Daily Mashriq

مساوات مرد و زن کی غلط فہمیاں

مساوات مرد و زن کی غلط فہمیاں

آج کل کے جدید معاشرے نے مرد اور عورت کی برابری کا ایک ایسا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا ہے جس کا مطلب انہیں خود بھی نہیں سمجھ آرہا ۔ دراصل اس با ت سے ہم کو ئی انکار نہیں کر سکتے کہ عورت بھی مرد کی طرح انسان ہے اور دونوں کے حقوق بالکل برابر ہیںلیکن فرائض دونوں کے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ حقوق اور فرائض میں ایک بہت ہی واضح فرق ہے لیکن آجکل کی نام نہاد جدیدیت کے پیروکار عورتوں کے حقوق بھلا کر اْن کو مردوں کے سا تھ فرائض میں برابر کر رہی ہے جس کی وجہ سے عورتوں کے لئے بے پناہ مسا ئل جنم لے رہی ہیں۔

اسلام میں مرد اور عورت کو پوری برابری حاصل ہے ، میراث میں حصے سے لے کر شرعی سزائیں تک دونوں کے لئے ایک جیسی ہیں ۔ کچھ جدت پسندوں کو اسلام کی تقسیم میراث کے اصولوں پر بھی اعتراض ہے کہ بیٹی کا حصے بیٹے کے آدھے حصے کے برابر کر کے اسلام نے عورت کو اور بھی نیچا کیا ہے تو شاید اسلا م کا یہ پہلو اْ ن کی نظر سے دور ہو گا کہ مرد کے اوپر عورت کی کفا لت بھی تو فرض ہے نا ں اور عورت کسی بھی قسم کے معا شی بو جھ سے آزاد کر دینے کے با وجو د بھی میراث میں حصے دار کر دی گئی ہے اور معا شی بو جھ سارے کا سارا مرد کے اوپر ڈال دیا گیا ہے اس لئے اْ س کا حصہ عورت سے تھوڑا زیا دہ ہو نا کو ئی نا انصافی نہیں ہے ۔اب ذرا ہما رے معا شرے میں عورتوں کے حقوق پر نظر ڈالتے ہیں ، عورتوں کو برابری کے چکر میں بے چاری کو مرد کے فرائض میں با قاعدہ حصہ دار بنا دیا گیا ہے جو کہ مغربی عورتوں کے اوپر ایک بہت بڑا بو جھ ہے اور ہمارے ہا ں بھی یہ چیز بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے اور ہم بھی اْس تباہی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ مرد اور عورت کی برابر ی کے اوپر اگر سائنسی انداز میں روشنی ڈالی جائے تو سا ئنس بھی عورت کو مرد سے اْن پہلوؤں میں مختلف قرار دیتی ہے جس میں اسلام نے اْسے پہلے ہی قرار دیا ہو ا ہے ۔ عورت کا جسم مرد کے مقابلے میں انتہا ئی کمزور اور نا زک ہے اور عورت کی اسی نزاکت کو سامنے رکھتے ہو ئے اسلام نے اْس کو گھر تک محدود کر دیا ہے اور مرد کے اوپر اْس کی کفا لت فرض کر دی گئی ہے ، اگر عورت غیر شادی شدہ ہے تو اْ س کی کفا لت باپ اور بھا ئی پر فرض ہے اور اگر اْس کی شادی ہو ئی ہے تو اْ س کی کفا لت شوہر اور بیٹوں پرفرض ہے ۔ اب خو د دیکھئے اسلام عورت کے سا تھ نا انصافی کر رہا ہے یا اْس کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے ۔ ایک تحقیق کے مطا بق جب عورت اور مرد کے دماغ کا مطالعہ کیا گیا تو خاص سگنلز ملنے پر عورت کے دماغ کے مختلف حصوں میں حر کت پا ئی گئی جبکہ اْن سگنلز کے ملنے پر مرد کے دماغ کا صرف ایک حصہ حرکت کرتا ہوا پا یا گیا جس سے یہ بات سامنے آگئی کہ مردکا دماغ یک ارتکا زی کا حامل ہے جبکہ عورت کا دماغ کثیر ارتکازی کا حامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ عورت ایک ہی وقت میں مختلف باتوں کی طرف توجہ دینے کی کو شش کرتی ہے جس کی وجہ سے سا ری با تیں ایک دوسرے سے گڈمڈ ہو جاتی ہیں اور اْس کے جلدی بھولنے کے امکانات زیادہ ہو تے ہیں ۔ اسی دماغی فرق کی بنا پر اسلام میں ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کی گواہی کے برابر ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب تم لو گ آپس میں کو ئی معا ملہ (قرض کا ) طے کرو تو اْس پر دو آدمیوں کو گواہ بنا لو اور اگر دو آدمی نہ ملے تو ایک آدمی اور دو عورتوں کی گوا ہی لو تاکہ اگر ایک عورت کچھ بھولے تو دوسری اْس کو یاد دلا دے ۔ اس حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کو مرد سے کمزور سمجھا جارہا ہے تو اس لئے ایک مرد کی گوا ہی دو عورتوں کے برابر کر دی گئی ہے بلکہ اس کی اصل وجہ مر داور عورت کے دما غ کا فرق ہے ۔ مرد کا دماغ کسی ایک کام کے لئے موزوں ہے توعورت کا دماغ کسی دوسرے کام کے لئے اور یہی فرق معا شرے میں اعتدال کے لئے قدرت نے رکھا ہے ۔

جو لو گ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اسلام میں عورت کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے تو اْن کے لئے واضح کرتی چلوں کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے حقوق کا اکلوتا محافظ ہے ۔ ماں کے پیروں کے نیچے جنت کے حصول سے لے کر بیٹی کی کفا لت پر اجر عظیم تک ، بیوی کے ساتھ حسن سلوک پر عظیم بشا رت سے لے کر عورت کو گندی نگا ہوں سے دیکھنے پر بڑی عذاب کی وعید تک ، یہ سب صرف اسلام میں عورت کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں ۔ نام نہاد جدیدیت کے پیروکاروں نے عورتوں اور مردوں کے حقوق میں برابری کو نہ سمجھتے ہو ئے اْن کو فرائض میں برابر کر دیا ہے جس کی وجہ سے یہی جدید معا شرہ ایسی فساد کا شکار ہے کہ اْس کا علاج اْن کو خود بھی نہیں سمجھ آرہا ۔ عورتوںکو مردوں کے برابر لانے کے لئے بچوں سے ماں کا پیا ر چھین لیا گیا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی وہی تر بیت نہیں ہو پا رہی جو اْس کو معا شرے کا ذمہ دار شہری بنا دے جبکہ اسلام نے عورت کو بچوں کی تر بیت کے لئے بالکل فارغ کر دیا ہے اور اْس کی سا ری ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ڈال دی ہے تا کہ معا شرے کو ایسے افراد ملیں جو معا شرے پربوجھ نہ ہوں بلکہ معاشرے کا بوجھ اٹھا نے والے ہوں اپنے معا شرے کو بگاڑ سے بچانے کے لئے ہمیں اسلا م کے اصولوں پر عمل کی شدید ضرورت ہے اور مغربی معاشرے کی اندھی تقلید سے بچنے کی ضرورت ہے اس مثا ل میں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ " ڈوبتا سورج ہمیں ہر روز یہی پیغام دیتا ہے ، مغرب کی طرف جاؤگے تو ڈوب جاؤ گے ۔

متعلقہ خبریں