سرخ لائن‘ امریکہ اور اسرائیل

سرخ لائن‘ امریکہ اور اسرائیل

پشاور کے خواجہ سراء جان کی امان چاہتے ہیں۔ ان کو قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان میں سے بہت سے قتل بھی کئے جا چکے ہیں۔ اللہ خبر میں انہیں بے چارے کہوں یا بے چاریاں۔قتل تو وہ اس ہی روز ہوچکے تھے جب وہ اس دنیا میں آئے تھے

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
کتنا صادق آتا ہے غالب کی غزل کا یہ مصرعہ ، ان بے چاروں یا بے چاریوں پر۔ان کے ہونے نے انہیں ڈبو ڈالا۔ دکھوں اور محرومیوں کے الاؤ جلتے رہے ان کے اندر مگر پھر بھی وہ ہنستے مسکراتے، اور دل والوں کے دل لبھاتے رہے۔ لوگوں کی خوشیوں میں ناچتے رہے۔ انہیں دنیا والوں نے مخنث کہا، خنثیٰ کہا،خسرہ اور ہیجڑہ کہہ کر پکارا مگر انہوں نے کسی کی بات کا برا نہ منایا۔ ان کی ادائے دلبرانہ کو دیکھ کر بیتے دنوں کے شہنشاہوں نے انہیں اپنے محل سرا ؤںکی زینت بنایا اور خواجہ سرا کا لقب دیا۔ اس لقب نے بڑی عزت اور تکریم بخشی خواجہ سراؤں کو ۔ مردوے نہیں تھے وہ جو، ان سے پردہ کیا جاتا۔ خسرے تھے نا، نسوانی خوا ہشات سے آزاد ۔ کہتے ہیں کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریزوں نے مغلیہ سلطنت کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرنے کے بعد یا اس سے پہلے توپ و تفنگ کا ستعمال کیا تو خواجہ سراؤں نے تالیاں بجا بجا کر کہنا شروع کردیا کہ ’’ہائے ہائے فرنگی ، جا تیری توپوں میں کیڑے پڑیں‘‘۔ سنا ہے ان کی بد دعا تیر بہدف ثابت ہوتی ہے لیکن بہادر شاہ ظفر کے معاملے میں ایسا نہ ہوسکا۔ انگریز لوگ ان کو گرفتار کرکے رنگون لے گئے۔ بہادر اور ظفر المظفر جیسے نام والے اس شہنشاہ نے رنگون میں پڑے قیدی کی حیثیت سے اپنی زندگی کے آخری ماہ و سال گزارے وہیں وفات پائی لیکن اس فانی دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کہہ گئے کہ
کتنا ہے بد نصیب ظفر کہ دفن کے لئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یا ر میں
جب میں نے لاہور کے شاہی قلعے میں آویزاں بہادر شاہ ظفر کی قیمتی موتیوں او ر گہنوں سے لدھی پھندی تصویر دیکھی تو دل ہی دل میں ان کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہنے لگا ان جیسے مبتلائے عشرت بادشاہوں پر عیار فرنگی فتح نہ پاتا تو کیا کرتا۔ خواجہ سراؤں کو اپنے محلات کی زینت بنانے والے مغل فرماں روا صدیوں تک تیمور اور بابر کو کیش کرکے برصغیر پر حکمرانی کے مزے لوٹتے رہے۔ ہیجڑوں یا مخنثوں کو خواجہ سرا کا لقب بھی مغلیہ عہد سلطنت میں ودیعت ہوا۔ تیسری جنس سے تعلق رکھنے والی اس مخلوق کا تذکرہ رامائن اور مہا بھارت میں بھی بڑے ادب اور احترام سے لکھا ملتا ہے ۔ اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ذہانت و فطانت کے علاوہ جرأت و بہادری میں بھی کسی سے کم نہیںتھے۔ تاریخ میں ہمیں ملک کافور نامی خواجہ سراء کا نام ملتا ہے، جو علاء الدین خلجی کی فوج کا سپہ سالار تھا اس کے علاوہ بنگال کے خواجہ سرا فرمان روا’ ببرک شاہ‘ کے متعلق جان کر ہمیں حیرت ہوتی ہے ، آج کا خواجہ سرا نہ بادشاہ ہے اور نہ بادشاہوں کا مصاحب اورنہ ہی شہزادیوں کے ناز اٹھانے، دل لبھانے اور انعام پانے والا محلاتی سازشوں کا کوئی کردار۔ اس نے تالیاں بجا بجا کر فرنگیوں کو توپوں میں کیڑے پڑنے کی بد دعا کیا دی ،برطانوی سامراج کو اپنا پکا دشمن بنا دیا اور یوں گوروں نے اپنے دور اقتدار میں ان پر کڑی پابندیاں لگا دیں۔ رہی سہی کسر جنرل ضیاء کے دور میں پوری ہوئی اور یوں مردوں اور عورتوں کے درمیان سینڈوچ بنی مالک کن فیکون کی یہ بے بس و لاچار مخلوق بھیک مانگنے ، دعائیں بیچنے اور رزق روٹی کے لئے اخلاق باختہ حرکتیں کرنے پر مجبور ہوگئی اور اس طرح’ منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لئے‘ کے مصداق ہر طبقہ فکر کے زن ومرد اس پر ؎ حقارت ونفرت کی پھٹکار ڈالنے لگے ۔ فرنگی راج کے ظلم و ستم کے بعد ڈر اور خوف ان کی نس نس میں جاگزیں ہوگیا۔ ان کا جینا تو جینا مرنا بھی عذاب بن گیا۔ جب ہی ان میں سے اگر کوئی نازک اندام داعی اجل کو لبیک کہتا ہے تو یہ لوگ لاش کو چھپا لیتے ہیں اور رات کی تاریکی میں روتے دھوتے اسے سپرد گور کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ کتنے بد نصیب ہیں یہ جنہیں اپنے ماں باپ ہی گھر کے کسی کمرے میں بند کرتے رہے تاکہ کسی کو ان کے ہونے کا علم نہ ہو سکے ۔اور پھر جب ان کی خواجہ سراؤں جیسی حرکتیں عام ہونے لگیں تو لوگوں کی انگلی اٹھنے کے خدشے کے پیش نظر ان کے ماں باپ ہی نے انہیں ہاتھ سے پکڑ کر گھر سے نکال باہر کردیا۔ مرتے کیا نہ کرتے وہ کسی گرو گنٹھال کے ڈیرے پر پہنچے جو انہیں
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے مگر
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
کے گر سکھانے لگا۔ اور پھر یوں ہوا کہ سماجی جانوروں کے اس پر خطر جنگل میں، انہیں بھیڑئیے نما اوباش مردوں سے بھی پالا پڑا ، انہوں نے چیخنے چلانے ، رونے دھونے یا سسکنے سلگنے کی بجائے دل بہلانے والوں کے دل لوٹنے شروع کردئیے ۔ لوٹتے رہے ، لٹتے رہے اور کٹ کٹ کر مرتے رہے۔ ایک اطلاع کے مطابق گزشتہ دنوں صرف صوبہ خیبر پختون خوا میں درجنوں خواجہ سرا قتل کئے جاچکے ہیں ۔ کتنی بھیانک ہے یہ خبر لیکن اس سے بڑھ کر بھیانک ہے وہ خاموشی جو مہر بلب کئے ہوئے ہے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ۔وہ جو کہا ہے عدیم ہاشمی نے
شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
وہ خاموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا دیتا ہے

اداریہ