Daily Mashriq


وزیرخزانہ کا اعتراف

وزیرخزانہ کا اعتراف

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ روپے کی قدر ہم نے خود کم کی، آئی ایم ایف کی شرائط سے اختلاف ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کا انتظار کرنے سے قبل ہی کرنسی کی قدر میں کمی، گیس کے نرخوں اور شرح سود میں اضافے جیسے اقدامات اس لئے کئے تھے کہ ہمیں یہ ضروری لگ رہے تھے۔ وزیر خزانہ کا یہ اعتراف زیادہ حیران کن ہرگز نہیں۔ نرم سے نرم الفاظ میں یہ آدھا سچ ہے۔ آئی ایم ایف سے رابطہ کاری کے مرحلہ میں یقین دہانی کرا دی گئی تھی کہ مذاکرات سے قبل ضروری اقدامات کر لئے جائیںگے۔ مقصد یہ تھا کہ ایسا تاثر نہ ملے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کا فیصلہ کرتے وقت اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ بجلی وگیس اور پٹرولیم کے نرخوں میں اور شرح سود میں اضافہ سے بھی معاملات سنبھل نہیں پائے بلکہ مہنگائی کے سیلاب بلا نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ اقتصادی پالیسی درست سمت میں نہیں جا رہی، محض الفاظ کے ہیر پھیر سے لوگوں کو بہلایا جارہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اقتصادی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے اور مثبت اقدامات پر توجہ دے تاکہ سازشوں کی کہانیاں فروخت کرنے میں وقت گزارنے کی بجائے حقیقی معنوں میں کچھ بہتری لائی جاسکے۔

آپ اپنی اداؤں پر غور کیجئے

مذہبی آزادیوں کے حوالے سے امریکہ نے خصوصی تشویش والی فہرست میں پاکستان کو شامل کرنے کے باوجود ممکنہ معاشی پابندیاں معطل کردی ہیں۔ پاکستان کے علاوہ یہ سہولت سعودی عرب اور تاجکستان کو بھی حاصل ہوئی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مذہبی آزادیوں اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اُٹھائے گئے امریکی اقدام پر دفتر خارجہ کا ردعمل مناسب تو ہے لیکن اس امر پر غورکرنے کی ضرورت ہے کہ اصلاح احوال کی مستقل صورت کیا ہو سکتی ہے۔ دنیا کا ہر ملک اپنے طویل المدتی مفادات کے پیش نظر داخلی وخارجی پالیسیوں کو ترتیب دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں اس سوچ کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہوئی بلکہ بعض امور میں آنکھیں بند کر کے امریکہ کی ہمنوائی نے سنگین مسائل پیدا کئے۔ کیا ہمارے پالیسی ساز اس امر سے انکار کرسکتے ہیں، مغربی اور اقلیتوں کے حوالے سے داخلی طور پر جو صورتحال ہے اسے امریکہ کی ہمنوائی پر مبنی افغان پالیسی سے الگ کر کے دیکھاجا سکتا ہے؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکی پابندیاں ہوں یا دوسرے مسائل ان پر رونے دھونے کی بجائے ٹھنڈے دل کیساتھ ان پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے جو ان مسائل کی وجہ ثابت ہوئیں۔ اس طرح معاشی پابندیوں کو معطل کرنے کے امریکی فیصلے پر تالیاں بجانے کی بجائے ایسے اقدامات کو یقینی بتایا جائے جن سے تنگ نظری وتعصبات کا خاتمہ ہو اور ایک سوشل ڈیموکریٹ ریاست کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے۔

محفوظ داخلی صورتحال

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ داخلی صورتحال بہتر ہونے سے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ پاکستانی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ فضا کی فراہمی کو یقینی بنائیںگے۔ داخلی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات اور قربانیوں کے نتیجے میں ہی یہ اُمید پیدا ہورہی ہے کہ نومنتخب حکومت اپنے وعدوں کے موجب عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھے گی۔ پاکستان میں تعمیر وترقی کے اہداف کے حصول اور دفاع وطن کیلئے ادارے اور عوام شانہ بشانہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سرمایہ کاروں کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ملکی وغیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور خصوصاً ان ملکی سرمایہ کاروں کا جنہوں نے پچھلے بیس سالوں کے دوران بنگلہ دیش، دبئی اور دیگر مقامات کو اپنی سرمایہ کاری کا مرکز بنایا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان مقامی سرمایہ کاروں کی وطن واپسی کی صورت میں معیشت مضبوط ہوگی اور روزگار کے ذرائع بڑھنے سے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں