Daily Mashriq


جمعہ مبارک کا خطبہ، افراط وتفریط

جمعہ مبارک کا خطبہ، افراط وتفریط

جمعہ کا دن، دنوں کا سردار ہے۔ اس کی اہمیت وفضیلت قرآن وحدیث میں آئی ہے۔ قرآن کریم میں ایک سورت کا نام بھی اسی دن پر ہے۔ اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر فرمایا ہے ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن جمعہ کی اذان ہو جائے تو فوراً اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ اور خرید وفروخت چھوڑ دو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو‘‘۔جمعہ کی نماز کی شرائط وہی ہیں جو دیگر نمازوں کیلئے ہیں لیکن اس میں جمعہ کا دن ہونا، زوال کا وقت ہونا، جمعہ کی نماز کیلئے جماعت ہونا (امام کے علاوہ کم سے کم دوبالغ آدمیوں کا ہونا) اور جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ ہونا ضروری ہے۔ نبی اکرمؐ کا فرمان ہے کہ ’’دین آسان ہے‘‘۔ اب دیکھئے اگر کسی کو خطبہ یاد نہ ہو تو قرآن مجید کی کوئی چھوٹی بڑی سورت پڑھ دے۔ اگر کسی نے جمعہ کے پہلے خطبہ میں سورہ فاتحہ (الحمد شریف) اور دوسرے میں سورہ اخلاص پڑھ لیا تو خطبہ ادا ہو جائیگا۔ اگر کسی کو کوئی سورت یاد نہ ہو اور نہ خطبہ مسنونہ، تو منبر پر کھڑے ہو کر اپنی زبان میں اللہ اور اُس کے رسولؐ کی تعریف کر کے کچھ مسائل وغیرہ بیان کر دے تو بھی خطبہ ادا ہو جائیگا۔ رسول اللہؐ نماز سے پہلے دو خطبے پڑھتے اور آپؐ کا کوئی جمعہ بغیر خطبہ کے ثابت نہیں۔جمعہ کی فرضیت کے بعد اور مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں نمازوں اور جمعہ کی امامت اور خطبہ امیر وقت (حاکم وقت) دیا کرتے تھے۔ مدینہ طیبہ میں جب تک نبی پاکؐ حیات رہے، آپؐ رئیس آلائمہ کی حیثیت سے پانچوں فرض نمازوں اور جمعہ کی نماز کی امامت فرماتے رہے آپؐکی رحلت کے بعد خلفائے راشدین مدینہ طیبہ میں اور دیگر ملکوں اور شہروں میں وہاں کے گورنر حکام اور عمال وغیرہ جمعہ کا خطبہ اور امامت کے فرائض سرانجام دیتے۔خوارج نے جب حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ کو شہید کیا اور اسی مذموم مہم میں دمشق اور مصر کی طرف لوگ بھیجے اور یہ سازش بے نقاب ہوئی تو اُس کے بعد امیر وحاکم کی اجازت اور تصدیق کیساتھ نمازوں اور بالخصوص جمعہ کے خطبہ اور نماز کیلئے آئمہ کرام منتخب ومقرر ہوگئے اور پھر جب تک امت اسلام کے عرق ونچوڑ پر عمل پیرا رہی تو اس حوالے سے کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا۔ بنی اُمیہ کے ہاں جب خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہوئی تو بنی اُمیہ اور ملوکیت کے مخالف علماء اور آئمہ جمعہ کے خطبات کی آڑ میں طعن وتشنیع کے مواقع جانے نہیں دیتے۔ اس میں دو قسم کے لوگ ہوتے۔ ایک وہ جو ففتھ جنریشن وار کے ذریعے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے خوارج اور بعض دیگر فرقوں کی صورت مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے اور بعض اہل حق علماء اسلام اور اسلامی شعائر کی حفاظت کیلئے حکمرانان وقت پر اصلاح کی غرض سے خطبات جمعہ میں تنقید کرتے ۔اس میں شک نہیں کہ جمعہ کا خطبہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مسلمان امت کے افراد کی تقسیم وتربیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا انعام ہے اور علماء حق اس سے ہمیشہ ہی اہم اور مفید کام لیتے ہیں۔ جمعہ کے خطبہ کے دو حصے اس لئے رکھے گئے ہیں کہ پہلے حصہ میں اللہ ورسولؐ کی ثنا وصفت بیان ہوگی اور دوسرے میں مسلمانوں کے اہم مسائل کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کی باتیں ہوںگی لیکن مسئلہ تب پیدا ہوا کہ مسلمان ملکوں میں ایسے بادشاہ وحکمران پیدا ہوئے کہ وہ خطبات جمعہ میں بھی اپنی تعریف اور شہرت کے حصول کے طلبگار ہوئے۔ علماء حق سے یہ ممکن نہ تھا، امام ابو حنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اور اس ذیل کی ایک طویل فہرست تاریخ میں محفوظ ہے کہ اُنہوں نے جابر بادشاہوں کے سامنے اور منبر رسولؐ پر کھڑے ہو کر حق بات کہی اور دار ورسن برداشت کئے۔ دوسری طرف ایسے آئمہ وعلماء بھی تھے اور ہیں جن کو درباری کہا جاتا ہے۔ ان دو فریقوں کے درمیان کشمکش کی تاریخ طویل بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ اس میں دعوت ہمت وعزیمت بھی ہے اور عبرت وبصیرت بھی۔ عرب ممالک میں کم وبیش سارے آئمہ کرام کو حکومت کی طرف سے لکھا ہوا خطبہ دیا جاتا ہے جسے وہ پڑھتے ہیں یہاں تک کہ خطبۂ حج بھی اس میں شمار ہے۔ وطن عزیز اپنے قیام کے زمانے سے اسی حوالے سے سخت افراط وتفریط کا شکار رہا، یہاں حکمرانوں کو ہر حال اور ہر اہم موقع پر آئینہ دکھانے والے علماء وآئمہ کرام کی کمی نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز اس لحاظ سے بہت مردم خیز اور خوش قسمت ہے لیکن اس بدقسمتی کا ذکر کئے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ پاکستان میں فرقہ واریت کی بنیادیں بھی مدارس اور مساجد ہی سے اُٹھی ہیں۔ جان کی امان طلب کرتے ہوئے عرض کروں کہ ملی یکجہتی کونسل، دفاع پاکستان یا دیگر فورمز پر مختلف مسالک ومکاتب کے علماء وآئمہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے بھی سیاسی، مسلکی، مفاداتی اور حکومتی معاملات میں ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں بلکہ مخالف کھڑے ہوتے ہیں۔ مدارس میں ایک ہی اللہ ورسولؐ کی تعلیمات پڑھانے کیلئے پانچ مختلف وفاق موجود ہیں اور پچھلے دنوں پاکستانی سیاست میں ایک نیا اور تیز مذہبی ریلا جو سامنے آیا ہے اسی نے شاید حکومتی ایوانوں میں کسی دانشور وزیر باتدبیر کو یہ بات سمجھائی ہے کہ جمعہ کے خطبات حکومت کی طرف سے آئیں گے اور جواب آں غزل کے طور پر علماء نے شدید مخالفت کی ہے۔ اس سلسلے میں اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نہ تو حکومت کو چاہئے کہ آئمہ کرام پر کسی قانون کے ذریعے زباں بندی کا قانون لاگو کرے اور نہ ہی آئمہ کرام کو چاہئے کہ مساجد میں منبر رسولؐ سے خطبات جمعہ کی آڑ میں سیاسی ومسلکی اختلاف کی بنیاد پر اپنے نظریات عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کریں۔ خطبات جمعہ میں سنت رسولؐ کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور وہ ہے اعتدال پر مبنی تعلیم وتربیت۔ معاشرے کے مسائل اور بالخصوص اخلاقیات کا درس دینے کیلئے خطبات جمعہ بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں لہٰذا آئمہ کرام اس کا بھرپور استعمال کریں اور ملک وقوم کی رہنمائی وسلامتی میں اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں