Daily Mashriq

گیس کا بحران

گیس کا بحران

کراچی ‘ لاہوراور فیصل آباد کی صنعتوں ہی کے لیے نہیں ملک کے دیگر علاقوں میں سی این جی سٹیشن اور گھریلو صارفین کے لیے بھی دسمبر کی سردی میںگیس کی بندش یا کمی کی بحرانی کیفیت پیدا ہو جانے سے ایک طرف صنعتوںکا بھاری نقصان ہو رہا ہے دوسری طرف گھریلو صارفین کے لیے بھی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس بحران کا نوٹس تو لیالیکن اس وقت جب بحران برپا ہو چکا تھا ۔ ہفتہ دس دن پہلے اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہو ئی تھیں کہ گیس کے گھریلو صارفین کو سپلائی برقرار رکھی جائے گی ۔ اس میں یہ بات مضمر تھی کہ صنعتوں کو گیس کی سپلائی میں کمی آ سکتی ہے۔ عام قارئین کو تو اس کا اندازہ نہیںہوا تاہم ان خبروں کے باعث یہ کہا جا سکتا ہے کہ گیس کا انتظام کرنے والوں کو اس بارے میں خبر تھی یا کم از کم اندازہ تھا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے اس صورت حال کے ازالے کے لیے کیا اقدامات کیے ۔ جب ایسی خبروں کے شائع ہونے سے کچھ اندازہ کیا جا سکتا تھا تو وزیر پیٹرولیم کو تو فوری طور پر چونک جانا چاہیے تھا۔ اور گیس سپلائی میں کمی کی وجوہ جاننے اور ان کے دور کرنے پر تمام تر توجہ دینی چاہیے تھی لیکن انہوں نے کابینہ کی سو دن کی کارکردگی کا جائزہ لینے والے اجلاس میں ایسی کوئی خبر نہ دی۔ اور اگلے دن خبر چھپی کہ وزیر اعظم نے سبھی وزارتوں کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ پیر کو وزارتوں کی سو دن کی کارکردگی سے متعلق نو گھنٹے کے اجلاس تک اگر وزیر پیٹرولیم گیس کے متوقع بحران سے بے خبر تھے تو یہ ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اور اگر انہوں نے اس کی سن گن ہونے کے باوجود وزیر اعظم اور کابینہ کو اس کی جان بوجھ کر اطلاع نہیں دی تو یہ بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جائزہ لینے کی اور ذمہ داری کا تعین کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کو اس بحران کا نوٹس لیا اور خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وزیر پیٹرولیم نے ذمہ داری سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کی انتظامیہ پر ڈال دی ہے۔ وزیر اعظم نے فوری اقدامات کرتے ہوئے دونوں کمپنیوںکے مینجنگ ڈائریکٹروں کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) سے کہا ہے کہ وہ 72گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے۔ ان تین دنوںمیں کیا کوئی بہتری ہو سکتی ہے یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس دوران ایوان وزیر اعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کے کمپریسروں میںخرابی کی اطلاع بروقت حکومت کو نہیںدی اور سوئی ناردرن نے حکومت کو بروقت یہ نہیںبتایا کہ اسے دسمبر میںکتنی گیس درکار تھی۔ خبر وں میں یہ بھی آیا ہے کہ سوئی ناردرن کمپنی کو گیس کی پیداوار میں کمی کا سامنا رہا اور جیسے کہ بیان کیا جا چکا ہے سوئی سدرن کے کمپریسروں میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ جہاں تک گیس کی پیداوار میں کمی کی بات ہے یہ یکایک نہیں ہوئی ہو گی۔ اس کے بارے میں کمپنی کے انجینئروں کو معلومات ہوں گی۔ سوئی سدرن کے کمپریسروں کی خرابی کی خبر بھی کمپنی کے انجینئروںکو ہو گی۔ یہ خبریں کمپنی تک کیوں محدود رہیں؟ اور کمپنیوں کے انتظامی ذمہ داروں نے خبروں کے بعد کیا اقدامات کیے شاید انکوائری کمیٹی ان سوالات کے جواب تلاش کرے گی۔ لیکن یہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی جو کمپنیوں کے مینجنگ ڈائریکٹروں کی انکوائری کر رہی ہے خود کیا کر رہی تھی۔ جب اخبارات کہہ رہے ہیں کہ گیس کی کمی گزشتہ اکتوبر میں محسوس کی جانے لگی تھی تو ریگولیٹری اتھارٹی کو اسی وقت اس طرف متوجہ ہو جانا چاہیے تھا۔ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا کام اورکیا ہے؟ اس معاملے کے دو پہلو ہیں ‘معاملے کی تحقیقات کرنا وزارت پیٹرولیم اور ریگولیٹری اتھارٹی سمیت گیس کے انتظام کے ذمہ دار لوگوں کی ذمہ داری طے کرنا اور دوسری طرف ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں گیس فراہم کرنا۔

بدھ کی رات ٹی وی پر ایک پٹی چلائی گئی جس میں وزارت پیٹرولیم کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی کہ ایل این جی کے کارگو بروقت پاکستان پہنچ جائیں گے۔ یہ ایک سنگین مذاق کی حیثیت رکھتا ہے اس ’’بروقت‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ بحران تو اس وقت برپا ہے ۔ کراچی ‘ لاہور ‘ فیصل آباد کی صنعتیں بند ہیں ۔ سندھ میں گھریلو صارفین کو گیس نہیںمل رہی ‘ تنوروں کو گیس کی سپلائی نہیں ہو رہی ۔ ایک طرف گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں دوسری طرف تنور بھی بند ہیں۔ یہ بحران کراچی اور سندھ تک محدود نہیں ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی گیس سٹیشن ایک دن کے لیے بند رکھے گئے۔ سخاکوٹ سے بھی خبریں آ رہی ہیں کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ دیگر علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اور وزارت پیٹرولیم کہہ رہی ہے کہ ’’ایل این جی کے کارگو بروقت کراچی پہنچ جائیں گے‘‘۔ یہ ’’بروقت‘‘ سپلائی پہنچنے کا طے شدہ وقت ہو سکتا ہے لیکن اس سے یہ معلوم نہیںہوتا کہ صنعتی اور گھریلو صارفین کو کب گیس میسر آئے گی۔کراچی کے صنعتکار جنہوں نے بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس کے جنریٹر لگائے ہیں کہتے ہیں کہ ایل این جی کی قیمت قدرتی گیس کی قیمت سے دوگنا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کے مینجنگ ڈائریکٹرز کے بارے میں انکوائری رپورٹ 72گھنٹے میں طلب کر لی ہے۔ اس میں بحران کی ذمہ داری تو طے ہو جائے گی (حالانکہ اوگر ا اور وزارت پیٹرولیم کو یکسر بری الذمہ نہیں سمجھا جا سکتا۔) لیکن عوام کی فوری ضرورت تو گیس سپلائی کی ہے اس کا فوری بندوبست کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انکوائری رپورٹ آئے گی ‘ وسیع تر تحقیقات میں کس کی ذمہ داری ثابت ہو گی ‘ یہ کام ہوتا رہے گا اور ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں