Daily Mashriq


کیا ٹرمپ ایک اورسرپرائز دے سکتے ہیں؟

کیا ٹرمپ ایک اورسرپرائز دے سکتے ہیں؟

کیا امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی کامیابی سے پہلے ہی ساکھ کے بحران میں مبتلا کر دئیے گئے تھے جیت کے بعد اپنے نئے تشخص ،تاثر اور تصویر کے ساتھ سامنے آناچا ہیں گے؟جنوبی ایشیا کے کے بارے میں کچھ امریکی اہلکاروں کے بیانات سے پید اہونے والا یہ سوال فی الحال کچھ قبل ازوقت ہے ۔جب تک صورت حال واضح نہیں ہوتی تو اس سوال کا جواب نفی اور اثبات دونوں میں دیا جا سکتا ہے ۔انتخابی مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ کا امیج ایک تند خو ،بین الاقوامی سفارت کاری کی باریکیوںاور نزاکتوں کو سمجھنے سے عاری امریکی رہنما کے طور پر بنایا گیا اور خود ٹرمپ کے جارحانہ انداز سیاست اور سخت بیانات نے سیاسی مخالفین کے اس تاثر کو تقویت دی ۔اس تاثر سے ڈونلڈ ٹرمپ نے جو فائدہ سمیٹنا تھا انتخابی فتح کی صورت میں سمیٹ لیا۔اب ان کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوگیا ہے جہاں اقتدار کی طاقت توہے مگر طاقت کی یہ دنیا قدم قدم پر مصلحتوں ،مصالحتوں اور مجبوریوں سے بھری پڑی ہے۔یہاں اوباما بھی جنوبی ایشیا کے حوالے سے کچھ خواب لے کر آئے تھے مگر وہ امریکہ میں ایک مختلف انداز سے ساکھ کے بحران میں مبتلا کر دئیے تھے ۔انتخابی مہم میں مسئلہ کشمیر حل کرانے کے دعوے کرنے والے اوباما جب وائٹ ہائوس میں داخل ہوئے تو اپنے امیج او ر ساکھ کے حوالے سے پھیلی ہوئی کہانیوں اور افواہوں کے حصار میں قید ہو تے چلے گئے۔ پھر وہ پورے عرصہ صدارت میں اس حصار سے باہر نہیں نکل سکے ۔بالکل اسی طرح ٹرمپ بھی اپنی سخت گیری اور دنیا سے بھڑ جانے کے امیج کی بدولت ساکھ کے بحران کا شکار ہیں وہ اپنی پالیسی اور امیج سے وابستہ تلخ اور ناپسندیدہ تاثر کو جھٹک کر دنیا کو حیران کر سکتے ہیں۔یوں بھی ماضی میں بل کلنٹن اور اوباما جیسے گل وبلبل کی بات کرنے والے نرم خو امریکی صدور نے عملی طور پر دنیا کو کونسا امن اور استحکام دیا جو ٹرمپ جیسے سخت گیر کی آمد کے بعد خطرے میں پڑ جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ کے مزاج میں جنوبی ایشیاکے حوالے سے کچھ غیر معمولی ،مثبت اور حیرت انگیز تبدیلی کے آثار ہیں۔جس کا پہلا ثبوت امریکہ کے نومنتخب نائب صدر ماٹیک پنس کا ایک امریکی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو ہے ۔یو ایس ٹی کے پروگرام ''میٹ دی پریس '' میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ڈیل اور مصالحت کی غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر ڈونلڈ ٹرمپ جنوبی ایشیاکو کشیدگی میں مبتلا رکھنے والے کشمیر جیسے مسائل کو حل کراسکتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ جنوبی ایشیا کی کشیدہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔امریکہ کی نئی قیادت مضبوط اور متنازعہ مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اس کے بعد امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ کے دوران ترجمان میری ہارف اور ایک بھارتی صحافی کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک دلچسپ مکالمے کی یہ خبرسامنے آئی جس میںسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان نے مسئلہ کشمیر کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کو بری طرح مسترد کیا ہے۔خبرکے مطابق بھارتی صحافی نے ترجمان سے القاعدہ اور طالبان کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کا تڑکا لگانے کی کوشش کی مگر گھاگ امریکی سفارت کار نے بھارتی صحافی کو یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ کشمیر کا مسئلہ سر حدی کشیدگی اور دہشت گردی سے قطعی الگ ہے اور وہ خود ان میں فرق روا رکھتی ہے۔امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی بھارتی کوشش کو اس وقت مسترد کیا گیا جب بھارت اس بات کی سرتوڑ کوششیں کررہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دے کر عالمی اور علاقائی سطح پر تنہا کیا جائے ۔یہی وہ وقت ہے جب امرتسر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور شہ بالا اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر الزامات کی بارش کرنے کا کھلا ردعمل چین کی بجائے روس کی طرف سے آیا ۔یہ ردعمل چین کی طرف سے سامنے آتا تو شاید اسے ایک روایتی دوست کی محبت کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا مگر یہ ردعمل ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شریک روسی نمائندے کی دوٹوک باتوںکی صورت میں سامنے آیا۔روسی نمائندے نے ایک بھارتی صحافی کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر دوٹوک انداز میں پاکستان پر الزامات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پاک روس بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں کہا کہ ان تعلقات پر کسی کو حسد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ خود بھارت بھی امریکہ کے قریب چلا گیا ہے ۔اب ہمیں بالغ ہوجاناچاہئے کیونکہ دنیا یونی پولر نہیں بلکہ ملٹی پولر ہو گئی ہے۔روسی نمائندے کے اس انداز نے امریکہ کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہوگا کہ کس طرح پاکستان جیسے ایک بے دام اتحادی کو گنوا کرامریکہ نے یکسر دوسری طرف لڑھکنے پر مجبور کیا ہے۔امریکہ نے جنوبی ایشیاکے معاملات میں بھارت کی اصطلاحات ،محاوروں اور ترجیحات کومن وعن اپنا کر خود کو عملی طور پر بھارت کے ساتھ بریکٹ کر دیا ہے ۔جس سے پاکستان پر اثر انداز ہونے اور مصالحت کرانے کی امریکی پوزیشن کمزور سے کمزور تر ہو گئی۔امریکہ نے اپنی کتاب سے مثبت باب سے پاکستان کو نکال دیا تو پاکستان نے بھی امریکہ کو اپنے نہاں خانہ دل سے رخصت کر دیا ۔اب امریکہ کو اس نقصان کا انداز ہ اور احساس ہورہا ہے تو اس سے معاملات کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت ازخود ایک سرپرائز تھی وہ پاکستان اور امریکہ کے معتوب ممالک کے لئے اپنا دوستانہ امیج بنا کر ایک اور سرپرائز دے سکتے ہیں ۔گویاکہ ٹر مپ اپنے مثبت اور امریکہ کے متوازن امیج کی بازیافت میں اپنے قائم تاثر کے برعکس نئے راستوں کی طرف بھی نکل سکتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ امریکہ کا سسٹم انہیں اس راہ میں دور جانے کی اجازت دیتا بھی ہے یا نہیں؟۔

متعلقہ خبریں