Daily Mashriq


ہمارے میڈیا کی ترجیحات

ہمارے میڈیا کی ترجیحات

ذرائع ابلا غ یا ماس میڈیا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ترجیحات بدلتے بالکل دیر نہیں لگتی ۔ کسی مخصوص وقت میں ایک خبر میڈیا کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور ہر چینل اس کی کوریج میں مصروف ہوتا ہے لیکن چند لمحوں کے اندر ہی صورتحال تبدیل ہوجاتی اور اچانک ہی کوئی اور خبر 'بریکنگ نیوز ' یا سب سے اہم خبر ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ پچھلے چند دنوں میں دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک دن ایسا تھا جب کراچی کے بڑے ہوٹلوں میں سے ایک ہوٹل میں آگ کی خبر سب نیوز چینلز کے لئے دلچسپی کا باعث تھی اور میڈیا کی ساری توجہ اس خبر پر مرکوز تھی ۔ یہ کہا جا رہا تھا کہ آگ کی شدت کے باعث شاہراہِ فیصل کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ ٹی وی چینلز ہوٹل کے اندر کی ویڈیوز بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جن کو 'ایکسکلوسو' کے بیک گرائو نڈ کے ساتھ چلایا جا رہا تھا۔ اس ساری افسوس ناک صورتحال کو دیکھنے والے ناظرین ریاستی اداروں اور انتظامیہ کی طرف سے ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دیئے جانے کی توقع کر رہے تھے لیکن اس کے بعد کسی بھی نیوز چینل نے ریجنٹ پلازہ میں لگنے والے آگ کی خبر کا فالو اپ ہی نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ اس واقعے کے دو دن بعد ہی اس سے بھی بڑا حادثہ رونما ہوا جب پی آئی اے کا چترال سے اسلام آباد آنے والا جہاز حویلیاں کے مقام پر گر کرتباہ ہوگیا۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد لوگ ریجنٹ پلازہ میں لگنے والی آگ کو بھول گئے ۔ طیارہ حادثے کے کچھ دن بعد ایک چھوٹی سی خبر آئی کہ ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں لگنے والی آگ اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی ایف آئی آر ہوٹل انتظامیہ کے خلاف درج کروائی گئی ہے ۔ اس خبر کے بعد اس سلسلے میں کوئی اور تفصیلات سامنے نہیں آسکیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اندوہناک واقعے کی کوریج کا خاتمہ ہوگیا۔ کہنے کو تو ہمارے ملک کا میڈیا آزاد ہے لیکن یہ آزاد میڈیا کسی سٹوری کا فالو اپ نہیںکرسکتا اور ہمارے ملک میں ایسا ہر خبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہفتے کومذکورہ واقعے کی کور۔اپ سٹوری سامنے آئی جس سے یہ معلوم ہوا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ریجنٹ پلازہ ہوٹل کے دومالکان اور تین ملازمین کو چار دن کے لئے حفاظتی ضمانت پر رہا کردیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں جب میڈیا کی توجہ بھی ریجنٹ پلازہ کے واقعے سے ہٹ چکی ہے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کو انصاف ملنے کی امید بالکل ختم ہو گئی ہے۔ مذکورہ واقعے میں براہِ راست آگ کی بجائے دم گھٹنے کی وجہ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں جس کی وجہ فائر ایگزٹ اور فائر فائٹنگ کے سامان کی عدم دستیابی ہے جو ہوٹل انتظامیہ اور سٹی گورنمنٹ کی مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر مناسب انتظامات موجود ہوتے تو بہت سی قیمتیں جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ اس سب کے باوجود بھی ہم اس واقعے کے مجرمان کو سزا دینے یا اس حوالے سے حکومتی کردار کے بارے میں سوال اُٹھانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ کراچی کے میئر وسیم اختر نے باویجہ برادران کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن کیا سٹی گورنمنٹ سو رہی تھی ؟ ہوٹل اور دیگر عوامی مقامات پر فائر فائٹنگ کے مناسب سامان اور سہولیات کی دستیابی کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟ ہماری حکومتیں ہوٹل انڈسٹری سے ٹیکس وصول کرنے میں تو پیش پیش نظر آتی ہیں لیکن جب قواعد وضوابط اور ان کے نفاذ کی بات کی جائے تو اس حوالے سے حکومت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد کراچی کی سٹی گورنمنٹ نے اپنے کتنے ملازمین کو نوکری سے برخاست یا معطل کیا ؟ ایک بھی ایسا ملازم نہیں ہے جس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے برخاست یا معطل کیا گیا ہو۔پاکستان میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور چند دنوں کے شورو غوغا کے بعد ہر کوئی ایسے واقعات کو بھول جاتا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان وقعات کے ذمہ داران کو بھاری رشوت لے کر رہا کر دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کراچی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ تو سب کو یاد ہوگی جس میں 289 لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔مذکورہ اندوہناک واقعہ میڈیا کے لئے ایک بڑی خبر تھا جس کی کئی ہفتوں تک کوریج کی گئی تھی لیکن چار سال گزرنے کے باوجود بھی اس واقعے کے متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔ہماری حکومت نے اپنی ساری توانائی فیکٹری مالکان کو گرفتار کرنے اور سزا دینے کی بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ پر خرچ کردی جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کے خلاف بہت سے مقدمات درج کئے گئے اور فیکٹری میں آگ لگانے والے ملزم کی گرفتاری کے لئے پولیس کی ٹیم بنکاک بھی بھیجی گئی۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مجرمانہ غفلت کا مقدمہ درج کرکے آگ سے بچنے کے لئے مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے مالکان کو گرفتار کیا جاتا اور قرار واقعی سزا دی جاتی لیکن ہماری سیاسی حکومتیں معصوم لوگوں کی موت پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا موقع کیسے ضائع کر سکتی تھیں؟اس حوالے سے ہمارے میڈیا کا کردار بھی غیر تسلی بخش ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا ایسے واقعات کی فالو۔اپ سٹوری عوام کے سامنے کیوں نہیں لاتا ؟مناسب تحقیق اور تجزئیے کے بغیر ہمارے ٹی وی چینلز ایک خبر کو مکمل طور پر فراموش کرکے دوسری خبر کے پیچھے کیوں بھاگنے لگ جاتے ہیں ؟

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں