Daily Mashriq

لندن سازش کیس اور دوبئی پلان

لندن سازش کیس اور دوبئی پلان

ایسی تحریریں اکثر آپ کی نظروں سے گزرچکی ہوں گی جن کے ابتدائی حصوں میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اس کے کردار ، واقعات اور مقامات فرضی ہیں اور کسی سے ان کی مطابقت محض اتفاقی ہے جس کیلئے لکھنے یا چھا پنے والے پر کوئی ذمہ داری عاید نہیں ہوتی ، اسی طرح آجکل مختلف ٹی وی چینلز پر بعض پروگراموں کے شروع میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اس پروگرام میں پیش کئے جانے والے خیالات شرکا ء کے ذاتی خیالات ہیں جن کی ذمہ داری چینل کی انتظامیہ قبول کرنے کو تیار نہیں وغیرہ وغیرہ ، تاہم جن مقامات ، کرداروں اور واقعات کا تذکرہ آگے آنے والا ہے ، ان میں کوئی مطابقت تو نہیں ہے البتہ کردار حقیقی ہیں اور حالات ملتے جلتے بھی ہیں لیکن زمانہ بہت بد چکا ہے اور راقم اس حوالے سے ذمہ داری اٹھانے کو ہر گز تیار نہیں ہے ، کیونکہ بقول شاعر

لفظ کیا لوگ تو تحریر سے پھر جاتے ہیں

تو نے کیوں میری ہر اک بات کو سچ جانا ہے

غالباً ستر کی دہائی کا ذکر ہے ، لندن میں پاکستان کے چوٹی کے کچھ لیڈران کرام اکٹھے ہوئے تھے ، ان میں ممتاز دولتانہ ، سردار شوکت حیات ، خان عبدالولی خان اور بعض دیگر بھی شامل تھے ، ان دنوں پاکستان کی سیاست میں سخت گرما گرمی تھی ، اب یہ تو خدا جانے کہ ان لیڈران کرام نے آنے والے انتخابات کے حوالے سے آپس میں کیا صلاح مشورے کئے اور آیا ان کے درمیان کسی بات پراتفاق رائے ہوا بھی تھا یا سرے سے ایسی کوئی ملاقات ہوئی ہی نہیں تھی ، ان دنوں راقم پشاورمیں بحیثیت سٹی رپورٹر کام کر رہا تھا اور میرے ذرائع نے اسی زمانے میں ایک اہم خبر مجھے پہنچائی تھی جو کچھ یوں تھی کہ ملک کی تین اہم سیاسی جماعتیں کونسل مسلم لیگ ، عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی آپس میں ادغام کر کے اکٹھی ہونے کا پروگرام بنارہی تھیں اور نئی جماعت کانام پاکستان نیشنل عوامی لیگ بھی تجویز کیا گیا تھا لیکن خفیہ طور پر مسلسل مذاکرات کے باوجود بعد میں یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی تھی ، بہر حال لندن میں سیاسی رہنمائوں کی مبینہ ملاقات کی خبریں منفی انداز میں پھیلا تے ہوئے اسے لند ن سازش کیس کے نام سے اچھا لا گیا ایوب حکومت نے ٹرسٹ کے اخبارات اور پی ٹی وی و ریڈیو پاکستان کی وساطت سے اس کو ملک کے خلاف ایک ایسی سازش سے تعبیر کر کے اس کے خلاف سخت منفی پرو پیگنڈہ کیا جیسے ''لندن سازش کیس '' کا مقصد خدا نخواستہ ملکی سا لمیت کو نقصان پہنچانا تھا ، دراصل یہ وہ دور تھا جب ایوبی آمریت کی ملکی سیاست پر گرفت کمزور پڑتی جارہی تھی اور ایوب خان اور ان کی کنونشن مسلم لیگ کو لالے پڑ ے ہوئے تھے '' لندن سازش کیس ''کے خلاف سرکاری پروپیگنڈہ بہت حد تک کامیاب رہا تھا لیکن متعلقہ سیاسی قائدین جن پر ملکی سالمیت کے خلاف سازش کر نے کے الزامات لگائے گئے تھے ، انہوں نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے سرکاری پروپیگنڈہ قرار دیا ، تاہم جب 1970ء کے انتخابات ہورہے تھے تو بعض دوسری جماعتوں کے لیڈروں نے بھی جن میں خان قیوم اور بعض دینی جماعتوں کے لیڈر بھی شامل تھے اسی لندن پلان کو اچھال کر عوام کو گمراہ کرنے کی بڑی کوشش کی مگر عوام ان کے جھانسے میں نہیں آئے اور اپنی مرضی سے ووٹ پول کر کے اپنی پسند کے امیدواروں کی کامیابی یقینی بنائی ۔

گو ہوا رگوں میں اتارتی رہی زہر کو

کوئی ہات تھا جو بچا کے لے گیا شہر کو

منظر بد چکا ہے ، زمانے نے ایک طویل زقند لگائی ہے ، مقام بھی بدل چکا ، کردار بھی بدل چکے ہیں ، اب ملاقاتیں لندن میںنہیں بلکہ دوبئی میں ہوتی ہیں ، جنرل مشرف ، جوہدری شجاعت حسین ، ڈاکٹر عشرت العباد ، آصف علی زرداری ، اور کچھ دوسرے رہنمائوں کی ملاقاتوں کی کہانیاں سامنے آرہی ہیں کہ متحدہ اور پاک سرزمین پارٹی بالآخر ایک ہو کر جنرل مشر ف کی سربراہی میں ایک نئی جماعت کا ڈول ڈال کر چوہدری برادران کو بھی ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پھر آنے والے انتخابات میں ایک نئی قوت کے طور پر سامنے آسکتے ہیں یوں موجودہ حکمران کو '' ٹف ٹائم ''دینے کی کوشش کی جائے گی ۔ بعض تجزیہ نگارملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ اگر پانامہ کیس کا فیصلہ موجودہ حکمرانوں کے خلاف آتا ہے تو پنجاب کی سیاست میں بہت بڑا خلا پیدا ہو سکتا ہے ، جسے پر کرنے کیلئے یہ ممکنہ تیسری قوت اہم سیاسی طاقت کا مظاہر ہ کرنے اور سیاسی خلاء کو پر کرنے میںکامیاب ہو سکتی ہے جبکہ بعض لوگ محولہ صورتحال کا فائدہ تحریک انصاف کو جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ، تاہم اگر پیپلز پارٹی نے بلاول کی قیادت میں پنجاب کے ہی محاذ کو گرم کردیا تو پیپلز پارٹی بھی کم بیک کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے ، بہرحال جس صورتحال کی جانب اوپر کی سطور میں اشارہ کیا گیا ہے اورلندن پلان جسے لندن سازش کیس کہہ کر بد نام کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی تھی ، کے مقابلے میں موجودہ صورتحال کو دوبئی پلان تو ضرور کہا جا سکتا ہے تاہم اسے ''دوبئی سازش '' سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ، یار طر حدار ڈاکٹر نذیر تبسم نے خاطر غزنوی کے حوالے سے کہا تھا اس کے صرف ابتدائی تین سطریں موجودہ حکمرانوں پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں کہ

اپنی جان کا خود ہی دشمن

خود ہی اپنا یا ر

خاطر وہ کردار

بہر حال صورتحال خاصی گھمبیر ہے اور اگر ایسے میں کچھ لوگ سیاسی جھتے بندی میں مصروف ہیں تو یہ ان کا حق بھی ہے اور اسے کسی بھی طور سازش سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ، مگر ایک تو ابھی پانامہ کیس کا فیصلہ باقی ہے اور دوسرا یہ کہ (ن) لیگ رہنما ء بھی کچی گولیاں نہیں کھیلتے ، یقینا وہ بھی صورتحال کی نزاکت سے پوری طرح با خبر ہوں گے اور اپنے خلاف ہونے والی سیاسی چالوں کو توڑ کرنے کی تدبیر ضرور کر ہے ہوں گے ، بہرحال سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کیلئے تھوڑا انتظار کیجئے !۔

متعلقہ خبریں