Daily Mashriq

ملک ریاض کے معاملے میں کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا گیا، شہزاد اکبر

ملک ریاض کے معاملے میں کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا گیا، شہزاد اکبر

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے ملک ریاض کے 9 اکاؤنٹس منجمد کرنے اور رقم پاکستان کو فراہم کرنے کے معاملے میں کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا گیا۔

پریس کانفرنس میں ان سے سوال کیا گیا کہ اگر منی لانڈرنگ کی گئی اور برطانیہ نے ملک ریاض کے 9 اکاؤنٹس منجمد کردیے تو پاکستانی قوانین کے تحت ان کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟

جس پر شہزاد اکبر نے جواب دیا کہ ’یہ مجرمانہ کیس نہیں مکمل طور پر ایک سوِل معاملہ تھا جس میں کوئی جرم نہیں کیا گیا‘۔

لندن میں 5 کروڑ پاؤنڈز کے عوض فروخت کی گئی جائیداد کی مالیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’جب حسین نواز نے یہ جائیداد فروخت کی اس وقت اس کی مالیت ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈز تھی لیکن انہوں نے ملک ریاض کو فروخت کرتے ہوئے اس کی قیمت زیادہ لگائی‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’این سی اے‘ کے فیصلے کے تحت مذکورہ جائیداد اب تک فروخت نہیں کی گئی‘۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (پی اے سی ای) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو گزشتہ ڈیرھ سال کے عرصے میں کی گئی ریکوریز کا کریڈٹ بھی دیا۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے سوالات کی تحریری جوابات بھی دکھائے اور کہا کہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ برس 5 ستمبر کو اثاثہ برآمدگی یونٹ (اے آر یو) قائم کرنے کی منظوری دی تھی تا کہ مرکزی مانیٹرنگ کے لیے انسداد بدعنوانی کے تمام اداروں کو ایک چھتری تلے لایا جاسکے۔

شہزاد اکبر کے مطابق یہ اقدام 2018 میں سپریم کورٹ کی بنائی گئی ٹاسک فورس کی تجویز پر اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اے آر یو کے زیر نگرانی انسداد بدعنوانی استیبلشمنٹ (اے سی ای) پنجاب ایک سال کے عرصے میں ایک کھرب 29 ارب روپے کی زمین واگزار کروانے میں کامیاب رہی اور چونکہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے اس نے گزشتہ برس ریکوریز کیں‘۔

متعلقہ خبریں