Daily Mashriq

غافل ہونے کو یہ بہانہ کافی ہے

غافل ہونے کو یہ بہانہ کافی ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا معلومات کے اچھے ذرائع ہیں۔اگر ہم موجودہ دور میں موبائل ، کیبل ، انٹر نیٹ اور میڈیاکا استعمال دیکھیں تو یہ جوان بچوں بچیوں میںجنون کی حد تک مقبول ہیں ۔بچوں کو گمراہ کرنے کے لئے مختلف موبائل فون نیٹ ورک کمپنیوں نے مختلف پیکیجز متعارف کئے ہیں، جسکا مقصد نہ صرف ایک غریب قوم کے خون پسینے کی کمائی فضول کاموں میں صرف کرنا بلکہ ایک جوان نسل کو ناکارہ کر نا،گمراہ کرنا ہے۔ ساری ساری رات بچے اور بچیاں ۱۰ ، ۱۰ اور ۲۰ ،۲۰ روپے کا لوڈ لیکر فضول باتوں میں مشغول رہتے ہیں۔اب تو یہ خد شہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہماری نئی نسل کونعوذ باللہ ہمارے رول ماڈل ،جن میں ہمارے صحابہ کرامؓ ولی اللہ اور دوسری بر گزیدہ شخصیات شامل ہیں کاکوئی علم نہیں ہو گا ، کیونکہ بچوں کو موبائل فونز، انٹر نیٹ، کیبل اور میڈیاسے فُرصت ہوگی تو وہ مذہب اور رول ما ڈل کے حالات زندگی ،افکار وسوچ کی طر ف آئیں گے۔ یہ میر ا مشا ہدہ ہے کہ ہمارے 60 فی صد مسلمانوں کو نماز اور 95 فی صد کو نماز جنازہ کا پتہ نہیں۔اور اگر ہم اسی رفتار اور تیزی سے موبائل اورانٹر نیٹ کے ساتھ مشغول رہیں گے تو وہ وقت جلدی آنے والا ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہوں گے اور ہمیں اپنے مذہب، اسلاف، رول ماڈل، تہذیب ، تمدن اور ہمارے بڑوں کے کارناموں کا کوئی پتہ نہیں ہو گا ۔ ہمارے ملک کے عوام خواہ اُنکا تعلق کسی صوبے اور علاقے سے ہے، انتہائی اچھے، با اخلاق، حیاد ار اور اپنی مشرقی اور اسلامی تہذیب اور تمدن کی حفاظت اوراس پر عمل کرنے والے ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے ریاستی ادارے ، اس ملک کے چند فی صد حکمران ،جن کی باگ ڈور امریکہ، یو رپ اور یہودیوںکے ہاتھوں میں ہیں ، ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت آزاد خیالی کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ انکی کو شش ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے میڈیا اور ابلا غ عا مہ کے دوسرے ذرائع سے اُنکی اخلاقی قدروں اور ثقافت کو ختم کیا جائے۔ اور جس معاشرے کے باسی اخلاقی قدروں ، اپنی تہذیب اور ثقافت کو کھو دیتے ہیں وہ معاشرہ پہلے کھوکھلا اور اسکے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ جس معا شرے میں اخلاقی قدریں نہیں ہوتیں وہاں انسان انسان نہیں ،حیوان بن جاتا ہے ۔حضورر ﷺ کے دور مبارک میں کافر اُنکے اخلاق سے پہلے متا ثر ہو کر اسلام قبول کر لیتے اور بعد میں اسلام کے بارے میں جاننا ا ور سمجھنا شروع کر لیتے۔حیوان اور انسان میں یہ فرق ہے کہ حیوان تہذیب، تمدن اور کلچر سے عاری ہو تا ہے جبکہ اس کے بر عکس اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلو قات اسلئے کہا ہے کہ وہ اخلاقیات ، تہذیب تمدن اور دنیاوی رہن سہن کے طور طریقوں سے آراستہ ہو تا ہے ۔ اگر ہم اپنے اسلامی معاشرے میں دیکھیں تو ماں بہن بھائی بیٹے اور بیٹی کے درمیان ایک احترام کا پر دہ ہے ۔ مغرب اور خا ص طور پر اسلام سے خوف کھانے والے اور ہمارے معا شرے کے روشن خیال اسی کو شش میں ہیں کہ رشتوں کے تقدس اور ماں ، باپ بیٹے اوربہن بھائی کے درمیان جو رشتوں کا احترام ہے اس کو میڈیا کی یلغار سے ختم کیاجائے تاکہ ایک مسلمان اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہ رہے۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے ٹی وی ڈرامے، فلم، سٹیج اور ریڈیو پرو گرام ہمیں کیا دکھانے کی کو شش کرتے ہیں ۔ کیا ڈرامہ اور فلم بنانے والوں کے پاس محبت اور جنسی مو ضو عات کے علاوہ اور کوئی ٹاپک نہیں ۔ یہ بات میری سمجھ اور سوچ سے باہر ہے کہ یہ لوگ ہمیں اپنے ڈراموں اور فلموں میں کس کی ثقافت ، تہذیب اور تمدن دکھا رہے ہیں۔ جہاں تک انٹر نیٹ کا تعلق ہے تو میرا خیال نہیں کہ بچوں کو ایم اے، ایم ایس سی سے پہلے اسکی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ گریجویشن لیول تک اگر بچے اپنی ٹیکسٹ بُک پڑھ لیں تو بڑی بات ہوگی۔ 1898 میں سوئٹزر لینڈ کے شہر بال میں300یہودی دانشوروں، مفکروں، فلسفیوں نے ہر نزل کی قیادت میں جمع ہو کر پوری دنیا پر حکمرانی کا منصوبہ تیار کیا۔ یہ منصوبہ 19 پروٹو کولز کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے کافی پہلے آچکا ہے۔ اس منصوبے کو یہودی دانشور وں کی دستا ویز بھی کہا جاتا ہے ۔ اس پو رے منصوبے میں 30 یہودی انجمنوں کے ذہین ترین لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اس دستا ویز میںذرائع ابلاغ کو مسلمانوںکے خلاف استعمال کر نے کے لئے بنیادی اہمیت دی گئی ہے ۔ یہودی کہتے ہیں ہم میڈیا کے سر کش گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگ کو اپنے قبضے میں رکھیں گے، اپنے دشمنوں کے قبضے میں کوئی ایسا موثر میڈیا نہیں رہنے دیں گے کہ وہ اپنی ر ائے کو موثر اور طاقت ورطریقے سے ظاہر کر سکیں ،نہ ہی ہم ان کو اس قابل رکھیں گے کہ ہماری نگا ہوںسے گزرے بغیر کوئی خبر سماج تک پہنچ سکے۔ہم ایسے میڈیاکی سر پرستی کریں گے جو معا شرے میں انتشار و بے راہ روی اور جنسی و اخلاقی انارکی پھیلائیں گے اور استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مدا فعت اور حمایت کریں گے۔

اداریہ