Daily Mashriq


مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

بچوں میں جرائم میں ملوث ہونے کی شرح بڑھ گئی۔ اخبار کی شہ سرخیوں میں مجھے یہ تجزیاتی خبر جانے کیوں دل گداز لگی۔ اس خبر کے مطابق تادم تحریر خیبر پختونخوا کی جیلوں میں360 قیدی بچوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ روزنامہ مشرق کے سٹاف رپورٹر کی اس تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ان تین سو ساٹھ زیرحراست کمسن قیدیوں میں 320 قیدی بچوں پر لگنے والے الزامات کا ثابت ہونا ابھی باقی ہے جبکہ ان میں سے 39بچے مجرم قرار پاجانے کے بعد اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

بچوں کو ہم بچے اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اس طوفانی زندگی کے ہر تھپیڑے سے آزاد محفوظ اور بچے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم انہیں اپنی آنکھوں کے تارے ہی نہیں انہیں اپنے مستقبل کے سہارے اور قسمت کے ستارے بھی سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنے گھر آنگن میں کھلنے والے پھول یا نونہال کہہ کر ان کی ناز برداریاں کرتے نہیں تھکتے، انہیں ناز ونعم سے پروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اور خاکم بدہن جب ہمیں اس کارگاہ ہستی میں ان کاکسی سٹریٹ کرائم جیسے جرم میں ملوث ہونے کا علم ہوتا ہے تو ہمیں اپنے پاؤں کے نیچے کی زمین تھرک کر نکلتی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارا کلیجہ کٹ کر دولخت ہو جاتا ہے اور ہم زمانے بھر کی پھٹکار کے قابل سمجھے جانے لگتے ہیں۔ محض اس لئے کہ ہم کو ایسے بچوں کے والدین یا سرپرست کا ہونے کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور ہمیں ان کی تعلیم اور تربیت کی اس خامی یا کمی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے جو ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کا باعث بنیں، حالانکہ کوئی ماں باپ ایسا کرنا پسند نہیں کرتا، بچے کی اچھی یا بری تربیت میں والدین کے علاوہ ان جینز کا بھی تعلق ہوتا ہے جو بچہ اپنی ماں یا باپ کے قریبی اور خون شریک رشتہ داروں سے وراثت میں لیکر آتے ہیں۔ جیسے ہی والدین کی سرپرستی یا نگہبانی کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے وہ نصیب دشمناں چوری چھپے یا کسی کے جھانسے میں آکر زندگی کی ان شاہراہوں پر نکل جاتے ہیں جہاں جرائم پیشہ افراد پہلے سے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، وہ ان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ اللہ زندگی کی اس پُرخطر شاہراہ پر کب اور کہاں ہم سے سرزد ہوگئی ایسی کوئی دانستہ یا نادانستہ کوتاہی جس کی سزا ہم تو ہم ہمارے آنگن میں کھلنے والے پھول اور کلیوں جیسے بچے بھی پارہے ہیں۔

یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا

کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکا

یہ شعرہم نے شہر خموشاں کی ان بچوں کی قبروں پر لکھا دیکھا ہے جو زندگی کے راستوں پر چلتے چلتے اپنی منزل مراد تک پہنچنے کی بجائے داعی اجل کو لبیک کہہ کر منوں مٹی تلے دفن ہوگئے۔ آنکھیں موند لیں، بجھ گئے یہ معصوم چراغ، روٹھ کر جا چھپے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ان انسان نما بھیڑیا صفت جانوروں کے جنگل سے دور بہت دور جہاں سے کوئی خیرخبر بھی لیکر نہیں آتا۔ جیلوں میں بند ان کمسن قیدیوں سے نہ صرف ان کے بدقسمت والدین اور ان کو سچے دل سے چاہنے والے بڑے بزرگ خویش رشتہ دار یا سرپرست ملنے آتے ہوںگے یا ان کے وہ گرو گھنٹال ان کو ایک نیا سبق پڑھانے آتے ہوںگے جو ان کو وہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کا باعث بنے۔ کوئی ماں باپ اپنی اولاد کو جیلوں کا بندی وان دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ عرض کر چکا ہوں کہ اس تباہی وبربادی اور تنزل کے جہنم میں دھکیلنے والے وہ ناعاقبت اندیش شکاری ہوتے ہیں جو ان کو اپنے دام میں پھنسا کر بلیک میل کر کے ان سے نت نئے جرائم کا ارتکاب کروا کر ان کو چوری چکاری، جیب تراشی اور منشیات کی لعنت جیسے جرائم کی ایسی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں جہاں سے ان کا نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوکر رہ جاتا ہے۔

ترقی بھلا ہے، یا ہے یہ تنزل

کہ بچوں کا بچے جنم دیکھتے ہیں

شہر کی گلی گلی پھیلے معصوم بچوں کے ان شکاریوں کے علاوہ آج کا موبائل کلچر بھی ہمارے بچوں کو ایسی علتوں کا عادی کر رہا ہے، جس کی ہر پگڈنڈی جرم وسزا کی دلدل پر پہنچا دیتی ہے۔ وہ کتنا معصوم اور خوبصورت بچہ تھا جو میر ی جیب سے بٹوہ اور موبائل چرانے کی کوشش کر رہا تھا، میں نے اپنی جیب کے اندر گھسے اس کے ہاتھ کو تھاما، اس سے پہلے کہ میں اس کو ڈانٹ پلاتا، کچھ ہی فاصلے پر اس کے گرو گھنٹالوں کو دیکھ کر معاملے کی تہہ تک پہنچ کر خاموش رہنے میں عافیت سمجھنے لگا، ایسے بچے اگر قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں تو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی کمسن قیدیوں کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں اور اگر قانون کی نظروں سے بچ جاتے ہیں تو اپنے گرو گھنٹالوں کے علاوہ قانون کی حفاظت پر مامور ان کالی بھیڑوں کیلئے ناجائز آمدن کا ذریعہ ثابت ہونے لگتے ہیں جن کی ان کو آشیرباد حاصل ہوتی ہے۔ کب بنیں گے اصلاح خانے ہمارے یہ جیل خانے، ہر کہ درکان نمک رفت، نمک شود کے مصداق جیل یاترا کرنے والے بچے وہاں پہلے سے موجود بدقماش قیدیوں کے شاگرد بن جاتے ہیں اور ہم اس پر بہت کچھ لکھنے کی بجائے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں کہ آنکھوں میں وہ آنسو ہی نہیں اور دل میں اتنا خون ہی نہیں بچا جو استعمال ہوسکے ایسی لکھتوں کی روشنائی کیلئے۔ آہ

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

متعلقہ خبریں