Daily Mashriq


مہنگائی پر بکواس

مہنگائی پر بکواس

قارئین کو ہماری آج کی تحریر کا عنوان پڑھ کر حیرت تو ضرور ہوگی لیکن یہ اصطلاح یا ترکیب جو نام بھی آپ اسے دینا پسند کریں۔ ہمارے بے تکلف دوستوں کی عطا ہے جب ہم کچھ دنوں تک مہنگائی کے موضوع پر کچھ نہیں لکھتے تو ان کی جانب سے فرمائش آتی ہے۔ بہت دن ہوئے مہنگائی پر تم نے کوئی بکواس نہیں کی۔ ہماری اس نوع کی تحریر کو یہ نام دینا اس لئے بھی بنتا ہے کہ اگر ہم روزانہ اس سلگتے موضوع پر کاغذ سیاہ کرتے رہیں' ذمہ داروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ظاہر ہے بکواس پر کون کان دھرتا ہے۔ پھر بھی مجبوری ہے۔ آج ہم ایک بار پھر یہی بکواس کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے توفیق دی تو آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ بات یہ ہے کہ جب ہم بازار میں نکلتے ہیں تو گرانی یعنی مہنگائی کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ نہ جانے پھر کیوں ہمارا ذہن روز پڑتے ڈاکہ زنی کی وارداتوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے' اغواء کاری کے واقعات یاد آنے لگتے ہیں۔ کھوپڑی کے اندر بم پھٹنے لگتے ہیں۔ بارود سے بھرے ہوئے ٹرک سینے پر د ندنانے لگتے ہیں۔ مائیں اپنے جگر گوشوں سمیت قید حیات سے آزادی کے لئے ٹرینوں کے سامنے لیٹتی' نہروں میں کودتی اور زہر پھانکتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے میں رحمان بابا ہمیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کریں اور کہیں 'بچو گھبرانے کی زیادہ ضرورت نہیں۔ پیدا کڑے خدائے پہ فرق دا دنیا دہ۔ ا للہ نے دنیا کی مخلوقات میں فرق قائم کر رکھا ہے اور یہ کہ 

