Daily Mashriq

فاٹا اصلاحات‘ مزید وقت ضائع نہ کیا جائے

فاٹا اصلاحات‘ مزید وقت ضائع نہ کیا جائے

قومی اسمبلی میں دوسرے روز بھی حکومت کی جانب سے فاٹا اصلاحات کا بل پیش نہ کرنے کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں کا فاٹا بل پیش ہونے تک قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ حکومتی رویے اور اعلان کے باوجود ایجنڈے سے نکالنے اور دوبارہ شامل نہ کرنے کے رویے کے خلاف تنگ آمد بجنگ آمد کا مصداق عمل ہے جو پہلے سے مشکلات کا شکار حکومت کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا جبکہ اس رویے کی حامل حکومت کے لئے سینٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق بل کی منظوری تقریباً نا ممکن ہوگئی ہے۔ فاٹا اصلاحات کامعاملہ حکومتی رویے کے باعث اب اور الجھتا دکھائی دے رہا ہے اور حکومت کی غلطیوں میں ایک اور غلطی کا اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو فاٹا اصلاحات کے معاملے پر اتفاق رائے ہے اور بعض جماعتیں اس ضمن میں اسلام آباد کا رخ کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔ حکومت کی اس معاملے میں مشکلات میں گھرنے کی ذمہ دار ان کی دو اتحادی جماعتیں بن گئی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی تو فاٹا اصلاحات کی مخالفت سیاسی بنیادوں پر ہے تو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی فاٹا کے انضمام کی مخالفت کا تاریخی پس منظر ہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ حکومت کی ہر معاملے پر ہاں میں ہاں ملانے والی ان دونوں جماعتوں کا موقف فاٹا اصلاحات بارے مخالفانہ بھی ہے اور حکومت ان کے سامنے مجبور بھی دکھائی دیتی ہے لیکن بہر حال حکومت ہی سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی جس کے خلاف جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سمیت پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرکے موثر حزب اختلاف کا کردار بخوبی ادا کر رہی ہیں۔ جماعت اسلامی نے فاٹا انضمام اور ایف سی آر کے خاتمے کے لئے ماہ رواں کی آخری تاریخ تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے جس کے بعد اسلام آباد جاکر طویل دھرنا دینے کا پروگرام ہے جبکہ دوسری جانب جے یو آئی نے فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کے لئے تحریک چلانے کا عندیہ دیا ہے اور فیض آبادمیں قوت کے مظاہرے کا بھی اعلان کیا ہے۔ قبائلی علاقہ جات کے مستقبل کے سوال پر اگر کسی کو اعتراض کرنے کسی فیصلے کو تسلیم کرنے یا اس کی مخالفت کرنے کا حق ہے تو وہ قبائلی عوام ہیں لیکن یہاں مدعی سست گواہ چست والی صورتحال ہے جس کے باعث فاٹا دو ملائوں میں مرغی حرام کی کیفیت کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کا فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر کیا جائے حکومت اپنے اتحادیوں کے پیچھے چھپنے کی بجائے واضح اور فیصلہ کن رویہ اختیار کرے اور فاٹا کے عوام کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ فیصلہ کرکے اسے قومی دھارے میں شامل کرنے میں مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔
سی این جی سیکٹر کی گیس منقطع کی جائے
خبیر پختونخوا کے صنعتی و گھریلو صارفین کو گیس کی شدید قلت اور لوڈ شیڈنگ کا شکار بنانے پر صنعتی و عوامی حلقوں کا احتجاج قابل توجہ اور سنجیدہ معاملہ ہے ۔ دستور پاکستان کے تحت قدرتی وسائل بجلی و گیس وغیرہ پر پہلا حق اس صوبے کا ہے جہاں اس کے ذخائر ہیںاور اسکی پیداوار ہوتی ہے ۔ بجلی اور گیس دونوں ہی کی خیبر پختونخوا میں بڑی پیداوار ہوتی ہے مگر اس سے یہاں کے عوام کو محروم رکھا جارہاہے ۔ گرمیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث یہاں کے عوام میں احساس محرومی بڑھنا فطری امر ہے جس کی چنداں پرواہ نہ کرنے کا عمل دستور پاکستان کی خلاف ورزی اور یہاں کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے جس کی وفاق کی ایک اکائی میں گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ حیات آباد فیز 6ایف 9اور دیگر فیز کے مکینوں کا اس امرپر احتجاج بلاوجہ نہیں۔ ان کو شکایت ہے کہ حیات آباد کے ان سیکٹرز کا گیس پریشر کم کر کے سی این جی سیکٹر کومنتقل کیا گیا ہے ۔ اسی طرح بابو گڑھی‘ دارمنگی ، ورسک روڈ ‘بہاری کالونی اور دیگر مختلف علاقوں کے مکینوں نے بھی احتجاج کی دھمکی دے دی ہے ۔ خیبر پختونخوا میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کامسئلہ دیگر سالوں کے مقابلے میں امسال زیاد ہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جس کے خلاف عوامی ردعمل کا بروقت ادراک کرتے ہوئے اصلاح احوال کی سعی نہ کی گئی تو عوام کے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کو روکنا مشکل ہوگا ۔ صوبائی حکومت کو صوبے کے عوام سے اس نا انصافی کا نوٹس لینا چاہیئے اگر گھریلواور بعد ازاں صنعتی صارفین کو گیس کی سپلائی پوری نہیں ہوتی تو سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی بند رکھی جائے تاکہ گھریلواور صنعتی صارفین کو گیس ملے ۔ حیات آباد میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی بڑی وجہ رنگ روڈ پر موجودہ درجنوں سی این جی سٹیشنز کی موجودگی ہے جن کے گیس چوری میں ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے ان سی این جی سٹیشنوں کے باعث گیس پریشر میں کمی فطری امر ہے اگر ان سی این جی سٹیشنز میں دن کے اوقات میں فلنگ بند کرائی جائے تبھی گھریلو صارفین کو گیس کی سہولت میسر آسکے گی ۔ سوئی گیس کے محکمے کو غیر قانونی پریشر پمپ لگانے والوں کے خلاف خاص طور پر کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ تمام لوگوں کو گیس کی سہولت میسر آسکے ۔

اداریہ