Daily Mashriq


تحقیقات کا کیا حاصل ؟

تحقیقات کا کیا حاصل ؟

سوال یہ ہے ۔ کہ آخر ہمارے ہاں قومی سانحات کی وجوہات کو کیوں چھپایا جاتاہے۔ اس حوالے سے تحقیقات کے نتائج کو اخفاء میں کیوںرکھا جاتاہے۔ سانحہ جتنا بھی بڑا ہو۔اتنی ہی سرعت کے ساتھ ابہام پیدا کرنے کی کوشش شروع کیوں ہوجاتی ہیں اور پھر الزامات در الزامات کی گونج میں اصل معاملہ دب کر رہ جاتاہے۔ ماضی کی انہی روایا ت کو ''سانحہ حویلیاں '' کے حوالے سے بھی دہرایاتو نہیں جارہا ہے۔ ابھی شہداء کی نعشوں کی شناخت بھی نہیں ہوئی۔لواحقین اپنے پیاروں کے آخری دیدار کی آس لئے ان کی تدفین کے منتظر ہیں۔ مگر ادارہ جاتی چپقلش نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔شقاوت کی حد تک ڈھٹائی کے ساتھ طیارے کی تباہی کی ذ مہ داری پائلٹ پر ڈالنے کی سعی کی جارہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے ۔ کہ آخر ہر تباہ شدہ طیارے کے پائلٹ پر ہی کیوں ذمہ داری کی تان آکر ٹوٹتی ہے؟۔اس کے پس پردہ کہیں یہ سوچ تو کارفرما نہیں ۔ کہ سار اکیا دھرا ایک شخص پر ڈالا جائے۔جو اب اس دنیا میں ہے ہی نہیں۔یوں تحقیقات کی فائل آسانی کے ساتھ بند ہوجائے گی اور کیس داخل دفتر ہوگی۔یہی سلسلہ ہے جو چلتا آرہا ہے۔ یقینااس طرح کچھ لوگوں کو بچایا جاتاہے۔ کچھ افسروں کی نوکری اور مراعات محفوظ بنادی جاتی ہیں۔مگر یہی روش ہے جو سانحات اور تباہیوں کا تسلسل جاری رکھنے کا سبب ہے۔ اور چند دن بیان بازی کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے۔ ہر کوئی کار دنیا میں مگن ہوجاتاہے۔ ہمارے حکمران بھی عجب مزاج رکھتے ہیں۔ تحقیقات کاحکم جاری کرکے لمبی تان کر سوجاتے ہیں ۔ اب شاید کسی دوسرے بڑے ایشو کے سراٹھانے تک''سانحہ حویلیاں''کا تذکرہ ہوتا رہے۔ تحقیقات تحقیقات کا کھیل بھی جاری رہے۔ مگر جیسے ہی کو ئی دوسرا مسئلہ اٹھا۔ یا اٹھادیا گیا۔پھر مجال ہے کہ کسی کی توجہ ATRطیارے کی جانب ہو۔ تحقیقات کا حکم نامہ فائلوں میں گم ہوجائے گا۔ اور پھر کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا۔ کسی طیارے نے چترال کے ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی۔ اور پھر وہی جہاز حویلیاں کے پہاڑوں سے جا ٹکرایا ۔۔۔ جس میں47قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔ ان میں جنید جمشید جیسا قومی ہیرو اور اسامہ احمد وڑائچ جیسا فرض شناس آفسر بھی اپنی فیملی کے ساتھ راہی ملک عدم ہوئے۔ ''سانحہ مارگلہ '' کے متاثرین کا کیس تین سال تک پشاور ہائی کورٹ میں چلتا رہا۔ اس وقت کیس میں پیش پیش ماروی میمن بھی اب حکومت کو پیاری ہوچکی ہیں۔ شاید ہی وہ اب تازہ متاثرین کی آواز بننے کو تیار ہو۔ مگر عدالت عالیہ نے جو ہدایات دی تھیںاور حکومت وقت نے جو یقین دہانیاں کرائی تھیں ان کا کیا بنا۔ بھلا ہو اس وقت کے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان(موجودہ جج سپریم کورٹ آف پاکستان) کا۔۔۔ بال کی کھال اتارنے والے اس فاضل جج نے اپنے تئیں بھر پور کوشش کی اور کیس کو انجام تک پہنچا دیا تھا۔ مگر حکمران اور حکومتیں عدالتی احکامات پر کہاں عمل کرتی ہیں؟ عدالت نے فضائی حادثات کی تحقیقات کے عمل کو سٹریم لائن کرنے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق اور شفاف بنانے کے لئے رہنمائی کرائی تھی۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن سے بھی سفارشات طلب کی گئی تھیں۔ جن کی روشنی میں قرار پایا تھا۔ کہ سیفٹی اینڈ انوسٹی گیشن بور ڈ کو مزید آزاد اور خودمختار بنایا جائیگا۔ اور بورڈ کو ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن کمیشن میں تبدیل کیا جائیگا۔ حکومت نے ان سفارشات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی جائیگی۔مگر وہ قانون پارلیمنٹ کی راہداریوں میں کہیں بھٹک گیا ہے۔کیوں؟؟ اس لئے کہ حکومت کی دلچسپی نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل اس سے زیادہ اہم ہے۔راتوں رات اختیارات کے حصول کیلئے قوانین بنانے اور ترامیم کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف نے سانحہ حویلیاں کی تحقیقات کی ذمہ داری اسی بورڈ کو سونپی ہے جو آج تک کسی حادثے کی تحقیق نہیں کرسکا۔ اور نہ کسی حادثے کے ذمہ داروں کا تعین کرسکتاہے۔ کہتے ہیں طیارے کا بلیک باکس مل گیاہے اور وائس ریکارڈر بھی ۔۔۔ ان ڈیوائسز سے کچھ مل جائیگا ۔ اندر کیا ہوا۔ دوران پرواز کیا بولا اور کہا گیا ۔۔۔۔ مگر کیا ضروری ہے کہ ذمہ دار صرف طیارے کے اندر والے ہی ہیں۔ صرف ان آلات سے حاصل مواد پر ہی تکیہ کیا جائیگا۔ یا باہر کے ذمہ داروں کا بھی کھوج لگانے کی کوشش ہوگی۔ سوالات ہیں کہ ذہن میں امڈتے آرہے ہیں ۔ ATRطیارے اگر محفوظ ہیں۔ تو پھر یہ حادثہ کیوں اور کیسے رونما ہوا؟۔اگر انجن میں پہلے سے کچھ خرابی تھی تو اسے اڑانے کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟پائلٹ مسلسل سفر میں رہا کیوں؟ انہیں آرام کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟کیا پائلٹ کو طیارے کے نقص کا علم تھا؟ چترال ائیرپورٹ پر طیارے کا معائنہ ہواتھا؟۔ اور یہ معائنہ کس نے کیا تھا؟۔ کوئی تحریر ی رپورٹ موجود ہے؟میں سوچتا ہوں کہ ایک سابق خاتون وزیراعظم کا قتل ایک معمہ ہو۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ دبادی جائے۔ بم دھماکوں،خود کش حملوں، اور ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ سکولوں اور جامعات کو نشانہ بنانے والوں کا سراغ نہ ملے وہاں سانحہ حویلیاں کی تحقیقات سے کیا برآمد ہوگا۔۔۔کیا ہم اس سانحے کو مقدرات الٰہیہ قرار دے کر خاموش رہیںگے۔ جنید جمشید،اسامہ وڑائچ سمیت سانحہ حویلیاں کے دیگر شہداء کے لئے دعائے مغفرت کرکے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوجائینگے۔ نہیں ہم جھنجھوڑتے رہیں گے۔ آواز اٹھاتے رہیں گے۔ اور سوالات اٹھاتے رہیں گے۔ یہاں تک اصلاح احوال کے لئے اقدامات ہوں۔ 

متعلقہ خبریں