Daily Mashriq


الزام تراشی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

الزام تراشی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

قومی اسمبلی میں بدھ کے روز ایک بار پھر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نعرے بازی اور الزامات کے تبادلے سے ماحول کشیدہ ہوگیا، حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ احتساب کے نام پر سیاسی رہنماؤں کی کردارکشی ہورہی ہے۔ حکومتی بنچوں کے جن ارکان کیخلاف نیب میں انکوائریاں جاری ہیں ان کیلئے رعایت اور حزب اختلاف کے ارکان کو انکوائری مکمل ہونے سے قبل گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب حزب اختلاف کے رکن قومی اسمبلی سعد رفیق کی گرفتاری کا مسئلہ ایوان میں اُٹھایا گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بلاامیتاز اور شفاف احتساب پر دو آراء ہرگز نہیں۔ احتساب کے قوانین اور نیب کے کردار پر سوال اُٹھاتی سابق حکمران جماعتوں کے قائدین کو بہرطور اس امر پر بھی غور کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنے ادوار میں قوانین کو بہتر بنانے اور نیب کو غیرجانبدار بنانے کیلئے قانون سازی سے صرف نظر کیوں کیا؟۔ یہ بجا ہے کہ کرپشن اور کمیشن کے حوالے سے 1988سے سیاستدان ہی ملعون ہو رہے ہیں پچھلے 40سالوں کے دوران دوسرے کسی شعبہ میں اس حوالے سے نہ کوئی کارروائی ہو پائی اور نہ ہی اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کہ بلاامتیاز احتساب کیلئے ایک ایسا ادارہ بنایا جائے جو سب کا احتساب کرسکے۔ نون لیگ کا اب یہ کہنا کہ نیب کا ادارہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کا قائم کردہ ہے اور اس کا مقصد صرف سیاستدانوں کی پگڑیاں اُچھالنا ہے سوفیصد درست نہیں۔ نیب بنیادی طور پر نون لیگ کے قائم کردہ احتساب بیورو کی جدید صورت ہے اور 80فیصد قوانین وہی ہیں جو احتساب بیورو بناتے وقت منظور ہوئے تھے۔ اس طور اب اگر احتساب کے نام پر کچھ غلط ہورہا ہے تو اس میں تین بار وفاق کے اقتدار میں رہنے والی مسلم لیگ ن کا بھی حصہ ہے۔ ثانیاً یہ کہ کرپشن کے مقدمات کی زد میں آئے سیاستدانوں کو محض اس لئے رعایت ملنی چاہئے کہ وہ پارلیمان کے رکن ہیں؟ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کسی شخص کو کرپشن کا لائسنس نہیں دیتی۔ سیاسی انتقام کے نعرے بلند کرتے ہوئے اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیسے وظیفوں پر تعلیم حاصل کرنے والے پچھلے تیس سال میں ارب پتی ہوگئے۔ نیب کے دہرے معیار پر سنجیدہ حلقے سوال اُٹھاتے رہتے ہیں لیکن یہ دہرا معیار تو پچھلے 5برسوں کے دوران بھی دیکھنے میں آیا۔ افسوس کہ اس وقت نیب پر اُٹھنے والے سوالات کے جواب میں کہا جاتا تھا کہ کچھ لوگ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے ایک قومی ادارے کو بدنام کر رہے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا احتساب جمہوریت دشمن ہے یا احتساب کے عمل سے جمہوریت مستحکم ہوگی؟ ہماری دانست میں احتساب کے عمل سے نظام حکومت اور جمہوریت دونوں کا فائدہ ہوگا البتہ یہ ضروری ہے کہ احتساب کے قوانین کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہئے۔ یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ نیب نے حالیہ مہینوں کے دوران مسلم لیگ(ن) کے جن رہنماؤں کیخلاف کارروائی کی ان کیخلاف تحقیقات اور مقدمات خود نون لیگ کے اپنے دور میں قائم ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نیب کا کردار اور کارروائیاں جانبدارانہ ہیں تو جذباتی تقاریر اور انتقام انتقام کے نعرے بلند کرنے کی بجائے حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہو کر قانون سازی کیلئے پارلیمان سے رجوع کیوں نہیں کرتیں۔ ثانیاً یہ کہ جن مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے ان کے حوالے سے عدلیہ سے رجوع کیا جاسکتا ہے تاکہ حقیقت حال واضح ہوسکے۔ بلاشبہ ان قوتوں اور کرداروں کا بھی احتساب ہونا چاہئے جنہوں نے ماضی میں منتخب حکومتوں کو ختم کروا دیا مگر یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیا منتخب حکومتیں گرانے والوں کا ساتھ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق نے دیا؟۔ چار فوجی آمریتوں کو 34برسوں تک ملک وقوم پر مسلط رکھنے والوں میں پیش پیش کون رہا۔ پچھلے چالیس برسوں کی یا پھر اکہتر برسوں کی تاریخ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر اس امر سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے کہ منتخب حکومتوں کو گرانے والوںکو نجات دہندہ طور محسن پاکستان قرار دینے والوں میں سیاستدانوں کا ایک طبقہ ہی پیش پیش رہا۔ ایک صاف ستھرا جمہوری نظام، بلاامتیاز احتساب ہر دو اسی صورت میں ممکن ہیں جب سیاسی جماعتیں یہ اعلان کریں کہ مستقبل میں غیرجمہوری قوتوں کا ساتھ دینے والوں کو کوئی سیاسی جماعت قبول نہیں کرے گی۔ یہاں یہ بھی عرض کیا جانا لازم ہے کہ نیب کے حوالے سے شکایات اور اس کے محدود کردار پر پارلیمان میں غور وفکر ضروری ہے۔ نیب قوانین میں ترمیم کر کے اس کو قطعی طور پر خودمختار اور ایسا ادارہ بنانے کی ضرورت ہے کہ سیاستدانوں، بیوروکریسی، سرمایہ کاروں کے علاوہ دیگر کا بھی احتساب ہو سکے۔ ثانیاً یہ کہ منتخب ارکان کو قومی اسمبلی میں تقاریر کے دوران اس امر کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ قومی اسمبلی کے ایوان اور موچی گیٹ باغ کے جلسہ میں فرق ہوتا ہے۔ افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے ساڑھے تین ماہ کے دوران پارلیمان میں قانون سازی تو ہو نہیں پائی حالانکہ ارکان پارلیمان کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں کو سوچنا ہوگا کہ عوام الناس جن عذابوں سے دوچار ہیں ان سے نجات کی صورت کیا ہوسکتی ہے؟۔

متعلقہ خبریں