واڑہ پہ غوغا دی چی راغلے پہ دنیا دی

نہ ئی ھغہ اوگی پہ قرار دی نہ ماڑہ

دنیا کے سب لوگ غوغا کرتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ بھوکے اور بھر پیٹے کسی کو بھی قرار نہیں۔ ہم نے کل بازار میں ایک ریڑھی بان سے جو باغ جمات کے سائے میںکھڑا تھا انگور کا پوچھا۔ ڈیڑھ سو روپے کلو بتایا۔ جسے ہم خرید تو نہ سکے ا لبتہ ان کے ذائقے سے تصور کو شادماں ضرور کیا۔ اگر اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی یہ مشق جاری رہی تو بہت جلد انشاء اللہ ہم صوفی بن جائیں گے۔ ایک جنرل سٹور والا پرسوں طنزاً کہنے لگا' استاد جی! پوتیوں کو روزانہ پانچ روپے کی پیپل منٹ پر ٹرخا دیتے ہو۔ کبھی جوس' چپس اور آئس کریم بھی لے دیا کرو۔ دل میں کہا' بندہ خدا! ہمیں آٹا خریدنے کے لالے پڑے رہتے ہیں تم ہم بھوکوں کے سرہانے پراٹھے تلاش کرتے ہو۔ اس نے ہمارے زخموں پر مزید نمک پاشی کرتے ہوئے کہا۔ لوگ تو آج کل کی کڑ کڑاتی سردیوں میں روزانہ اور وہ بھی شام کے اوقات میں ہزار ڈیڑھ ہزار کی آئس کریم خرید کر لے جاتے ہیں۔ ہم نے جواب میں کہا' ان کو ہر وقت دولت کی تپ چڑھی رہتی ہے' اس کی ٹھنڈک کے لئے خریدتے ہوں گے بلکہ پھر بھی کم خریدتے ہیں ایسے لوگوں کو تو آئس کریم کی رضائی اوڑھ کر سونا چاہئے۔ معافی چاہتا ہوں آج ہم در اصل صرف ایک آئٹم پٹرول پر بات کرنا چاہتے تھے کہ لوگ اسے ''ام المہنگائی'' کہتے ہیں۔ آج سے یہی کچھ 20سال پہلے جب ہمارے بیٹے نے موٹر سائیکل خریدی قیمت اس کی صرف سات ہزار روپے تھی۔ اب اس کی قیمت 70ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ خواہش تھی کہ یہ موٹر سائیکل کار کا روپ دھار لے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہ خواہش' تمنا' آرزو 20 سال کی مسلسل دعائوں کے بعد پوری ہوئی۔ اب ہم اپنی موٹر سائیکل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس زمانے کی سوزوکی گاڑی دکھائی دیتی ہے کہ ان دنوں گاڑی کی یہی قیمت ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ اب ہم بیٹے کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چشم تصور میں کار کے مزے لوٹتے ہیں۔ انسان گاڑی میں بیٹھنے کی خواہش اس لئے بھی کرتا ہے کہ اس سے حاسد ہمسایوں اور بد نیت دوستوں پر اپنے سٹیٹس کا رعب جما کر انہیں پریشان کیا جائے۔ اس کیفیت کا وہی لطف ہوتا ہے جو ہمارے گائوں بغدادہ کی کسی تھڑے والی چائے کی دکان میں بیٹھ کر کسی فائیو سٹار ہوٹل میں چائے پینے کا آتا ہے۔ ہم اپنی کھٹارہ موٹر سائیکل کو اعلیٰ درجے کی سوزوکی کار اس لئے سمجھتے ہیں کہ ماشاء اللہ ایک لیٹر میں یہ بھی اتنے ہی کلو میٹر چلتی ہے جتنی قیمت کا ایک عام گاڑی میں پٹرول خرچ ہوتا ہے۔ اس رومانی تصور کے ذریعے پجیرو اور مرسڈییز بینز والے بھی اپنے درجات بلند کر سکتے ہیں۔ اپنی گاڑیوں میں ہیلی کاپٹر اور فورسیٹر جہازوں کے مزے لینا اب ان کی دسترس میں ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے سے صرف میری کلاس ہی تبدیل نہیں ہوئی بلکہ عوام کے سارے طبقے اپ گریڈ ہوگئے ہیں مثلاً ہماری طرح موٹر سائیکل اور سکوٹر والا اگر کسی قیمتی گاڑی میں نہیں تو کم از کم سنی نسان میں ضرور سوار ہوگیا ہے۔ بس میں سفر کرنے والے چپڑ قناتی اب موٹر سائیکل کے مزے لوٹے گا۔ رکشوں اور ٹیکسی میں سفر کرنے والوں کے تو اب مزے ہی مزے ہیں کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں اوراب رکشے میں بیٹھی سواری خود کو ہوا میں اڑتی محسوس کرتی ہے۔ یہ ہم ذاتی تجربے کی روشنی میں کہتے ہیں پشاور کے جنرل بس سٹینڈ سے جس ٹیکسی کا دس بارہ سال پہلے 50یا اسی' یونیورسٹی تک کا کرایہ ہوتا تھا اب اس کا تین سو روپے دینا پڑتا ہے۔ یہ بات تو ہم بتانا بھول گئے تھے کہ موٹر سائیکل خریدتے وقت پٹرول دس روپے لیٹر میں ملتا تھا اوراب اس کی قیمت میں کتنے فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ آپ وفاقی وزیر خزانہ سے رابطہ قائم کرکے پوچھ سکتے ہیں ہمیں تو آٹے کی 20کلو والی بوری کی قیمت معلوم ہے اس زمانے میں ایک سو اسی روپے میں دستیاب تھی اب آٹھ سو روپے اس کی قیمت ہے۔ کیا میں نے جھوٹ بولا۔

متعلقہ خبریں