Daily Mashriq

راتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کی

راتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کی

یہ کوئی چالیس سال سے زیادہ پرانی بات ہے کہ پاکستان ٹوٹ چکا تھا اور ذوالفقارعلی بھٹو نے نیا پاکستان بنانے کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار بحیثیت چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر وصدر پاکستان سنبھال لیا تھا۔ لیکن حزب اختلاف کے دباؤ میں آکر بھٹو نے صوبوں میں منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ صوبہ کے پی جو اس وقت صوبہ سرحد کے نام سے شناخت رکھتا تھا دو جماعتوں مسلم لیگ (قیوم لیگ) اور نیشنل عوامی پارٹی کی اکثریت کے بیچ لٹک گیا تھا اور دونوں جماعتوں میں اکثریت کے دعوے کیساتھ اقتدار حاصل کرنے کی رسہ کشی شروع ہو گئی، تاہم طاقت کا توازن جمعیت علمائے اسلام کے ہاتھ میں تھا، چنانچہ قیوم لیگ اور نیپ دونوں نے جمعیت کی طرف اتحاد کی دوڑ لگا دی جس پر مولانا مفتی محمودؒ نے پارٹی کے مشورے سے دونوں جماعتوں کو شرائط پیش کر دیں، ان شرائط میں صوبے میں اسلامی نظام کا نفاذ بھی شامل تھااتفاق یہ دیکھئے کہ دونوں جماعتوں نے اسلامی نظام کی شرط قبول کر لی، اب جمعیت کیلئے یہ امتحان شروع ہو گیا کہ پروانہ ادھر جاتا ہے یا ادھر، بہرحال پروانے کو کٹھن آزمائش سے نکالنے کیلئے مولانا مفتی محمودؒ مرحوم نے مزید یہ شرط عائد کر دی کہ وزارت اعلیٰ جمعیت کی ہوگی۔ یہ شرط نیپ نے قبول کر لی اور قیوم لیگ اس سے پیچھے ہٹ گئی۔ اس طرح جمعیت اور نیپ کی حکومت قائم ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔ بہرحال اس زمانے میںکیا سیاسی داؤ پیچ ہوئے وہ تاریخ کا حصہ ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ ایک سیکولر جماعت اور ایک دینی جماعت کا سیاسی اتحاد ہوا جس نے صحیح طور پر ایک جمہوری اور اسلامی طرز کی حکمرانی قائم کرنے کی مقدور بھر سعی کی، جب مفتی محمودؒ نے وزیراعلیٰ کا حلف اُٹھایا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے وعدے کے مطابق اعلان کیا اور پورے صوبے میں شراب کی خرید وفروخت اور پینے پلانے پر پابندی عائد کر دی، اس کیساتھ ہی انہوں نے اُردو کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے سرکاری لباس شلوار قمیض کو قرار دیا اور پینٹ پر پابندی لگا دی۔مفتی محمود مرحومؒ نے جیسے ہی شراب پر پابندی کا اعلان کیا اسی وقت صوبے بھر میں شراب کی دکانوں اور شراب خانوں کو سربمہر کر دیا گیا۔ نیپ جیسی سیکولر جماعت نے اس کی پوری تائید کی، نہ صرف شراب پر پابندی کی تائید کی بلکہ اُردو کو سرکاری زبان قرار دینے کی بھی تائید کی۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ ایک ایسی جماعت جو سیاست میں دین کے عمل دخل کی مخالف ہے اس نے پوری طرح صوبے میں احیاء اسلام کیلئے ساتھ دیا حتیٰ کہ جو جماعت نظام تعلیم صوبے کی اکثریتی زبان یعنی پشتو میں کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اس نے صوبے کی سرکاری زبان کیلئے قومی زبان کو فوقیت دی جسے انقلاب نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔

تحریک پاکستان کیا تھی یہ تحریک ایک ملک کے قیام کیلئے نہیں تھی بلکہ مدینہ ریاست کے قیام کی جدوجہد تھی، اس جدوجہد کو کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی اس بارے میں الگ بحث ہے تاہم قوم یہ جانتی ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کی بھی جدوجہد مدینہ ریاست کیلئے تھی، تاہم سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عمران خان نے تحریک چلائی انصاف اور کرپشن کیخلاف اور قومی دولت لوٹنے والوں کو گھسیٹنے کیلئے مگر انہوں نے ایک مرتبہ مدینہ ریاست کا نام لے لیا جس پر ان کو ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل نے ایک بھری محفل میں سلوٹ پیش کر دیا۔ مولانا صاحب علم ہیں، ان کی دانائی اور علمی حیثیت کو قوم تسلیم کرتی ہے،۔ عمران خان خوش قسمت ہیں کہ ایک بار ہی ریاست مدینہ کا نام لیکر وہ اس قدر اہم ہوگئے کہ ملک کی اہم ترین صالح شخصیت نے ان کو سلوٹ پیش کر دیا، حالانکہ اب تک مدینہ ریاست قائم کرنے کیلئے عملاً کچھ نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہوا یہ ہے کہ مولانا مفتی محمودؒ نے تو قلمدان اقتدار سنبھالتے ہی ریاست مدینہ کی طرف پیش قدمی کر دی تھی جبکہ تحریک انصاف نے تو اپنی جماعت کے ایک ایسے ممبر کی جانب سے جو اپنے عقیدے کے لحاظ سے مدینہ ریاست قائم کرنے کا ذمہ دار نہیں ہے پیش رفت کرتے ہوئے شراب پر پابندی کا بل پیش کر دیا۔ اس بل کو تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے پیش کیا جس پر فواد چودھری نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ شراب کی فروخت پر پابندی لگانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے جس نے نہیں پینی ہے نہ پئے، اس کیلئے بل لانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سستی شہرت حاصل کرنے کا ڈھنگ ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری جانب مسلم لیگ ن اور پی پی نے شراب پر پابندی اور اسے حرام قرار دلوانے کی کوشش ناکام بنا دی کیونکہ دونوں جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ حکمران جماعت کی رکن ملکہ بخاری نے جب یہ اندازہ لگایا کہ بل کی تحریک ناکام ہو جائے گی اور بدنامی ہوگی تو انہوں نے جھٹ سے بل پر رائے شماری کرانے کی بجائے بل کو قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کی تجویز دیدی، اس طرح یہ بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دینے کا فیصلہ ہوا حالانکہ اسمبلی میں کسی قائمہ کمیٹی کا ہنوز وجود نہیں ہے۔ اس طرح یہ بل کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ اب مولانا طارق جمیل ہی وضاحت کر سکتے ہیں کہ محض نام لینے پر ہی سلوٹ کرنا درست ہے؟ ریاض خیر آبادی نے فرمایا ہے۔

یہ سربہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی

راتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کی

متعلقہ خبریں