Daily Mashriq

سی پیک کو بہتر منصوبہ بندی سے نافع بنایا جائے

سی پیک کو بہتر منصوبہ بندی سے نافع بنایا جائے

خیبرپختونخوا اور خصوصاً صوبائی دارالحکومت پشاور میں سی پیک کے تحت کھربوں روپے کی سرمایہ کاری اور اس کے تحت جن بڑے بڑے منصوبوں کے حوالے سے ورکنگ گروپس نے کام شروع کر دیا ہے ان کی تکمیل بلکہ ان کے آغاز سے ہی ایک نئے خیبر پختونخوا اور ایک جدید اور صوبائی دارالحکومت کی ضروریات اور سہولتوں سے آراستہ پشاور کا تاثر ابھر نا فطری امر ہے ۔ صوبائی دارلحکومت پشاور میں اس وقت رنگ روڈ اور ایکسریس وے کی تعمیر کا کام جاری ہے اور اگر سی پیک میں ایک نئے اور وسیع رنگ روڈ کی تعمیر شروع ہو جاتی ہے تو گویا نوشہرہ چارسدہ اور مردان بھی پشاور ہی کا حصہ بن جائیں گے بہر حال یہ تو بعد کی باتیں ہیں فی الوقت رنگ روڈ کے باقی ماندہ حصے کی تکمیل اور رنگ روڈ کی توسیع و مرمت کا جو کام جاری ہے اسے جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچا یا جائے ساتھ ہی ایکپریس وے کے پہلے سے جاری منصوبے کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہر کا بنیادی اساس اس قابل ہو جائے کہ سی پیک کے بڑے بڑے منصوبے شروع کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔چھ میگا رہائش پراجیکٹس اور 155ارب روپے کی لاگت سے پشاور میں شہر ی ترقی کی چار منصوبے ، صوبہ بھر میں شاہراہوں کی تعمیر ، حیات آباد میں ساڑھے دس ارب روپے کی لاگت سے جدید رہائشی و کمر شل و تفریحی کمپلیکس کا قیام جیسے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے سے شہر کا نقشہ ہی بدل جائے گا ۔ خواب کی طرح نظر آنے والے منصوبے درحقیقت خواب نہیں بلکہ آئندہ کے عملی منصوبے ہیں ان منصوبوں کیلئے خطیر ترین رقم بطور قرض مل رہی ہے ا س بھاری رقم کی قسط وار واپسی بھی ہمیں کو کرنا ہے لہٰذا اس کا استعمال سوچ سمجھ کر اور ماہرین کی مشاورت سے ہونا چاہییے اس میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کے مفاداور مرضی کو نہیں صوبے کی مجموعی ترقی اور عوام کی اجتماعی فلاح و بہبود کو اولیت دی جائے اور ایسے منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جائے جو صوبے کی ترقی اور لوگوں کیلئے کاروبار و روزگار کا باعث ہوں یہ منصوبے نہایت موزوں مقامات پر سوچ سمجھ کر اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ شروع کئے جائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ کچھ علاقے تو ترقی یافتہ بن جائیں اور باقی اضلاع اور علاقے محروم اور ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

پولیس سے تربیت دلوانا مسئلے کا حل نہیں

پولیس کی جانب سے نجی سکولوں کے مالکان کی ہدایت پر ان سکولوں کے سیکورٹی گارڈز کو اسلحہ چلانے اور صورتحال سے نمٹنے کی تربیت کی مخالفت نہیں کی جاسکتی اس سے یہ بات بخوبی طور پر سامنے آتی ہے کہ نجی سکول مالکان کروڑوں روپے کمانے اور طلبہ سے سیکورٹی کے نام پر رقم کی وصولی یا پھر اس کے باعث فیسوں میں اضافہ کرنے کے باوجود کس طرح غیر تربیت یافتہ اور اناڑی سیکورٹی گارڈز رکھ کر معصوم بچوں کی جانوں اور ان کے والدین کے اعتماد سے کھیل رہے تھے ۔ سیکورٹی گارڈز کی اگر ابتدائی تربیت نہ ہوئی ہو تو پولیس کے دو چار روز کی تربیت وقت آنے پر لاحاصل ہی ٹہھرے گی ۔ سکولوں کے اندر سیکورٹی کا جو نظام مشاہدے میں آتا ہے اس صورتحال کو دیکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ سرے سے سیکورٹی کا کوئی بندوبست ہی نہیں تو غلط نہ ہوگا ۔ سیکورٹی کا قابل اعتماد نظام اسے ہی قرار دیا جا سکتا ہے جسے دیکھ کر متاثرہوا جائے اور یہ قراردینا مشکل ہوجائے کہ اس نظام کوناکام کیسے بنایا جائے ۔ سکولوں میں جونمائشی صورتحال ہے اس میں اور چوکیدار کھڑے کرنے میں کوئی فرق نہیں بلکہ چوکیداروں کو سیکورٹی گارڈ کا نام دیا گیا ہے ۔یونیورسٹی ٹائون اور حیات آباد کے نجی سکولوں کی سیکورٹی کی صورتحال کی بہتری کی گنجائش اور وسائل موجودہیں ورسک روڈاور شہر کے بعض مقامات پر سکولوں کے پاس سیکورٹی کیلئے وسائل موجود ہیں مگر ان کو بروئے کار لانے میں تامل شاید اس لئے برتاجاتا ہے کہ مالکان اس عمل کو اضافی خرچہ سمجھتے ہوں صوبے کی پولیس سربراہ کو سرکاری سکولوں میں سیکورٹی کے انتظامات کیلئے حکومت اور محکمہ تعلیم جبکہ نجی سکولوں کی انتظامیہ سے اپنے متعلقہ سکولوں میں سیکورٹی انتظامات یقینی بنوانے کیلئے رابطہ کرنا چاہیے اور خلاف ورزی پر بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے جن سکولوں میں معمر افراد کی تقرری کی گئی ہے ان کی جگہ جوانسال اور فورسز سے ریٹائرڈ افراد کی تقرری کی شرط رکھی جائے تا کہ پولیس کو ان کو بندوق چلانے کی تربیت دینے کی زحمت ہو ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ پولیس سطحی اقدامات کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ اسکولوں میں سیکورٹی انتظامات کی بہتری پر توجہ دے گی اور سکول مالکان کو سیکورٹی کے انتظامات کا پابند بنائیگی۔

متعلقہ خبریں