سرخ لائن‘ امریکہ اور اسرائیل

سرخ لائن‘ امریکہ اور اسرائیل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران القدس کے مسئلے کو وہائٹ ہاؤس پہنچنے کے لیے ایک پتے کے طور پر استعمال کیا تھا، انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اسرائیل سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر بنے تو القدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر قبول کر لیں گے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرا دیں گے ، یوں امریکی صدر ٹرمپ نے منصب صدارت پر فائز ہونے کے صرف ایک سال کے بعد انتخابی وعدہ پورا کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے اس احمقانہ اقدام کی پوری مسلم دنیا میں مخالفت کی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ فراست‘ بصیرت اور مطلوبہ سفارتکاری کے عناصر سے بالکل عاری ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ نے فلسطینی ‘اسرائیلی امن عمل میں خود کو واحد سرپرست کی حیثیت دے رکھی تھی۔ صدر ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے کے بعد امریکہ کی اسرائیل نوازی اور اسرائیل کے ساتھ جانبداری طشت از بام ہو گئی ہے۔ فلسطین کے موجودہ تنازع کو سمجھنے سے پہلے فلسطین کی مختصر تاریخ جاننا ضروری ہے۔ 1901ء میں فلسطین خلافت عثمانیہ کی ماتحتی میں تھا۔ برٹزل (یہودی) نے ترکی خلیفہ سلطان عبدالحمید کو لالچ دیا کہ آپ فلسطین میں یہودیوں کی مملکت کے قیام کی اجازت دے دیجئے ‘اس کے بدلے میں یہودی ترکی کا سارا قرضہ چکا دیں گے۔ لیکن سلطان عبدالحمید نے نہ صرف یہ کہ ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا بلکہ ان کی غیرت ایمان جوش میں آ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وطن کی ایک بالشت زمین بھی اس وقت تک نہ دیں گے جب تک اس پر ہمارا خون نہ بہہ جائے۔ یہو دی اس بات پر سلطان کے مخالف ہو گئے اور ایک سازش کے ذریعے ان کو معزول کر دیا گیا ۔ بالآخر 1917ء میں یہودیوں نے برطانیہ کے ساتھ خفیہ ساز باز کی اور یہودیوں کی طرف سے جنگ کا سارا خرچہ اُٹھانے کے عوض اسرائیلی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔ یہودیوں اور برطانیہ کے درمیان اس خفیہ معاہدے کو ’’اعلان بالفور‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 1917ء میں فلسطین کی یہودی آبادی 56ہزار تھی لیکن ’’اعلان بالفور‘‘پر عمل ہونے کی وجہ سے 1921ء میں یہودی آبادی 83ہزار تک پہنچ گئی اور بڑی تیزی کے ساتھ فلسطین میں یہودی آباد ہونے لگے۔ 1922ء سے 1947ء کا زمانہ وہ دور ہے جس میں یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا کام منظم طور پر کیا جاتا رہا اور فلسطین کی زمین خریدنے کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے جاتے ہیں اور یہودیوں کی آبادی چار لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ 1947ء میں برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں پیش کر دیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کردیا۔ اور فلسطین کا 55فیصد رقبہ یہودیوں کو جب کہ 45فیصد رقبہ عربوں کو دے دیا۔ یہ تقسیم بالکل ظالمانہ تھی کہ عربوںکی زمین بلا کسی وجہ کے زبردستی یہودیوں کو دے دی گئی تھی۔ عرب اس تقسیم سے راضی نہ تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہودی بھی اس تقسیم سے راضی نہیں ہوئے۔ چنانچہ یہودیوں نے لڑائی کے ذریعے فلسطین کی باقی زمینوں پر بھی قبضہ کرنا شروع کر دیا، اور 14مئی 1948ء کو یہودیوں نے اپنے قومی وطن ’’اسرائیل‘‘ کا اعلان کردیا جسے امریکہ اور برطانیہ نے سب سے پہلے تسلیم کر لیا۔ اور آج 2017ء میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اسرائیل نے قبلۂ اول اور تاریخی شہر کو اپنا دارالحکومت بنا دیا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد اگرچہ عالم اسلام کی طرف سے اس کا ردِ عمل سامنے آیا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ فلسطین کو سرخ لائن کہہ کر امت مسلمہ کی ترجمانی کرتے ہوئے پوری امت مسلمہ کابھرپور انداز میں مؤقف پیش کیا ہے۔ ترک پارلیمنٹیر ین سے خطاب کرتے ہوئے اردوان کے الفاظ یہ تھے: ’’میں گہرے تحفظات کا اظہار کرتا ہوں ان رپورٹس پر جس کے مطابق امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے لگا ہے ، امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے طیب اردوان نے تاریخی جملہ کہا کہ ’’مسٹر ٹرمپ! بیت المقدس تمام مسلمانوں کیلئے سرخ لائن ہے۔‘‘ جب کہ فلسطینیو ں کا خون مسلسل بہے جا رہا ہے ‘ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ‘ قتل اور حملے جاری ہیں‘ اسرائیل کی حمایت کا ایسا فیصلہ کرنا صرف عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کے بھی خلاف ہے۔ بحیثیت صدر عالمی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ہم سنجیدگی سے اس مسئلے پر آگے بڑھیں گے ‘ جیسے ہی ہم نے یہ قدم اُٹھایا ‘ ہم بہت جلد عالمی اسلامی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کو جمع کریں گے، ہم فلسطین کے مسئلہ کو لے کر آگے بڑھیں گے، ہم ساری مسلم دنیا کو حرکت میں لائیں گے کیونکہ یہ معاملہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے‘ کیا امریکہ کے پاس کرنے کو اور کچھ نہیں؟ کیا داعش کا مکمل صفایا ہو گیا؟تاحال نیتن یاہو اسرائیل میں اپنے ذاتی مسائل کا خاتمہ نہیں کر سکے۔ ہم اس مسئلہ پر اپنی جنگ مکمل یکسوئی کے ساتھ جاری رکھیں گے اور یہ جنگ اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات کے خاتمے تک بھی کی جا سکتی ہے۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ طیب اردوان نے توانا آواز کے ساتھ امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے ، امت مسلمہ کو اپنے تمام اختلافات بھلا کر طیب اردوان کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ قبلۂ اول کو یہودیوں کے چنگل سے آزاد کرایا جا سکے۔

اداریہ