Daily Mashriq

ناروے:نیوزی لینڈ مساجد کے حملہ آور کا 'منتخب'ملزم عدالت میں پیش

ناروے:نیوزی لینڈ مساجد کے حملہ آور کا 'منتخب'ملزم عدالت میں پیش

ناروے میں مسجد کے 21 سالہ حملہ آور کو مقامی عدالت نے 4 ہفتوں کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے سے کردیا جبکہ ان کے خلاف 17 سالہ سوتیلی بہن کے قتل اور انسداد دہشت گردی قانون کی خلاف ورزی کے شبہے میں تفتیش جاری ہے۔

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ فلپ مینشواس عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران مسلسل مسکراتے رہے جبکہ ان کے چہرے پر زخموں کے نشانات بھی تھے۔

مسجد کے حملہ کے وکیل نے عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا کو بتایا کہ میرے موکل نے کسی قسم کے جرم کا اعتراف نہیں کیا۔

عینی شاہدین نے کہا کہ فلپ مینشواس النور مسجد میں داخل ہوئے تو ان کے پاس کئی بندوقیں تھیں لیکن 65 سالہ شخص نے انہیں دبوچ لیا تھا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مینشواس نے حملے کے وقت ہیلمنٹ پہن رکھی تھی جس میں کیمرہ نصب تھا اور فائرنگ کی ویڈیو بنارہے تھے لیکن حملے کو نشر نہیں کر پائے تھے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران پولیس کے وکیل پال فیڈرک کربیی کا کہنا تھا کہ ‘یہ ویڈیو بنیادی ثبوت ہے’۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور پر باقاعدہ فردجرم عائد ہونے اور ان کے مجرم ثابت ہونے کے حوالے سے حتمی فیصلے میں ابھی کئی ماہ لگ جائیں گے۔

ناروے کے قوانین کے مطابق انسداد دہشت گردی قانون کی خلاف ورزی یا 17 سالہ سوتیلی بہن کے قتل کی پاداش میں انہیں 21 سال تک سزا ہوسکتی ہے۔

‘نیوزی لینڈ کی مساجد کے حملہ آور کا انتخاب’

ناروے کے مقامی میڈیا کے مطابق 21 سالہ حملہ آور کا تعلق بظاہر رواں برس مارچ میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر حملہ کرنے والے بیرنٹن ٹیرینٹ سے ہے جس کا اشارہ سوشل میڈیا میں ایک بیان سے بھی ملتا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوسلو میں مسجد پر حملے سے چند لمحے قبل ہی فلپ میشواس کے نام سے ایک صارف نے سوشل میڈیا میں ‘ریس وار’ کا پیغام جاری کیا تھا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں بظاہر نیوزی لینڈ کی مساجد کے حملہ آور برینٹن ٹیرینٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ ‘مجھے سینٹ ٹیرینٹ کی جانب سے منتخب کیا گیا ہے’۔

خیال رہے کہ رواں برس نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر جمعے کی نماز کے لیے ہونے والے اجتماع پر ایک سفید فارم نسل پرست آسٹریلوی باشندے نے حملہ کرکے 51 سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے اپنے بیان میں اوسلو میں مسجد کے حملہ آور کے حوالے سے کیے گئے دعوے کی تصدیق کردی ہے۔

خیال رہے کہ 10 اگست کو اوسلو کے مضافات میں قائم مسجد میں ہوئے حملے میں ایک معر شخص جان بحق ہوئے تھے اور متعدد زخمی ہوئے تھے تاہم 65 سالہ پاکستانی محمد رفیق نے اپنی مہارت اور حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے اس حملے کو ناکام بنادیا تھا اور یوں کئی جانیں بچ گئی تھیں۔

محمد رفیق پاک فضائیہ کے سابق عہدیدار ہیں اور اس وقت اوسلو میں مقیم ہیں جہاں ان کی موجودگی میں مسجد میں مسلح شخص نے حملہ کیا تھا۔

ناروے کی حکومت نے واقعے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا۔

اوسلو میں مسجد پر حملے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب دنیا بھر میں مسلمان عید الاضحیٰ کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن اس حملے کے باعث ناروے میں مقیم مسلمانوں میں خوف پیدا ہوا تھا۔

مقامی میڈیا اور پڑوسیوں نے حملہ آور کو ایک برس قبل تک خوش حال شہری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے رویے میں ایک برس قبل تبدیلی آنا شروع ہوئی تھی۔

سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حملہ آور ‘انتہائی مذہبی اور دائیں بازو کے انتہاپسند خیالات کو اپنا چکے تھے’۔

یاد رہے کہ ناروے اس سے قبل بھی دائیں بازو کے انتہاپسندوں کے خوف ناک حملوں کی زد میں رہا ہے جہاں مسلمانوں کو خوف کی علامت کہتے ہوئے پرامن شہریوں کو نشانہ بنایا چکا ہے۔

ناروے کی تاریخ میں جولائی 2011 میں بدترین دہشت گردی کا واقعہ سامنے آیا تھا جب ایک انتہاپسند ایندیرس بہرنگ بریویک نے سیاسی جماعت کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔

حملہ آور نے ‘مسلمانوں کے اثر ورسوخ’ کو خوف سےتعبیر کیا تھا جبکہ انہوں نے جزیرہ یوٹویا میں لیبر پارٹی کے نوجوان اراکین کے کیمپ میں اندھادھند فائرنگ اور دارالحکومت اوسلو میں سرکاری دفاتر کے قریب کاربم حملے میں کم ازکم 77 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں