یہ کونسی سودے بازی ہے؟

یہ کونسی سودے بازی ہے؟

پاکستان کو ایک عرصے سے سی پیک کے خواب دکھائے جا رہے ہیںروپہلے سپنے جنہیں دیکھنے کے بعد ہمیں اپنے ارد گرد کی گدلی‘ اندھی حقیقت دکھائی دینی بند ہوجاتی ہے۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آنکھیں کھولیں گے تو ہمارے سامنے کی ٹوٹی دیواریں اچانک ہی سونے کی اینٹوں سے مرمت ہو جائیں گی۔ وہ پژ مردہ اداس رستے جو ہماری معیشت کی آنکھوں کی مردنی کا شکار ہو کر ہمارے پیروں میں پڑے رہتے ہیں اچانک ہی سی پیک کے روپہلے لمس سے زندہ ہو کر ہمارے سامنے آکھڑے ہوں گے۔ کون جانے اس سی پیک کی مٹھی میں ہمارے لئے کونسے سنہرے دن بند ہیں‘ مٹھی کھلے گی تو ہمارے سامنے خوبصورت پر پھیلائے اڑتے پھریں گے۔ یہ کمال منظر دیکھنے کو تو اس ملک کے لوگ پل پل کرکے وقت گزار رہے ہیں کہ کب یہ سب سچ ہوگا۔ وہ کونسا دن ہوگا جب ہمیں یہ حقیقت دیکھنی نصیب ہوگی۔ اسی بات کا اصرار تھا تبھی تو لوگ جناب احسن اقبال سے پوچھتے تھے کہ ان کے چینیوں سے جو معاملات طے پا رہے ہیں ان کے چہرے سے پردہ اٹھائیں‘ کوئی خوبصورت منظر اس قوم کو بھی دکھائیں۔ لوگوں کی اسی خواہش کو پورا کرتے ہوئے وزیر برائے ترقیاتی منصوبہ بندی جناب احسن اقبال نے جون میں وعدہ کیا تھا کہ وہ دسمبر میں سی پیک کے طویل المیعاد پلان کو عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ اب اس کے لئے تاریخ کا اعلان بھی کیا جا چکا کہ 18دسمبر کو اس سنہرے خواب کی نقاب کشائی ہوگی۔ اس نقاب کشائی سے پہلے جناب احسن اقبال ہمیں یہ بھی سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سی پیک کی شکل میں چینی ہماری وہ امداد کر رہے ہیں جو افغان جنگ میں مدد کے عوض در اصل امریکیوں اور یورپی ممالک کو پاکستان کی کرنی چاہئے تھی اور انہوں نے ایسا کچھ بھی نہ کیا۔ الٹا پاکستان کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ جناب احسن اقبال کو یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ دراصل اس وقت کے لوگوں میں ایسی کمال بصیرت بھی نہ تھی کہ وہ اس جنگ کے ثمرات اس صورت حاصل کرسکتے۔ یقینا ہم احسن اقبال صاحب کی شخصیت ان کی بصیرت اور حکمت عملی ترتیب دینے پر ان کے عبور سے بہت متاثرہیں لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کونسی جنگ ہے جو ہم چین کے لئے لڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں سودے بازی کا نام سی پیک رکھا گیا ہے۔ اگر ہم چین اور امریکہ کے درمیان عالمی طاقت ہونے کی کھینچا تانی میں چین کے مدد گار ہو رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنے اصل کردار سے اور اس کی پوری قیمت سے بخوبی واقف ہیں یاہم سے کہیں کوئی ایسیکوتاہی تو نہیں ہورہی جس کے نتیجے میں آنے والے سالوں میں کوئی انتہائی مدبر اور ایسا ہی کمال رکھ رکھائو والا وزیر انتہائی خوبصورتی سے اس بات کا اظہار بنا نام لئے کر جائے کہ دراصل ہم اپنی خدمت کی اصل قیمت وصول کرنے سے قاصر رہے تھے۔ ہم یہ تو یقینا دیکھ رہے ہیں کہ سمندروں میں امریکی بحری بیڑی کی موجودگی کہا ہے اور چین پر کس کس طور اثر انداز ہوسکتی ہے۔ چین کا اس بحریبیڑے کے شر سے آذاد ہو جانے کا سکون محسوس کرنے کی اصل قیمت کیا ہے ۔ کیا واقعی وہ اتنی کم ہے کہ ہم سی پیک میں طویل المیعاد قرضے اٹھا رہے ہیں اور کیا ان میں سے کسی بھی بات کی ایسی کوئی قیمت نہ تھی جس کے نتیجے میں پاک چین دوستی کے مضمرات تحفوں کی صورت میں واضح ہوتے اور ان کی قیمت کی ادائیگی سے پاکستان جیسے کمزور معیشت کے ملک کو باز رکھا جاسکتا۔کیا اس بحری بیڑے کے علاوہ بھی اس زمینی راستے کا چین کو کوئی فائدہ ہونے والا ہے۔ گوادر کی گہری بندر گاہ کیا چین کو مشرق وسطیٰ کی منڈیوں سے بلا واسطہ متعلق نہیں کرتی۔ صرف بات تیل کی ترسیل تک ہی موقوف ہوتی اور امریکی بحری بیڑے کی موجودگی میں وہ راستہ جو بذریعہ پانی چین کا تیل لے کر آتا ہے بند ہوسکنے کے خوف سے آزادی ایک طرف ‘ مشرق وسطیٰ سے بذریعہ گوادر سے خنجراب اور پھر چین تک اس معدنی تیل کی رسائی کس قدر کم قیمت پر ممکن ہوگی۔ یہ دیکھنا اور سمجھنا بھی بہت ضروری تھا۔ قیمت میں جس قدر کمی ہم چینی قوم کے لئے کرنے کا باعث بن رہے ہیں اس کو آدھا ہی تحفتاً کسی پن بجلی گھر کی شکل میں وصول کرلیتے تو کیا مناسب نہ ہوتا۔ ہم نے تو کمال یہ کیا کہ ملک میں کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانے لگانے کے معاہدے کرلئے تاکہ آلودگی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو اور چین کے فارغ کردہ انہی جیسے کارخانوں کی مشینری کی پاکستان میں کھپت بھی ممکن ہوسکے۔ احسن اقبال کی علمیت اور حکمت عملی پر عبور کی تو میں بھی دلدادہ ہوں لیکن جانے کیوں سی پیک کو دیکھوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جناب احسن اقبال کچھ بات چھپا رہے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے فیض آباد چوک کے دھرنے کے حوالے سے وہ باتیں چھپاتے رہے اور آخر میں کئی باتوں سے بالکل منکر ہوگئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عوام کی اکثریت کو یہ باتیں معلوم ہی نہ تھیں۔ 18دسمبر کو جن معاہدوں اور منصوبوں سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے ان میں کیا کیا باتیں کی جائیں گی اور کیا چھپائی جائیں گی یہ معاملات تو اپنی جگہ لیکن احسن اقبال سے درخواست ہے چند بنیادی باتوں کا خیال ضرور کریں جن میں سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے ہی فیصلوں کو مستقبل کے کسی دوست کی نگاہ سے دیکھیں۔ کہیں سی پیک کا سنہرا خواب یونانی دیو مالائی کہانیوں کے اس سمندری کردار Siren جیسا ثابت نہ ہو جو سمندر میں سفر کرنے والے ملاحوں کو اپنے حسن اور موسیقی سے متاثر کرتی تھیں اور انہیں کسی قریبی چٹان یا پتھریلے ساحل کی طرف مسحور کرکے لے جاتی تھیں جہاں ان کی کشتیاں یا جہاز ڈوب جایا کرتے تھے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

اداریہ