Daily Mashriq

گرا دو یہ مکان! یہ جگہ سرکار کی ہے

گرا دو یہ مکان! یہ جگہ سرکار کی ہے

میرے والد محترم کا قد چھ فٹ سے بھی زیادہ تھا۔اس روز میں نے محسوس کیا کہ والد صاحب پہلے کی نسبت کچھ کمزور دکھائی دے رہے ہیں تھے اور کہہ رہے تھے کہ بیٹا یہ گھر میں نے تم سب بہن بھائیوں کیلئے بہت مشکل سے بنایا ہے، کبھی سریا ڈلوا لیا، تو کبھی پیسے اکٹھے کر کے اینٹیں ڈلوا لی اور کبھی سیمنٹ لاکر رکھ دی۔ تھوڑا تھوڑا کرکے یہ آج اتنا بڑا گھر تم لوگوں کے سکھ کیلئے بنوایا ہے۔ اس لئے آپس میں مل کر رہنا اور بہن بھائیوں میں لاکھ لڑائی ہو جائے کبھی گھر کو بیچنے کی بات نہ کرنا اور اگر اللہ نے تندرستی دی اور میں زندہ رہا تو اس گھر کو اور بھی اوپر لے جاؤںگا۔

آج سوشل میڈیا اور نیوز چینلوں پر ایک خوف سا طاری ہے کہ فلاں کچی آبادی کو گرا دیا جائے گا۔ فلاں گھروں کو مسمار کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں، فلاں بستی کی عوام کے ہاتھوں میں نوٹسز تھما دیئے گئے۔ میں اس ملک کے حکمرانوں سے یہ کہنا چاہوںگا کہ کیا دکھ وہ ہی ہوتا ہے جسے خود محسوس کیا جائے؟۔ جس طرح ان بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے والوں کے بچے ہوتے ہیں اس طرح ان غریب جھونپڑیوں اور کچے مکانوں میں رہنے والوں کے بھی بہت ہی چھوٹے اور معصوم بچے ہوتے ہیں۔ امیر بچوں کے آگے تو نوکر چاکر پھرتے ہیں مگر ان غریب اور معصوم بچوں کے نوکر چاکر ان کے یہ ہی بوڑھے اور مزدور ماں باپ ہوتے ہیں جو ان کی ہر خوشی کیلئے اپنی نامکمل خوشیوں کو قربان کر دیتے ہیں۔ خدارا ان کے گھروں کو نہ گرایئے مت توڑیئے ان مکانات کو، کیونکہ جن غریبوں کے مکانات کو توڑنے کی باتیں کی جا رہی ہیں ان میں سبھی وہ لوگ ہیں جو پھر کبھی اپنے مکانات کو تعمیر نہ کر سکیں گے۔ حکمران اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان کے بھی ایسے ہی چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے اور اسی طرح کسی کچی آبادیوں میں رہ رہے ہوتے اور جب ان کے مکانوں کو بڑے بڑے بلڈوزر پلک جھپکتے ہی مسمار کر دیتے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی؟ کون پوچھتا ان بچوں کے رخساروں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو؟ وقت کا حاکم؟ وہ تو آپ بھی ہیں! فرق یہ ہے کہ آپ حاکم ہیں اور ان غریب لوگوں میں سے نہیں ہیں! جن کے بغیر دروازوں کے مکانات میں گھر ٹوٹنے کا خوف جھانک رہا ہے، جن غریبوں کو یہ خوف ہو کہ جس تنکے تنکے سے انہوں نے یہ آشیانہ بنایا تھا وہ بڑی بڑی گاڑیوں کے پہیوں تلے روند دیا جائے گا۔ سوچئے ذرا ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی جو مزدور دووقت کی روٹی کو بہت مشکل سے پورا کرتا ہو وہ بھلا اس مہنگائی کے دور میں کس طرح سے ایک مکان کو دوبارہ سے تعمیر کرے گا، کیا ان معصوم بچوں کے آنسوؤں کو کوئی دیکھ سکتا ہے جن کے آنسوؤں میں ایک سوالیہ نشان ہے کہ یہ بچے اپنا چھوٹا سا مکان ٹوٹنے پر رو رہے ہیں یا پھر اس مضبوط باپ کی بے بسی پر جو ان کے ایک اشارے پر ان کو کھلونے لاکر دیتا ہے۔ ان کی ہر خواہش کو پورا کرتا ہے اور وہ ہی باپ ان کے مکانات کو ٹوٹنے سے نہیں بچا سکتا وہ بچے اپنے باپ کو دیکھ کر کیا سوچتے ہوںگے۔ اگر عوام میں پھیلا خوف درست ہے تو پہلے حکومت نئی کالونیاں اور بستیاں آباد کرے اور یہ ان لوگوں کو متبادل کے طور پر فراہم کی جائے تو ایک الگ بات ہوگی مگر یہ نہ کہا جائے کہ یہ سرکاری زمینیں ہیں اس لئے ان کو خالی کروایا جا رہا ہے کیونکہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے جو کروڑوں مسلمان اپنے ذاتی مکانوں اور گھروں کو چھوڑ کر پاکستان میں آئے تھے وہ یہاں آکر آباد ہوئے، ان ہجرت کرنے والوں میں سے کسی کے پاس بھی یہاں کوئی زمین اپنی ذاتی جاگیر نہیں تھی۔ سب کی سب ریاست پاکستان کی ہی تھی مگر یہ پاکستان تو وہ ہی ملک تھا جس کی آزاد ی کیلئے ان ہی مسلمانوں نے لاکھوں قربانیاں دیں اور اس آزاد وطن کی بنیاد رکھی۔ پھر یہ جگہ بھی ان ہی لوگوں کی ہوئی تو پھر پانچ سال کیلئے آنے والے چند ریاستی عناصر جو آتے بھی ان ہی غریبوں کے ووٹوں سے ہیں کس طرح سے یہ دعویٰ کرکے کہہ سکتے ہیں یہ جگہ سرکار کی ہے؟ پہلا سوال تو یہ ہے کہ جو انسان پچاس سال سے ایک جگہ رہ رہا ہو وہ غیرقانونی کس طرح سے ہوسکتی ہے؟ اور پھر کچھ ہی جگہ کیوں جب یہ پوری مملکت اور سلطنت ہی حکومت کی ہے تو پھر یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ فلاں جگہ سرکار کی ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ عجیب وغریب منطق ہے جسے نہ تو میں سمجھ سکتا ہوں اور نہ ہی کسی اور کی سمجھ میںیہ بات آسکتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہی مسلمان جب ایک ملک آزاد کروا کر اس میں آباد ہونے کیلئے آئیںگے تو کس کی زمین پر آکر آباد ہوںگے۔ اگر وہ حکومت کی زمین پر آکر آباد نہیں ہوںگے تو کیا اس پاکستان کو کیا پھر دیکھنے کیلئے بنایا تھا؟ خدارا مت کیجئے ایسا۔ یہ مکان اور گھر بہت مشکل سے بنتے ہیں ایک عمر گزر جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں