Daily Mashriq


ترکی کی شنگھائی تنظیم میں شمولیت!

ترکی کی شنگھائی تنظیم میں شمولیت!

ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔یہ ایشیا اور یورپ کو ملانے کے لیے پل کا کام کرتاہے۔ یورپی منڈیوں تک رسائی اور یورپ کی ممکنہ پراکسی وار سے بچنے کے لیے ترکی شروع سے یورپ کے ساتھ نرم رویہ اختیارکرنے کی پالیسی پر گامزن اور یورپی یونین میں شمولیت کاخواہاں رہاہے۔2005ء میں یورپی یونین نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور کرکے35کے قریب معاملات پر مذاکرات شروع کئے۔اس دوران جرمنی نے ترکی کو شینگن ممالک کے ساتھ آزاد ویزہ پالیسی میں شامل کرنے کا عندیہ بھی دیا۔لیکن 2011ء میں شامی خانہ جنگی کی وجہ سے یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات میں تناؤ آنے لگا۔15جولائی 2016ء کے ناکام فوجی انقلاب اور شامی پناہ گزینوں کے بین الاقومی ایشو کی وجہ سے اس تناؤ میں اضافہ ہوا۔چنانچہ 24نومبر 2016ء کو یورپی یونین نے ایک قرارد اد کے ذریعے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پر مذاکرات کو معطل کرنے کی منظوری دی۔جس کے بعد ترک صدر نے یورپ کوتنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ترکی کو ڈرانا دھمکانا بندکرے۔اگریورپ نے کیے گئے وعدے پورے نہ کیے تو ترکی یورپ جانے والی اپنی سرحدیں شامی مہاجرین کے لیے کھول دے گا۔یورپی ممالک شامی مہاجرین کے مسئلے سے کافی پریشان ہیں اور ترکی کو شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے عوض یورپی یونین میں شمولیت کا عندیہ بھی اسی وجہ سے دیا۔جس کااندازہ جون 2016ء میں برطانیہ کی یورپی یونین سے نکلنے کے لیے ووٹنگ سے بھی لگایاجاسکتاہے۔بریگزٹ نامی تحریک میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ صرف اس لیے کیا کہ یورپی یونین کے ساتھ جڑے رہنے سے برطانیہ کوشامی مہاجرین سمیت دیگر معاشی اور داخلی وخارجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔برطانیہ کی علیحدگی کے بعد یورپی یونین نے ترکی کو یورپی یونین میں شامل نہ کرنے کا پکاعزم کرلیاتھا۔دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یورپ اس وقت ترکی کے ساتھ نرم تعلقات رکھنے پر مجبور ہے۔کیونکہ شامی پناہ گزینوں کی یورپ آمد سے یورپ بے حد پریشان ہے ،جس کی وجہ سے کئی یورپی ممالک میں برطانیہ کی طرح یورپی یونین سے علیحدگی کی فضاہموارہورہی ہے۔یہ صورتحال ترکی کے لیے کسی گولڈن چانس سے کم نہیں کہ وہ یورپ کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا ئے۔لیکن حلب میں بین الاقوامی طاقتوں کی رسہ کشی،ترکی کی براہ راست شامی جنگ میں بشارالاسد مخالف فریقوں کی حمایت ،شامی پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے بحران ، ناکام فوجی انقلاب کے بعد بڑے پیمانے پرگرفتاری،ترکی میں پھانسی کی سزا کی بحالی،روس کے ساتھ ازسرنو تعلقات اور اردگان کے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کے عندیے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ترکی کا یورپی یونین میں شامل ہونا محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔یورپی یونین کی طرح شنگھائی تعاون تنظیم کا مقصد بھی رکن ممالک کے درمیان سیاسی،دفاعی اور تجارتی تعاون کوفروغ دیناہے۔ترکی کا شنگھائی تنظیم میں شامل ہونا یقینا ایک خوش آئند فیصلہ ہے ۔پاکستان اور ترکی مل کر اس میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔لیکن روس چونکہ بشار الاسد کااتحادی ہے اور ترکی کی سرحد وں کو خانہ جنگی کی آگ سے بھڑکائے ہوئے ہے۔ادھر چین بھی روس کے ساتھ مل کر شام میں خانہ جنگی کی روک تھام کے لیے پیش کی جانے والے اقوام متحدہ کی ہر قرارداد کو ویٹو کررہاہے،جس کی وجہ سے ترکی بدامنی اور دہشت گردی ایسے مسائل کا سامنا کررہاہے۔اس لیے ترکی کا شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہونابھی زیادہ سود مندثابت نہیں ہوسکتا۔البتہ ترکی کے پاس یورپی یونین اور شنگھائی تنظیم کے علاوہ ایک اور متبادل آپشن موجو دہے۔وہ یہ ہے کہ ترکی باہمی تجارتی،سیاسی اور دفاعی امور کے لیے خلیجی ممالک ،سعودی عرب ،پاکستان اور عالم اسلام کے دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر''مسلم یونین''تشکیل دے ۔یورپی یونین کے12 ممالک کی طرح مشترکہ کرنسی کووجود میں لاکر اس کے ذریعے رکن ممالک کوتجارتی لین دین پرقائل کرے ۔اردگان حال ہی میں ترک لیرا کی ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہوئی قدر کے بعداس عزم کااظہاربھی کرچکے ہیں کہ ہم ڈالر سے چھٹکارا حاصل کریں گے اور سونے اور ترک لیر ا کے ساتھ تجارتی لین دین کریں گے، سعودی عر ب اور ترکی کے ازسرنوتعلقات سے بھی اس کااشارہ ملتاہے۔مسلم یونین کا قیام اگر چہ مشکل ضرور ہے لیکن ترکی،پاکستان اور سعودی عرب کی جدوجہد سے اس کو عملی جامہ پہنایا جاسکتاہے۔کیوں کہ عالم اسلام کے پاس نہ صرف تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہیں،بلکہ دنیا کی تجارت کو کنٹرول کرنے کے لیے بہترین راہداری بھی اسلامی ملکوں کے پاس ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ اقتدار کی خاطر دوسروں کے وسائل کو للچائی نظروں سے دیکھنے کی بجائے ہرکوئی مخلص ہوکر باہمی اخوت اور عالم اسلام کے مشترکہ مفادات کے لیے کام کرے۔

متعلقہ خبریں