Daily Mashriq

کشمیر بنے گا پاکستان

کشمیر بنے گا پاکستان

آج اگست2019کی14تاریخ ہے۔ کہنے کو تو آج ہم مملکت خداداد پاکستان کی آزادی کا72واں جشن منارہے ہیں لیکن ہماری نظروں میں آزادی کی منزل کو حاصل کرنے کی غرض سے اپنے گھربار اور عزت وناموس کے علاوہ جان تک قربان کر دینے والے ان نہتے کشمیریوں کے بے گورو کفن لاشے ہم سے جو سوالات پوچھ رہے ہیں ان کا کوئی بھی معقول جواب دینے کیلئے ہمارے پاس نہ الفاظ ہیں اور نہ ان حرفوں میں جان باقی رہی ہے جن کے ملاپ سے ایسے الفاظ وجود میں آتے ہیں جو کسی سوال کا جواب بن سکیں۔ ہم جشن آزادی کے نغمے گاتے ہوئے ''جیوے جیوے پاکستان ''کے دعائیہ کلمات دہرا رہے ہیں اور ادھر مقبوضہ کشمیر کے نہتے مظلوم اپنی آزادی کے دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑ اپنے سینوں پر سہتے ''لیکر رہیں گے آزادی اور کشمیر بنے گا پاکستان ''کی دل دوز چیخیں بلند کر رہے ہیں۔ سلگتے چناروں کے دیس کے امین اس روز سے آزادی آزادی کے نعرے بلند کر رہے ہیںجس روز سے کشمیر پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا تھا۔ کشمیر اور کشمیریوں کیساتھ ان کی آزادی کو صلب کرنے کے اس ظلم ناروا کو حق اور انصاف کی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ نے مظلوم کشمیریوں کو حق خود مختاری دینے کی طفل تسلی دی تھی۔ ان کو ان کی مرضی کے مطابق غلامی یاآزادی کو قبول کرنے کے اختیار کا وعدہ کیا تھا لیکن تقسیم ہند کو72سال کا طولانی عرصہ گزر جانے کے باوجود حقوق انسانی کے علمبردار اس وعدے کو وفا نہ کرسکے۔ بھارت کے آئین کے آرٹیکل370کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ تھا لیکن بھارت کی انتہاپسند بھارتی جنتا پارٹی کی مودی سرکار نے بھارتی آئین کا آرٹیکل370 کو بیک جنبش ختم کرکے جموں وکشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیکر اقوام متحدہ کے منہ پر تمانچہ رسید کردیا اور حد تو یہ ہوئی کہ اس نے یہ اقدام اس وقت کیا جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان امریکہ کے دورے پر پہنچے اور انہوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کشمیر کے تنازعہ کی ثالثی کرنے کا وعدہ لیا۔ لگتا ہے کہ کشمیر کے حوالہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے وعدے ہی نے بھارت کی انتہا پسند ہندو پارٹی کے وزیراعظم کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے اور اس نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنا سیاسی ہتھکنڈہ استعمال کرکے ایسا جھرلو پھیرا کہ پاکستان کی 'شہ رگ ' پر خنجر چلا کر اسے کاٹنے کا اعلانیہ ارتکاب کر ڈالا۔ یہی تھے وہ خدشات جس کے پیش نظر مصور پاکستان نے دو قومی نظریات کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ اور آزاد مملکت کے قیام کا تصور پیش کیا تھا۔ انہوں نے ہندوؤں کے باپو مہاتما گاندھی کی طرح یہ بات ہر گز نہیں کی کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہوگا۔ وہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا للہ کے نقیب بن کر برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کرکے اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔72برس بیت گئے ہیں، ہمیں پاک وطن پاکستان کے حوالے سے اپنی پہچان کراتے ہوئے۔ پاکستان ہمارا دل ہے ہماری جان ہے اس کرۂ ارض پر مملکت خداداد پاکستان سے تعلق رکھنے ولا ہر فرد جہاں بھی ہے اور جیسا بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانے پر بجا طور پر فخر اور ناز کرتا ہے۔ ہمارے پرکھوں نے آزادی کی نعمت حاصل کرتے وقت اپنی جان ومال کے جو نذرانے پیش کئے ہم نے ان قربانیوں کا قرض چکانا تھا لیکن شومئی قسمت سے پھولوں کے اس چمن میں بھنوروں کا راج ہم سے ہماری آزادی کی نعمت تو چھین نہ سکا البتہ انہوں نے قومی دولت کو لوٹ کر اس کی معیشت کا سارا رس چوس لیا۔ ہماری آزادی کے دشمن اس ملک سے باہر بھی ہیں اور ملک کے اندر بھی ہیں، ہمیں ناز ہے اس بات پر کہ ہم اپنی آزادی کے دشمنوں کے ہر وار سے72برس تک محفوظ مامون رہے، اس حوالہ سے ہمیں جشن آزادی پاکستان منانے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن گاندھی اور نہرو کے سیکولر بھارت کے جھانسے میں پھنس کر پاکستانی نہ بننے والوں پر کیا گزر رہی ہے جب اس تلخ حقیقت کے بارے میں ہم جانتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کے قبضہ میں نہ آتا اگر بھارت کے شیخ عبداللہ اور ان کے صاحبزادے فاروق عبداللہ سیکولربھارت کے جھانسے میں آکر نہتے کشمیریوں کو بھارت کی جھولی میں نہ ڈال دیتے۔ وہ لوگ جنہوں نے پاکستانی کہلوانے کی بجائے بھارتی اقلیت ہونا قبول کیا۔ ان کا کیا حشر ہورہا ہے اس کے عکس دلخراش کا آئے روز انٹر نیٹ پر وائرل ہونا ہمارے لئے نشان عبرت بن چکا ہے۔ بہت دیر کردی ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کے نعرے لگانے والے کشمیریو ! آج ہم جشن آزادی پاکستان منا تو رہے ہیں لیکن آپ کی دلخراش چیخیں ہمیں عالمی انصاف کے ٹھیکے داروں کے در اور دریچوں پر زور زور سے دستک دینے اور ہمیں ان کے چاک گریباں کو اس امید کیساتھ جھنجھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں

ناؤ کاغذ کی کہیں چلتی نہیں

متعلقہ خبریں