Daily Mashriq

بحرانی کیفیت اور سیاست

بحرانی کیفیت اور سیاست

ملک میں بحران در بحران کی کیفیت واضح ہوتی نظر آ رہی ہے۔ فوری تشویش ڈالر کے یکایک مہنگا ہونے یعنی روپے کی قدر میں کمی پر ہے۔ گزشتہ چند دن کے اندر ڈالر کی قیمت 110روپے تک پہنچ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں سبھی لوگ یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ہفتے دس دن میں مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے عوام میں اضطراب پھیلے گا اور احتجاج ہوں گے۔ ایک جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ سی پیک کے تحت لگنے والے کارخانوںکیلئے مشینری بھاری مقدار میں درآمد کی جا رہی ہے اس لیے ڈالر کی مانگ بڑھ گئی ہے اور وہ بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ لیکن سی پیک کے لیے مشینری کی درآمد ایک ہفتہ پہلے نہیں شروع ہوئی یہ منصوبے تو بڑی دیر سے زیرِ عمل ہیں۔ دوسرا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ملک میں کوئی وزیر خزانہ ہی نہیں ہے۔ اسحاق ڈار علالت کے جواز پر تین ماہ کی چھٹی پر ہیں۔ لیکن اسحاق ڈار تنہا تو وزارت خزانہ نہیں ہیں۔ وزارت خزانہ ان کی مرتب کی ہوئی پالیسی پر چل رہی ہے۔ وزارت خزانہ کا کام اسحاق ڈار کی عدم موجودگی میں کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود سنبھالے ہوئے ہیں۔ تو کیا یہ فرض کر لیا جائے اسحاق ڈار بیمار ہو جائیں تو ملک کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ وزارت خزانہ میں کچھ ذمہ دار لوگ ہوں گے ‘ انہیں وزارت سے باہر بھی مشاورت ملتی ہو گی۔ لیکن اسحاق ڈار ہوں یا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ان کی قوت محرکہ تو مسلم لیگ ن اور اس کے صدر میاں نواز شریف ہیں۔ اس بحران سے بچنے کی صورت کیا ہو گی اور وہ کب نظر آئے گی، یہ نہیں بتایا جا رہا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ڈالر کی قیمت مارکیٹ فورسز خود تعین کر یں گی تو پھر وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک سے کیا توقع رکھی جائے۔ معیشت کے بارے میں جانکاری کے حوالے سے جانے پہچانے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈالر کی قیمت مزید بڑھے گی اور 120روپے تک جا سکتی ہے۔ تو اس کے نتیجے میں مہنگائی کتنی بڑھے گی؟ اس سے پیدا ہونے والا عوامی اضطراب اور احتجاج کہاں تک جائے گا اور سیاست پر یہ احتجاج کس طرح اثر انداز ہو گا؟ بعض سادہ لوح لوگ یہ کہتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ نہ میاں نواز شریف نااہل ہوتے نہ حالات میں اس قدر خرابی پیدا ہوتی ۔ لیکن یہ بھولے بھالے شہری اس طرف متوجہ نہیںہوتے کہ میاں نواز شریف تو اب بھی سرکاری عہدے پر نہ سہی مسلم لیگ ن کے سیاسی عہدے پر فائز ہونے کے باعث حقیقی حکمران ہیں۔ حکومت ان کی پارٹی کی ہے اور حکومت کے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اصلی وزیر اعظم تو اب بھی میاں نواز شریف ہیں۔ کیا مسلم لیگ ن کی حکمت عملی آئندہ انتخابات میں ان ووٹروں کو آواز دینے کی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں بحرانی کیفیت نواز شریف کی نااہلی اور اسحاق ڈار کی غیر حاضری کی وجہ سے پیدا ہوئی؟ اگر ایسا ہے تو یہ حکمت عملی ن لیگ کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ ن لیگ نے آئندہ انتخابات کے لیے بہت زیادہ توجہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی کامیابی حاصل کرنے پر صرف کی ۔ عین سخت سردی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ پورا کرنے کا کریڈٹ لیا جب نہ پنکھے چلتے ہیں ‘ نہ فریج‘ نہ ایئر کنڈیشنر۔ بجلی پیدا کی گئی تو ایندھن جلا کر ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز جھنگ میں بجلی پیدا کرنے کے کارخانے کا افتتاح کیا جو گیس سے بجلی پید اکرے گا۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ تو پنجاب کے بیشتر علاقے چھوٹے صوبوں کے کچھ علاقوں میں ختم ہو گئی لیکن گیس چولہوں سے غائب ہو گئی ۔ ن لیگ کی حکومت نے میاں نواز شریف کا بلب روشن کرنے کا وعدہ تو بیشتر علاقوں میں پورا کر دیا لیکن گیس فراہم کرنے کا وعدہ کون کرے گا اور پورا کرے گا؟ میاں نواز شریف نے فاٹا کو قومی دھارے میں لانے اور وہاں کے عوام کو پاکستان کے دوسرے شہریوں کے برابر حقوق کا وعدہ کیا ۔یہ کام صدر جنرل مشرف اورپیپلز پارٹی کی حکومتیں ایف سی آر میں ترامیم کے باوجود نہیں کر سکی تھیں ۔ انہوں نے خود سرتاج عزیز کمیٹی اس کام پر مامور کی ۔ اس کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور خود میاں نواز شریف کی ہدایت پر اس سے قبل کہ اس پر بحث شروع ہو سکتی یہ بل واپس لے لیا گیا۔ اب دو سال کے بعد جب ن لیگ کی اتحادی جمعیت العلمائے اسلام اور خیبر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سوا فاٹا کے ارکان اسمبلی اور دیگر ساری سیاسی جماعتوں کی حمایت اس بل کو حاصل ہے ایک بار پھر اسے اس روز قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے خارج کر دیا جس روز یہ بل پیش ہونے والا تھا۔ اس بدعہدی کی وجہ سے ایک اور بحران سر پر کھڑا نظر آتا ہے۔ جماعت اسلامی کا دھرنا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شروع ہو چکا ہے ۔ عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فاٹا کے عوام کو احتجاج کیلئے اسلام آباد لائیں گے۔ انتخابی اصلاحات کے قانون میں ختم نبوت کے حوالے سے متنازع شق کی شمولیت کے بارے میں اگر میاں نواز شریف میاں شہباز شریف کا مشورہ مان لیتے اور وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ لے لیتے تو حالات نہ بگڑتے ۔ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے حلقہ بندیوں کے سوال پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اگرچہ اختلافات ہیں تاہم اخبارات یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اندرون خانہ دونوں جماعتوں میں مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن حلقہ بندیوں کی بجائے نگران حکومت کے بارے میں۔ اگر نگران حکومت طویل مدت تک برقرار رہتی ہے تو لوگ مسلم لیگ ن کو بھول کر ساری مشکلات کا حل نگران حکومت سے طلب کریں گے۔ ن لیگ ذمے دار اور جوابدہ حکومت کی بجائے احتجاج کرنے والی پارٹی ہوگی۔ ن لیگ کو یہ توقع ہو گی کہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے مقابلے میں نشستیں جیت سکے گی تو یہ سوچ بھی ن لیگ کے لیے فائدہ مند نہ ہو گی۔ یہ اور بات ہے کہ ’’کھیڈاں گے ناں کھیڈن دیاں گے‘‘ جس کی طرف سعد رفیق اشارہ کر چکے ہیں۔ 

اداریہ