Daily Mashriq


سی پیک ،طویل المدتی منصوبوں کیلئے تیاری کی ضرورت

سی پیک ،طویل المدتی منصوبوں کیلئے تیاری کی ضرورت

وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)کے طویل المدتی پلان(ایل ٹی پی)پردستخط ہوچکے ہیں۔ پاک چین طویل مدتی تعاون کی اہمیت کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ خطے میں تقریباً 3 ارب لوگ رہتے ہیں اور جی ڈی پی 25 فیصد ہے جن کے درمیان رابطہ سی پیک کے ذریعے قائم ہوگا۔سی پیک فریم ورک کے تحت چین وہ کررہا ہے جو افغان جنگ کے اختتام کے بعد امریکیوں اور یورپی ممالک کو کرنا چاہیے تھا، جس جنگ نے سوویت یونین کو افغانستان سے بے دخل کیا اور یورپ کو محفوظ بنایا لیکن ہم یہاں اب بھی اس جنگ کی قیمت ادا کررہے ہیں۔چین ایک منصوبہ بندی کے تحت 8 کروڑ 50 لاکھ ملازمتوں کو ایسے ممالک میں منتقلی کا خواہاں ہے جہاں اس کو سستی لیبر میسر آئے۔ پاکستان میں سستی لیبر کی کمی نہیں بلکہ مزدوری کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں اگر ان کو اپنے ملک میں بہتر مواقع میسر آئیں تو اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے۔ بنا بریں پاکستان کو اس میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرنا ہوگی۔سی پیک منصوبے کے ماہرین کے مطابق انفرا سٹرکچر ڈویلپمنٹ کے ذریعے پاکستان کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے، ایس ای زیڈ کی تعمیر سے پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں سے جڑ جائے گا۔غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ملازمتوں کے مواقع، ملازمین کی اچھی تنخواہیں، بہتر مارکیٹس، مضبوط زر مبادلہ اور صنعتی پارکوں کی تخلیق کے درجنوں مواقع میسر آئیں گے۔ جہاں سی پیک کے منصوبوں کی منفعت کا تذکرہ ہو جائے وہاں اس امر سے بھی لا تعلق نہیں رہا جاسکتا کہ سی پیک منصوبے کی مخالفت اور اسے ناکام بنانے کے لئے بین الاقوامی طور پر بڑے مضبوط ہاتھ کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں تک کا سہارا لیا جا رہا ہے جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں اس منصوبے پر بعض ایسی تنقید بھی سامنے آئی ہے جس کو صحت مند تنقید کے زمرے میں شمار کرکے ان امور پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے اور ملکی مفاد اور آئندہ کی مشکلات کا ادراک اور ان کے حوالے سے موزوں حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت پر بھی توجہ ملکی مفاد کے تحفظ کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ بہر حال سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے نمٹنے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ حکومت سی پیک کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرے۔مقام اطمینان امر یہ ہے کہ سی پیک سے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح میں 2 فیصد اضافہ ہوگا لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس وقت ہمارے لیے ضروری ہے کہ لاگت کی پرواہ کیے بغیر اس منصوبے کی تکمیل وقت پر کی جائے۔ہر منصوبے کے فوائد و نقصانات ہونا فطری امر ہے۔ جب بھی کوئی منصوبہ بنتا ہے ہر فریق کا اپنے مفادات کے زیادہ سے زیادہ تحفظ اور فائدے سمیٹنے کی کوشش فطری امر ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ سی پیک کے جو ثمرات ہمارے حصے میں نہیں آئیں گے وہ اس کے ہمارے حصے میں آنے والے ثمرات سے کہیں بڑھ کر ہوں گے لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ کم ہی سہی لیکن اس منصوبے کے ثمرات بہر حال ہمارے حصے میں بھی آئیں گے اور بالآخر اس منصوبے میں فوائد کا توازن ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے خیبر پختونخوا میں ترقی و روزگار کے مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے تیاریوں اور منصوبہ سازی کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے درست کہاہے صوبہ خیبر پختونخوا میں سی پیک کے ثمرات 10سال کے بعد آنا شروع ہوجائیں گے خیبرپختونخوا سی پیک میں ایک بہت واضح مقام رکھتا ہے اور اس کے بننے سے صنعتوں کا ایک جال بچھ جائے گاکیونکہ خیبرپختونخوا گوادر سے نزدیک ترین ہونے کی وجہ سے اس کی حیثیت نمایاں ہو گئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر مواقع سے بہتر طور پر فائدہ اٹھایاگیا بہتر منصوبہ بندی کی گئی خاص طور پر امن و امان کی صورتحال تسلی بخش رہی تو سی پیک سے صوبہ اگلے دس سالوں میں انڈسٹریل سٹیٹ میں تبدیل ہوجائیگا۔اس امر کے ادراک کے طور پر صوبائی حکومت کی منصوبہ بندی اور اقدامات تسلی بخش دکھائی دیتے ہیں ۔صوبائی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے یوتھ پالیسی سمیت جواں مرکز، انٹرپرینیور شپ اور دیگر پروگرامز تشکیل دیئے ہیںجن کوتمام اضلاع تک وسعت دینے کویقینی بنانے کا عندیہ دیاگیا ہے۔ گوکہ خیبر پختونخوا کو سی پیک سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کے مواقع نہیں دئیے گئے لیکن خیبر پختونخوا کو جو حصہ ملاہے اگر پوری منصوبہ بندی اور تیاری کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھایا جائے تو صوبے میں تعمیر و ترقی‘ کاروباراور روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ سی پیک کے طویل المدتی منصوبوں کے اعلان کے بعد سی پیک معاہدے کے مزید ثمرات و امکانات سامنے آئیں گے جس کی روشنی میں مزید اقدامات اور منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔

متعلقہ خبریں