Daily Mashriq

اصلاحات فاٹا میں، بحث کہیں اور

اصلاحات فاٹا میں، بحث کہیں اور

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کی حکومتی کوششوں کے حامی ہیں ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالف نہیں البتہ فیصلہ قبائلی عوام کی مشاورت سے ہونا چاہیے انہوں نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے بڑی ذومعنی بات ضرور کی ہے کہ امریکہ نے فاٹا کے صوبہ میں انضمام بارے تعاون کی پیشکش کر کے سازش سے پردہ ہٹادیاہے حالانہ امریکہ صرف اس مدہی میں تعاون کی پیشکش نہیں کرتا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون معمول کی بات ہے ۔ دریں اثناقبائلی عماید ین نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کی ہے کہ فاٹا اصلاحات میں اصل رکاوٹ خود حکومت ہے فاٹا اصلا حات پر عدم عملدر آمد کی صورت میں قبائلی عوام اسلام آباد میں دھرنا دیں گے اور بارہ مارچ کو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کئے بغیر واپس نہیں جا ئیں گے ۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو کا مطالبہ ہے کہ وہ بھی بارہ مارچ تک معاملہ طے نہ ہونے پر احتجاج میں شامل ہوجائیں گے ۔ اے این پی انیس مارچ سے گرینڈ قبائلی جرگہ کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے ۔ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی بھی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی پرزور حامی ہیں ۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جے یو آئی ف اور بعض قبائلی عماید ین کا موقف دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا صوبے اور فاٹا میں کوئی وجود نہیں ان کا موقف اسلام آباد میں حکومت کے اتحادی کے طور پر وزں ضرور رکھتی ہے مگر ان کا موقف پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ سے مختلف نہیں ۔ مولانا فضل الرحمن اور بعض قبائلی عمائدین کے پاس کوئی ایسی ٹھوس دلیل نہیںجس سے یہ ثابت ہو پائے کہ فاٹا اصلاحات اور اس کے خیبر پختونخوا میں انضمام قبائلی علاقے کے عوام کے مفادات کے خلاف ہے اس لئے وہ قبائلی عوام کو شامل مشاورت کرنے کے لبادے میں مخالفت کر رہے ہیں جبکہ فاٹا کے بعض عمائدین کی مخالفت کی شاید بڑی وجہ اپنی دستار کی ممکنہ گمشدگی کے خدشات ہیں منتخب قبائلی نمائندوں کو فاٹا کے عوام کے نمائندے قرار نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں عوامی نمائندے ، تعلیم یافتہ اور باشعو ر قبائلی نوجوان فاٹا اصلاحات کے مخالف نہیں پر زور حامی ہیں اس ضمن میں حکومت وقت کا ارادہ ایک جانب سرنگ کے کنارے سے روشنی کی کرن دکھانے کا ہے اور دوسری جانب این ایف سی ایوراڈ میں فاٹا کیلئے تین فیصد وسائل مختص کرنے کا معاملہ ہے جو قبائل نمائندوں کے مطابق حکومت پر گراں گزرتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ فاٹا اصلاحات میں تاخیر در تاخیر مسئلے کا حل نہیں بلکہ حکومت اس کو الجھا نے کی غلطی کی مرتکب ہورہی ہے ۔ اگر چہ وزیر اعظم نواز شریف نے معاملے کو کابینہ کے اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں رکھنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ لیکن گزشتہ اجلاس کے ایجنڈے سے اس مسئلے کو نکالنے کی معقول وجہ نہیں بتائی گئی۔ ایک وفاقی وزیر کے اس اعتراض کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہیے تھی کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی جگہ اس کو قومی دھارے میںشامل کرنے کا لفظ شامل کیا جائے بہر حال اگلے اجلاس میں اس لفظ کی بھی تصحیح ہو سکتی ہے بلکہ حکومت اگر چاہتی تو اس وقت اس ''پتھر کی لکیر '' کو مٹا کر اس کی جگہ قومی دھارے میں لانا شامل کرنا ناممکن نہ تھا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بعض قوتیں فاٹا اصلاحات میں رکاوٹیں ڈالنے کی خواہاں ہیں جس میں امریکہ کی جانب سے اس کی حمایت کو بھی دلیل کے طور پر لیا جارہا ہے حکومت پاکستان کی تجویز کردہ کمیٹی کی اصلاحاتی سفارشات کی قبائلی عوام کی جانب سے قبول کر لینے کے عندیہ کے بعد اس امر کی کوئی گنجائش نہیں اگر قبائلی علاقوں میں عوامی سطح پر اصلاحات کے ایجنڈے کو قبول نہ کرنے کا بڑے پیمانے پر اظہار سامنے آئے اس معاملے کو متنازعہ بنایا گیا تو پھر معاملات ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے جاننے کی طرف جاتی ہے اس طریقہ کار کی مخالفت نہیں کی جا سکتی البتہ یہ اگر پہلے ہوتا تو زیادہ موزوں ہوتا فی الوقت اس میں قباحت اصلاحات کے عمل میں تاخیر کے علاوہ کچھ نہیں بہرحال اگر معاملات میں اختلا فات کا عنصر بڑھ جائے تو پھر دیر آید درست آید کے مصداق ہی معاملات ہونے چاہئیں اور قبائیلی عوام سے فیصلہ ضرور لیا جائے ۔ جو عوامی نمائندے اور سیاسی جماعتیں فاٹا اصلاحات کی پرزور حامی ہیں ان کو ابھی سے قبائلی علاقوں میں شعور و آگہی کی مہم شروع کرنی چاہیے ۔ قبائلی عوام کی قسمت کا فیصلہ پشاور اور اسلام آباد میں بیٹھ کرنہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی یہاں ہونے والے اجتماعات کو قبائلی عوام کا نمائندہ جرگہ کہا جا سکتا ہے ۔ قبائلی عوام کا نمائندہ جرگہ ہر ایجنسی کے صدر مقامات پر ہونا چاہیے اس کے حامیوں اور مخالفین دونوں کو قبائلی علاقوں کے مرکزی مقامات پر جلسوں اور اجتماعات کا انعقاد کر کے اپنے موقف کے حوالے سے قبائیلی عوام کی حمایت کا اظہار کر کے بتانا چاہیے اس میں سیکورٹی کے خدشات ضرور ہوں گے مگر اس طرح کے اجتماعات سے قبائلی عوام میں شعور و آگہی پیدا ہوگی اور جو بحث صوبائی وفاقی دارالحکومت اور میڈیا میں چل رہی ہے اس بحث میں عوام اور خصوصاً نوجوان عملی طورپر شریک ہوں گے جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں بیداری کی لہر بڑھے گی جو از خود اصلاحات لانے اور ان کی کامیابی کیلئے ضروری ہیں ۔ فاٹا اصلاحات پر بحث اور اختلافات اپنی جگہ لیکن قبائلی عوام کواس قدر مخمصے کا شکار بنانا احسن نہ ہوگا کہ ان کو فاٹا کا مستقبل غیر یقینی نظر آنے لگے اور وہ مایوسی کا شکار ہوجائیں ۔

متعلقہ خبریں