Daily Mashriq


چوہدری نثار کا مسکت جواب

چوہدری نثار کا مسکت جواب

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پاکستان کو توڑنے کا بھارتی خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے پاکستان مخالف بیانات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ بھارت خود تقسیم ہے اور اسے کسی دوسرے ملک نے نہیں بلکہ خود اس کی پالیسیوں نے تقسیم کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سرحدی دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو جلد ہی پاکستان خدا نخواستہ10 ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خودبھارت میں اقلیتوں کے لیے زندگی انتہائی مشکل ہوچکی ہے اور مودی کی حکومت میں وہ کئی خطرات اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ کلبھوشن یادیو اور دیگر بھارتی ایجنٹس کی گرفتاریاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت پاکستان کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے۔واضح رہے کہ8 جولائی کو بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتا رہا ہے۔کشمیر کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے پاکستان نے ستمبر کے مہینے میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی مظالم کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا اور وزیراعظم نواز شریف اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر کرنے والے تھے۔تاہم اس سے قبل ہی 18ستمبر کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں واقع اڑی فوجی کیمپ پر حملہ ہوگیا جس میں18 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور اس حملے کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کردیا جسے پاکستان نے یکسر مسترد کردیا۔بعد ازاں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب 29 ستمبر کو بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے لائن آف کنٹرول کے اطراف سرجیکل سڑائیکس کی ہیں لیکن پاکستان نے بھارت کے اس دعوے کو بھی جھوٹا قرار دے کر مسترد کردیا۔گزشتہ تین ماہ کے دوران لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کی جانب سے درجنوں مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس میں متعدد پاکستانی شہری اور فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے ان تمام حالات میں اور بھارتی وزیر داخلہ سے پاکستان کے خلاف دریدہ دہنی اور ہرزہ سرائی کے علاوہ اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے ۔ بھارت کا اگر بس چلے تو اپنے ناپاک عزائم اور مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنا نے میں ایک دن کی بھی تاخیر نہ کرے۔ بھارت جس قدر بھی دشمنی اور حسد کی آگ میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا رہے مقام اطمینان یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت عوام اور پاکستانی ادارے اس قابل ہیں کہ وہ دشمن ملک کی سازشوں کا جواب دے سکیں ۔بھارت اس وقت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے بلکہ لائن آف کنٹرول پر مسلسل کشیدگی اختیار کئے رکھنا بھی ان کی پالیسی بن گئی ہے ۔ بلوچستان میں (را)کے نیٹ ورک کے ذریعے سبوتاژ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان نے اپنی سرزمین میں بھارت کو پاکستان مخالف منصوبوں اور سازشیں بننے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔کلبھوشن یادیوکی گرفتاری کے بعد نیٹ ورک طشت ازبام ضرور ہو چکا ہے مگر ابھی اس کا مکمل صفایا کرنا باقی ہے۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کو جس طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گڑ بڑ پھیلانے کے مراکز کے طور پر استعمال کر رہا ہے وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ایک طویل عرصہ ہماری فو ج کو اس نیٹ ورک کا توڑ کرنے میں لگا مگر بالا خر قبائلی علاقہ جات سے دہشت گردوں کا صفا یا کر دیا گیا مگر اس کے باوجود ابھی وہاں حالات اس قدر ساز گارنہیں بتائے جاتے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کے باوجود ابھی تک قبائلی علاقوں میں اعتماد کی کیفیت بحال نہیں ہوئی جو سب سے زیادہ ضروری امر ہے۔ علاوہ ازیں بھی وہاں پر عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ایک پر امن معاشرہ دینے کے لئے کافی مساعی کی ضرورت ہے۔ بہر حال یہ ایسی صورتحال ہر گز نہیں جس پر کسی خاص تشویش کا اظہار کیا جائے لیکن شاید بھارتی وزیر داخلہ کا اشارہ محولہ حالات ہی کی طرف ہے جن پر دشمن کا طعنہ سمجھ کر ہی کہیںمزید توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ کسی کو در یدہ دہنی کا موقع نہ ملے ۔مقام اطمینان یہ ہے کہ دہشت گردوں کا صفایا ہو چکا قیام امن اور استحکام امن کے لئے ٹھوس مساعی نظرآ تی ہیں۔ جہاں تک مسائل و مشکلات کا سوال ہے۔یہ صرف سرحدی علاقوں ہی میں نہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو عوامی مسائل کے ضمن میں پاکستان بھارت کے مقابلے میں بد رجہابہتری کی طرف گامزن ہے۔ خو د بھارت کے اندر کی صورتحال اس قدر مستحکم نہیں ۔ ان پر توجہ دینے کی بجائے بھارتی قیادت پاکستان پر انگشت نمائی میں مصروف ہے ۔ بھارتی قیادت کی دریدہ دہنی سے قطع نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے داخلی مسائل کے حل پرمزید توجہ مرکوز کریں اور جس قدر جلد ممکن ہو سکے اپنے معاملات میں اس قدر بہتری لائیں کہ دشمنوں کو بھی انگشت نمائی کا موقع نہ ملے ۔ 

متعلقہ خبریں