مشرقیات

مشرقیات

ابن عساکر ؒ نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوبکر شبلی ؒ کے ایک دوست سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت شبلی ؒ کو وفات کے بعد دیکھا ۔ پوچھا کہ حق تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ حضرت شبلی ؒ نے جواب دیا کہ خدا نے مجھے اپنے سامنے کھڑا کر کے مجھ سے پوچھا کے اے ابوبکر ! تجھے کچھ پتہ ہے کہ میں نے تجھ کو کس عمل کی بدولت بخش دیا ہے ؟ شبلی ؒ نے کہا کہ میرے اچھے کاموں کی بدولت ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا : نہیں ! میں نے کہا کہ عبادت میںمیرے اخلاص کی وجہ سے ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا : نہیں ۔ میں نے کہا میرے حج ، روزہ اور نماز کے سبب ۔ جواب ملا نہیں ،میںنے ان چیزوں سے تمہاری مغفرت نہیں کی ۔ میں نے عرض کیا : نیک لوگوں کے پاس میرے ہجرت کرنے کیلئے اور طلب علم کیلئے مسلسل سفر کے باعث ۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب انکار میں ملا ۔ میں نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہی چیزیں تو مغفرت ونجات دلانے والی ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ انہی کی وجہ سے آپ معاف فرمادیں گے اور مجھ پررحم فرمائیں گے ، اسی لیے ان چیزوں کو میں نے مضبوطی سے تھام رکھا تھا ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ان میں سے کسی عمل کی بنیاد پر تمہاری مغفرت نہیں کی ہے ۔ میںنے پوچھا : پھر اے میرے مولا ! کس عمل سے میری مغفرت فرمائی ہے توباری تعالیٰ نے فرمایا :تجھے کچھ یاد ہے ، جب تو بغداد کی سڑکوں پر مارا مارا پھر رہا تھا اور تونے وہاں بلی کا ایک بچہ دیکھا ، جسے ٹھنڈک نے کمزور کر دیا تھا اور سردی کی شدت سے دیوار وں کے کنارے کنارے لگا پھر رہا تھا اور برف سے بچ رہا تھا ، تو نے رحم کھا کر اسے اپنے ادنیٰ چوغہ میں چھپا لیا تھا ، تاکہ وہ سردی سے بچ جائے اور اس کو تکلیف سے نجات مل جائے ۔ میں نے عرض کیا کہ بے شک ! حق تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تجھے اس بلی کے بچے پررحم کھانے کی وجہ سے بخش دیا ہے ۔
ابوبکر شبلی ؒ کا نام دلف بن جحد رہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ جعفر بن یوسف ؒ خراسانی ہے ۔یہ بہت نیک ، عالم اور سردار محدث تھے اور مسلکاً مالکی تھے ۔ یہ شبلی ؒ حضرت جنید ؒ کے صحبت یافتہ ہیں ۔اپنے ابتدائی زمانے میں ’’دنباوند‘‘ کے حاکم رہ چکے ہیں ۔ بعد میں ’’خیرالنساجؒ ‘‘ کی خدمت میں جا کر تو بہ کی ۔ خیرالنساج بہت بڑے بزرگ تھے ۔ صاحب حال تھے ۔ان پر اکثر وجد طاری رہتا ، جس کی وجہ سے ہر وقت مست اور یاد خدا میں ڈوبے رہتے تھے اور اس وجد کی بنا پر ان پر غشی طاری ہو جایا کرتی تھی ۔ پھر حضرت شبلیؒ حضر ت جنیدؒ کی خدمت میں کچھ دنوں تک رہے اور وہاں رہ کر فیض حاصل کیا ۔ حضرت شبلی ؒ کی وفات 334ھ میں ہوئی اور ان کی عمر ستاسی برس تھی ۔جو اللہ کی مخلوق پر رحم کھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرماتے ہیں ۔ جو دل رحم اور شفقت سے خالی ہوتا ہے وہ پتھر کی مانند ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس سے پناہ مانگتے ہیں ۔
(حیاۃ الحیوان ، جلد دوم )

اداریہ