Daily Mashriq


عالمی سیاست اور ہماری خارجہ پالیسی

عالمی سیاست اور ہماری خارجہ پالیسی

عصرِ حاضِرکے مشہور تْرکِی ناول نگار محمت مْرات ایلدن لکھتے ہیں کہ''ہر قوم اپنی منزل کا خود تعین کرتی ہے جتنی ذہین قوم اتنی اچھی منزل'' ہم اپنی منزل کا کتنا اچھا تعین کرتے ہیں یہ تو ہم سب کو پتا ہی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کو ہی لے لیں، پچھلی تین دیہایوں سے ہم دامن پر لگے داغ ہی دھونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہم عوام بھی ملکی مسائل اور ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکثر اپنے مشاہدے اور تجزیے کا سارا نِچوڑ ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی مشکلوں سے جوڑلیتے ہیں۔یا پھر اگراپنی عِلمی اور تحقیقی پرتکلفی کا کچھ زیادہ استعمال کریں بھی تو اسکی آخری حد پر امریکا اور مغرب کومو رد الزام ٹھہراکر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو 2017 ء کا سال کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سال کے متوقع واقعات نہ صرف عالمی سیاست بلکہ ہمارے خطے پربھی دْور رس اثرات چھوڑسکتے ہیں۔ سب سے پہلے پڑوسی ممالک پر نظر ڈالتے ہیں۔ ایران میں اس سال مئی کے دوران صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔گزشتہ چار سالوں کے دوران ایرانی صدر حسن رْوحانی نے کافی تنقید کے باوجود کچھ کامیابیاں حاصل کیں جن میں سب سے نمایان ایران کی امریکا اور چار بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والی نیوکلیئر ڈیل تھی۔ دریں اثنا ان کی اندرونی پالیسیاں کافی تنقید کا نشانہ بنیں اور انقلابی گارڈز اور ممبرانِ عدلیہ نے انکو آڑے ہاتھوں لیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران امریکا نیوکلیئر ڈیل کے بارے میں دیئے گئے حالیہ سخت گیر بیانات نے تو حسن روحانی کی پوزیشن اور بھی کمزور کردی ہے۔ اگر ان معاملات کی وجہ سے ایران میں مئی کے صدارتی انتخابات کوئی نئی تبدیلی لاتے ہیں تو اسکا اثر پورے خطے پر پڑیگا۔ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور اسلامی فوجی اتحاد پر۔ ہمارے ایک اور پڑوسی ملک ہندوستان کی کچھ اہم ریاستوں میں بھی اس سال انتخابات ہونے ہیں۔ ان میں پنجاب، اْتر پردیش، اْتراکھنڈ، مانی پوراور گوا شامل ہیں، گزشتہ سال کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو مہاراشٹرا، ہریانا، جھارکنڈ، دہلی اور کشمیر میں ناکامی والی روایت اگر اس سال والے ریاستی انتخابات میں بھی قائم رہی توبی جے پی کی گرفت کافی کمزور پڑجائے گی۔ اس خطرے کوٹالنے کے لئے نریندر مودی کی حکومت یقیناً پاکستان مخالف کارروائیوں اور بیانات کو تیز کرے گی تاکہ ہندوستانی جنتا کو ڈرا کر ووٹ لیا جا سکے۔ اب چین پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس سال خزاں میں کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں کانگریس چین کے شہر بیجنگ میں ہوگی۔ ہر چارسال بعد ہونیوالی یہ کانگریس سب کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے کیونکہ اس میں پارٹی کے انتہائی اہم عہدوں کا فیصلہ ہوتا ہے۔ چین کے موجودہ صدر زی چنپنگ موجودہ ترقی یافتہ چین کے مؤجد ماؤزے تنگ کے بعد دوسرے طاقتور ترین رہنما مانے جاتے ہیں لہٰذا ان کی کمیونسٹ پارٹی میں جنرل سیکرٹری والی نشست تو 2022 ء تک کافی محفوظ تصور کی جا رہی ہے۔ اس کانگریس سے متوقع ایک اور اہم فیصلہ یہ ہے کہ پارٹی عہدوں پرسے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ صدر زی چنپنگ 2022 کے بعد بھی فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ اگر ایسا ہوگا تو چین اور پاکستان کے تعلقات میںگزشتہ چار سالوں کے درمیان ہونے والی پیش رفت مزید مؤثر انداز میں پروان چڑھے گی اور سی پیک پر کام اور تیزی سے آگے بڑھے گا۔ ترکی میں اس سال اپریل کے دوران ریفرنڈم متوقع ہے۔گزشتہ سال ناکام فوجی بغاوت اور دہشت گرد حملوں نے ملک کے موجودہ صدر طیب اردگان کے پندرہ سالہ دورِ حکومت اور ان کی عوامی مقبولیت کو مزید تقویت دیدی ہے۔ اگر اس ریفرنڈم میں وہ اور ان کی پارٹی عوامی حمایت لینے میں کامیاب ہوگئے تو طیب اردگان ترکی کے دوسرے مصطفیٰ کمال اتا ترک بن جائیں گے۔ روس اور ترکی کے درمیان تعلقات پچھلے کچھ سالوں سے کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں جبکہ پاکستان اور روس کے تعلقات 2000 کے بعد بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ ترکی اور پاکستان کی سفارتی اور تجارتی قربت کافی مضبوط ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ طیب اردگان اس ریفرنڈم کے بعد پیوٹن سے کس طرح تعلقات چلائیں گے اور پاکستان ان تعلقات میں کس قسم کا کردار ادا کر سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال میں پچھلے سال کافی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ عراقی شہر موصل اور شامی شہر الیپو میں شکست کے بعد داعش اور جنگجو باغیوں کی پوزیشن کافی کمزور نظر آ رہی ہے۔ اس صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اگلی گھمسان کی لڑائی شامی شہر رقہ میں ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ یہ شہر داعش کا دارالخلافہ تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو اس ساری صورتِ حال پر گہری نظر رکھنی ہوگی کیونکہ داعش کا اگلا پڑاؤ افغانستان میں ہونے کی خبریں پہلے ہی گردش میں ہیں۔ ان سارے حالات کے ساتھ ساتھ ہمیں نئے امریکی صدر کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر بھی گہری نظر رکھنی ہوگی ۔خاص طور پر امریکا کے چین، روس، ایران اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں ہونے والی پیشرفت ہمارے لئے کافی اہمیت کی حامل ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں اور برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد آرٹیکل 50 کے اطلاق کا بالواسطہ اثر ڈالر اور پاؤنڈ کی قدر اور بلاواسطہ اثر تیل کی قیمت پر پڑنے کا امکا ن ہے۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہماری حکومت اس سلسلے میں کونسے ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے ان ممکنہ تبدیلیوں کا اثر ہم پر کم سے کم پڑے۔ہمیں اس بات کا ہر وقت پتہ رکھنا چاہئے کہ ہماری خارجہ پالیسی ان سارے حالاتِ حاضرہ کا کس طرح جائزہ لے رہی ہے اورکیا اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں