Daily Mashriq

خبر، قلم مزدور اور گھوڑا وگھاس

خبر، قلم مزدور اور گھوڑا وگھاس

ایک خاموش اور بے رونق دن کیسے گزرا، اس بارے زیادہ بہتر وہی بتا سکتے ہیں جنہوں نے تنہائی کی اذیت برسوں جھیلی ہو، سب ہوتے ہوئے بھی عجب سی تنہائی، کتابیں نہ ہوں تو یہ تنہائی کھا جائے، صبح دم سے کتابوں کی پناہ میں ہوں۔ سطور پڑھتا ہوں، اوراق اُلٹتا ہوں، وقفہ وقفہ سے فیس بکی چونچلے جاری ہیں اور ٹویٹر کے بھی۔ قلم مزدور کی اپنی دنیا ہوتی ہے، کاغذ، قلم، کتابیں، حروف جوڑنا پڑھنے والوں کیلئے، اوراق اُلٹنا اپنے لئے تاکہ فہم کو تازہ غذا ملتی رہے، کبھی کبھی بہت دکھی ہوتا ہوں، اولاً جب سوال کا جواب دینے کی بجائے لوگ مسلک کو طعنہ بنا کر پھبتی کستے ہیں۔ فقیر راحموں کہتے ہیں ''سوال سے بدہضمی کا شکار ہوئے بھی تو اپنے عقیدوں کے زہر سے غرارے کرکے فتویٰ پھینکتے ہیں''۔ ثانیاً یہ کبھی آپ کوئی خبر دیں اور دو طرح کی باتیں ہوں۔ اولاً یہ کہ سب جھوٹ ہے۔ثانیاً یہ کہ نامعلوم افراد معلوم نمبروں سے آئیں بائیں شائیں کرنے لگیں۔ پچھلی ساڑھے چار دہائیوں میںاکثر ایسا ہوا۔ جیسا کہ ان دنوں، ساہیوال کے حوالے سے ایک خبر کے بعد ہو رہا ہے۔ قلم مزدور اب بھی اپنی خبر پر قائم ہے۔ سرکار کے ایوانوں میں مقدمہ قائم کرنے کے مشوروں کی اطلاعات ہیں، بسم اللہ۔ سرکار اور تحریک انصاف دونوں ملکر شوق پورا کرلیں۔ تحریر نو یس کے پاس تقاریر سمیت چند ٹھوش شواہد موجود ہیں۔ اُستاد فضل ادیب مرحوم کہا کرتے تھے۔خبر ملے اور اخبار نویس اس کی اشاعت سے رک جائے، ''گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے تو کھائے گا کیا''۔ ساہیوال کے ڈی سی سے ذاتی دشمنی ہے نا رنج، ایک خبر تھی سو بریک کی، اب اس خبر کے ایک کردار جو کسی میڈیسن کمپنی کے ہرکارے ہیں، ات اُٹھائے پھرتے ہیں، ان کے کسی دوست یا ہر کارے نے مجھ سے پوچھا وہ خبر دوسروں نے کیوں نہیں شائع کی؟ عرض کیا، صحافی کے طور پر تعارف کرواتے وقت کسی صحافی سے یہ ضرور پوچھ لیتے کہ خاص خبر اخبار نویس کیلئے خزانہ ہوتی ہے اور وہ اس میں دوسروں کو شریک نہیں کرتا۔بولے میں اخبار نویس نہیں وہ نام محض تعارف کیلئے لیا تھا۔ اب آدمی کیا کہے،کہانی بڑی طویل ہے اور کردار بہت سارے ہیں۔ تحریک انصاف پر حیرانی ہے جو ادویات سیل کرنے والے ایک میڈیکل ریپ بارے کہتی ہے! وہ ہمارا بندہ ہے نا ہماری کسی صحت کمیٹی کا رکن۔ لیکن بندہ سوشل میڈیا پر ات اٹھائے ہوئے ہے کہیں وزیراعلیٰ کے خصوصی نمائندے کے طور پر تعارف، کہیںپنجاب کی وزیرصحت کے مجاز ہرکارے کے طور پر دھمکی، عجب یہ ہے کہ انتظامیہ اس کیساتھ کھڑی ہے۔ کیوں؟ مشترکہ مفادات کا معاملہ ہے یا پھر کوئی اور مسئلہ؟ فی الوقت یہی ہے کہ اگر کسی کو مقدمہ بازی کا شوق چرایا ہے تو بسم اللہ۔ اخبار نویس اپنی خبر پر قائم ہے۔ معاف کیجئے ساہیوال کے قصے کو یہیں چھوڑے دیتے ہیں۔ کچھ اور عرض کرنا لکھنا چاہتا تھا،یہ معاملہ درمیان میں آگیا۔ مجھ سمیت دوسرے اخبار نویسوں کیساتھ یہ ہوتا رہتا ہے۔ سمجھنے والی بات صرف یہ ہے کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں اسی لئے خبر بند کمروں سے باہر نکل کر پرواز کرتی ہے۔ اخبار نویس تو شکاری کی طرح خبرکی تلاش میں رہتا ہے، اس سے معاملات آگے بڑھتے ہیں، آخری سوال یہ ہے کہ جن دعوئوںاور شکایات کو خاتون محتسب پنجاب کے دفتر سے جعلی قراردیکر نمٹا دیا گیا ہو کیا اُن پر مجمع لگا نے والے افسروں پر سوال نہیں اُٹھے گا؟ لاکھ دعوے ہوں، دیانتداری و اصول پسندی کے لیکن اگر آپ کے ارد گرد ہر وقت ٹکریلی قسم کے کمائو پرت دیکھائی دیں گے تو سوال آپ سے ہوگا، اُنگلیاں آپ کی طرف اُٹھیں گی۔ اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی اور مقدمے بازی کیلئے صلاح مشورے۔ کیا پھر بات آگے نہیں بڑھے گی؟ یہی سوچنے والی بات ہے۔ ہم ابتدائی سطور کی بات کی طرف پلٹتے ہیں، کتابوں کے اوراق سے روشنی ملتی ہے، فہم کی تازگی، سمجھنے کا ہنر اور پرکھنے کا فن،زندگی یہی تو ہے تو ورنہ آپ ہمارے ملتانی مخدوم کی طرح دو دن بلند وبانگ دعوے کرکے تیسرے دن وہی کہیں گے جو ہے تو حقیقت لیکن اقرار کرنے کا حوصلہ نہیں۔ خیر یہ الگ موضوع ہے اس پر اگلے کالم میں بات کرتے ہیں، جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے عید قربان کا تیسرا دن ہوگا۔ فقیر راحموں کا کہنا بلکہ عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ جن لمحوں قصائی قربانی کے جانور کو ذبح کررہا ہو آپ بھی نفس، تعصب اور نفرت کو ذبح کر دیجئے،انسان دوستی،علم، محبت، ایثار کی بہت ضرورت ہے ہمارے سماج کو، نفسا نفسی میں بہت وقت برباد ہوا، کبھی ٹھنڈے دل سے غور کیجئے اور پھر بالادست حکمران اشرافیہ سے سوال بھی کہ بہتربرسوں میں اس ملک میں علم کا نور کیوں نا پھیل پایا اور کیا وجہ ہے کہ انسان سازی کیلئے ایک بھی ادارہ تعمیر نہیں ہوسکا؟ میں جب نور علم کی بات کرتا ہوں تو یہ درسگاہوں کے نصاب کے آگے کی چیز ہے، درسگاہوں کا نصاب اپنے طلباء کو علم کے دروازے پر لا کھڑا کرتا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں نصابی تعلیم کو علم سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ نصابی تعلیم تو محض معاشی ضرورتیں پوری کرتی ہے۔ دفتروں کی رونقوںمیں اضافے یا بیروزگاروں کا لشکر بنوانے کے سوا اس کا کوئی کام نہیں۔ طالب علم کو اگر یہ شعور مل جائے کہ درسگاہوںکا نصاب مکمل ہو چکنے کے بعد اسے ''اہل علم'' حاصل کرنا ہے تو یقین کیجئے ہمارے چار اور اُجالے ہی اُجالے ہوں۔ تحقیق سے نئے در وا ہوں۔ مکالمہ فہم کو سیراب کرے، حب ذات کے تعصب اور خبط عظمت سے دائمی نجات مل جائے۔ کا ش کبھی ایسا کہ ہماری درسگاہوں کا نصاب حب ذات سے محفوظ صاحبان علم تشکیل دیں۔ تنخواہ دار تو بے چارے محض خوشنودی کے متلاشی ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں