Daily Mashriq


بار بار کے پیش آمدہ واقعات کا عدم تدارک

بار بار کے پیش آمدہ واقعات کا عدم تدارک

پولیس کی جانب سے ڈی ایس پی کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر تھانہ فقیر آباد کے علاقہ قاضی کلے اور دوسرے علاقوں میں تلاشی کی کارروائیاں محض رسمی کارروائی اور دکھاوا ہی گردانی جاسکتی ہیں۔ ہم نے قبل ازیں بھی اسی علاقے میں خاص طور پر پیش آنے والے واقعات پر گزارش کی تھی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان مخصوص علاقوں میں مخبروں کاجال پھیلا کر اور عوام کی مدد سے ان سہولت کاروں کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے جن کی مدد کے بغیر بار بار ایک خاص علاقے اور اس کے ارد گرد تواتر سے ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے حامل اقدامات ممکن نہیں۔ ایک مرتبہ پھر پورے یقین کے ساتھ یہ دعویٰ دہرایا جاسکتاہے کہ تھانہ فقیر آباد کی حدود اور ارد گرد کے علاقوں میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسا مرکزی مقام ضرور موجود ہے جہاں دہشت گردوں کو لانے ٹھہرانے ریکی کرانے اور کارروائی کے بعد فرار ہو کر پناہ لینے اور موقع پاکر نکلنے کی سہولیات اور اسباب میسر ہیں۔ بار بار کے واقعات کے بعد محولہ یقین کا مزید پختہ ہونا فطری امر ہے۔ پولیس کے لئے شہر کا شمالی علاقہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں پر آئے روز کوئی نہ کوئی واردات ہوتی ہے جس کے پیش نظر علاقے میں گھر گھر معلومات اور ہر قسم کی نگرانی پر خصوصی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مقام افسوس یہ ہے کہ اس علاقے میں واردات کے بعد ملزمان کاکوئی سراغ نہیں ملتا حال ہی میں سٹی پولیس کی گاڑی پر حملے کی کوئی ویڈیو شہادت اس کے باوجود بھی نہ مل سکی کہ گاڑی میں جدید آلات نصب تھے۔ پولیس کو اس علاقے میں خاص طور پر جدید الیکٹرانک آلات نصب کرنے اور مواصلاتی آمد و رفت پر بھی اگر ہوسکے تو نظر رکھی جائے یا پھر اس کے لئے حساس اداروں سے خاص طور پر درخواست کی جائے تاکہ مل جل کر شہر کے شمالی حصے کو دہشت گردوںکے نیٹ ورک سے پاک کیا جاسکے۔

اے ٹی آر طیاروں کے تفصیلی معائنہ کا احسن فیصلہ

چترال سے اسلام آباد انے والے پی آئی آے کے طیارے حادثے کے بعد چیئر مین پی آئی اے نے استعفیٰ ضرور دیا ہے لیکن ابھی اتک اس حوالے سے ذمہ داری قبول کر کے مستعفی ہونے کا کوئی تذکرہ نہیں۔ اگر چیئر مین پی آئی اے اس طیارے کے حادثے کی بنا ء پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتے تو یہ ایک صحت مند امر ہوتا دریں اثناء پی آئی اے نے اے ٹی آر طیارے گرائونڈ کر دیئے ہیں ۔ اے ٹی آر طیاروں کے حوالے سے تحفظات میں اضافہ اس بنا ء پر بھی فطری امر تھا کہ پی آئی اے کا ایک اے ٹی آر42طیارہ حال ہی میں چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔اس کے بعد اتوار کی رات ملتان میں پی آئی اے کے ایک اور اے ٹی آر72طیارے کے انجن میں تکنیکی خرابی کے باعث پائلٹ نے پرواز کو واپس گیٹ پر لانے کا فیصلہ کیا ۔علاوہ ازیں بھی اے ٹی آر طیاروں میں تیکنیکی خرابی کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ ان وجوہات کی بناء پر طیاروں کے ضمن میں تحفظات اور خدشات کے خاتمے کی ضرورت تھی بالآخرشہری ہوا بازی کے حکام کو ان طیاروں کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کرنا پڑا ۔پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق سول ایو ایشن اتھارٹی کی جانب سے پیر کی صبح فضائی کمپنی کو مطلع کیا گیا کہ سی اے اے تمام اے ٹی آرطیاروں کا شیک ڈائون کرنا چاہتی ہے ۔حادثات کی روک تھام تمام ترحفاظتی اقدامات اور جانچ پڑتال کی ذمہ داری نبھانے کے باوجود ممکن نہیں لیکن حفاظتی اقدامات کی پیروی کرکے ممکنہ حد تک حادثات کی روک تھام اور اس کے امکانات کو کم سے کم کرنا ممکن ہے ۔اگر حفاظتی اقدامات اور طیاروں کی صورتحال کے حوالے سے دیکھیں تو ان دونوں امور میں پی آئی اے اور سی اے اے اپنی ذمہ داریوں کو پوری کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں جس کے باعث پاکستان میں فضائی سفراب محفوظ تر کی بجائے غیر محفوظ بن گیا ہے ۔لوگ اب پاکستانی فضائی کمپنیوں پر سفر کرنے سے خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں ۔محفوظ ہوابازی کے اصولوں اور جہازوں کی دیکھ بھال اور حالت کے باعث بعض ممالک میں پی آئی اے کی سروس بند کرادی گئی ہے جبکہ شنید ہے کہ بعض ممالک کے فضائی روٹ بھی استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔ قطع نظرا س کے جس تو اتر کے ساتھ پی آئی اے کو حاد ثات اور حادثات سے بال بال بچ جانے کی بلند شرح کا سامنا ہے اور قومی فضائی کمپنی کا انتظامی اور مالیاتی ڈھانچہ جس بری طرح متاثر ہوا ہے ایسے میں کمپنی چلانے کا عمل ہی متاثر ہ دکھائی دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے زبردستی چلایا جا رہا ہے اس طرح کے تاثرات کسی طرح بھی فضائی کمپنی کے لئے نیک شگون نہیں ۔شہری ہوابازی کے ادارے کی جانب سے تمام اے ٹی آر طیاروں کو گرائونڈ کر کے ان کا تفصیلی معائنہ مسافروں اور عوام کیلئے باعث اطمینان امر ہونے کے ساتھ ساتھ خود پی آئی اے پر مسافروں کے اعتماد کی بحالی کے لئے بہتر ہوگا ۔ جس سے جہاں ان طیاروں کے نقائص سامنے آئیں گے وہاں ان کو دور کرنے سے اعتماد کی بحالی میں بھی مدد ملے گی ۔

متعلقہ خبریں