمبر بھی دلواتے ہیں۔ انہوں نے سکول میں ایک طالب علم کی جگہ دوسرے کو بٹھا کر انعام لینے کا بھی تذکرہ کیا۔ سب کچھ ہوتا ہے اور سب کچھ ہوتا ہوگا، سب کچھ ممکن ہے یہاں تک کہ بعض اساتذہ اپنے بچوں کو نقل کروانا اپنا حق بھی سمجھتے ہیں ' ہمارے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے جس قسم کی صورتحال بتائی جاتی ہے وہ ناگفتہ بہ ہے ۔اگر یہ کہا جائے کہ خود ہمارے اساتذہ اور خاص طور پر سرکاری سکولوں کے اساتذہ نے تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں