Daily Mashriq

فورتھ شیڈول کی دودھاری تلوار

فورتھ شیڈول کی دودھاری تلوار

امن وامان کی بحالی اور لوگوں کو جرائم سے دور رکھنے کے لیے حکومتیں ایسے سخت قوانین وضع کرتی ہیں جن کا مقصد عوام کو محفوظ رکھنا اور شہریوںکو قانون ہاتھ میں لینے سے دور رکھنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قانون کو ہاتھ میں لے لے تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں اوراس کے خلاف کارروائی عمل میںلائی جاتی ہے۔امن وا مان کی بحالی کے لئے وطن عزیز میں رائج دیگرمختلف قوانین میں صوبوں کو ''فورتھ شیڈول'' کا بھی اختیار حاصل ہے۔ فورتھ شیڈول کیا ہے آئیے پہلے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

فورتھ شیڈول کے تحت وہ لوگ جن کا تعلق مذہبی جماعتوں سے ہے ، لیکن ان کی سرگرمیاں مشکوک ہیںیا وہ تشدد میں ملوث ہیں، یا تشدد پسند افراد کے حامی یا سرپرست ہیں تو ایسے افراد کے نام'' فورتھ شیڈول'' میں شامل کیے جاتے ہیں۔ فورتھ شیڈول کی لسٹ میں شامل افراد ایک لحاظ سے آزاد ہوتے ہوئے بھی قید ہوتے ہیں کیونکہ ان کو روزانہ اپنے تھانے میں شام کو حاضر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ کسی دوسرے شہر جانا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے علاقے کے تھانے میں اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے۔ اور جب کسی شہر میں جائیں تو اس شہر کے تھانے کو اطلاع دیں کہ وہ کس کام سے آئے ہیں۔ کس کے پاس ٹھہرے ہیں اور جب واپس اپنے علاقے میں جائیں تو اپنے علاقے کے تھانے کو آگاہ کرے کہ وہ اتنے دن کہاں اور کس مقصد کے لیے گئے تھے؟ اور یہ کارروائی غیرمعینہ مدت کے لیے چلتی رہتی ہے۔ مذکورہ بالا حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو فورتھ شیڈول میں شامل ہر شخص کی زندگی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ فورتھ شیڈول کی لسٹ میں شامل افراد جلسہ جلوس بھی نہیں کر سکتے۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں بلکہ ایسا سالہا سال سے چلا آ رہا ہے۔ اس قانون میں تبدیلی یا نظرثانی بارے کسی کو توفیق نہیں ہوئی۔ فورتھ شیڈول میں نام ڈالنے کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی ایس ایس پی ایک خط محکمہ داخلہ کو لکھ کر بھیجتا ہے اور پھر اس شخص کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا جاتا ہے ، اس طرح فورتھ شیڈول میں شامل لوگ کئی سالوں تک تھانوں کے چکر کاٹنے اور قیدیوں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سیکرٹری داخلہ سندھ شکیل احمد منگنیجو نے جب تمام فورتھ شیڈول میں شامل افراد کا کرمنل ریکارڈ مانگا' حالیہ کردار کی رپورٹ مانگی ، حتیٰ کہ ان افراد کے شناختی کارڈنمبر مانگے تو انہیںتسلی بخش جواب نہ ملا اور انہیں بتایا گیا کہ سندھ پولیس کے پاس ان افراد کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ سیکرٹری داخلہ جب مخمصے کا شکار ہوئے تو انہوں نے ہمت کی اور سندھ پولیس کو خط لکھ دیا کہ فورتھ شیڈول میں شامل 580افراد کے شناختی کارڈ نمبر ، کرمنل ریکارڈ اور تازہ ترین سرگرمیوں کی رپورٹ محکمہ داخلہ کو بھیجی جائے۔ ایک کمیٹی ہر ضلع میں بنائی گئی ہے جس کے سربراہ ایس ایس پی ہوں گے۔ دوسری کمیٹی صوبائی سطح کی بنائی گئی ہے جس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ہوں گے۔ دونوں کمیٹیوں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اب ہر ایک کیس کا انفرادی جائزہ لیں اور جن کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہو ان کوبھی صفائی کے لیے طلب کریں۔ ایسے افراد کا پورا ریکارڈ بنایا جائے اور ضلعی کمیٹی اپنی رپورٹ صوبائی کمیٹی کو ارسال کرے اور ضلعی کمیٹی یا صوبائی کمیٹی کسی کا نام اس لسٹ سے خارج بھی کر سکتی ہے اور نئے نام بھی شامل کر سکتی ہے۔

لیکن اس کے لیے باقاعدہ جواز بتانا ضروری ہوگا کیونکہ اس طرح تو کئی بے گناہ افراد پولیس کی اندھی رپورٹ کا شکار ہو جائیں گے۔ سیکرٹری داخلہ کے بروقت اس اقدام سے سینکڑوں افراد کی جان میں جان آئی ہے کیونکہ اس سے قبل ان کی فریاد کوئی بھی نہیں سن رہا تھا،ہرکسی نے پولیس کی بھیجی گئی فہرست پر خاموشی اختیار کی ہوئی تھی مگر سندھ کے سیکرٹری داخلہ نے فرائض منصبی بحسن خوبی نبھانے کے ساتھ ساتھ خوف خدا بھی دل میں رکھتے ہوئے ایک دلیرانہ قدم اُٹھایا ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص واقعی جرم میں ملوث ہے تو اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے اور عدالتوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ ان کو کیا سزا دیتی ہیں۔ مگر پولیس یا کسی اور ادارے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بے گناہ کو برسوں تک ذہنی عذاب میں مبتلا رکھیں۔ اس نئی پالیس کے بعد پولیس کے لیے ایک رکاوٹ کھڑی ہو گئی ہے کیونکہ اب اگر پولیس کا کوئی بھی افسر کسی کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی درخواست دے گا تو اسے پہلے متعلقہ شخص کا کرمنل ریکارڈ دینا ہوگا۔ پھر حالیہ دنوں میں ان کی سرگرمیوں کا بھی ذکر کرنا ہوگا اور ان کا شناختی کارڈ بھی دینا ہو گا تاکہ اس شخص کو مشکوک سرگرمیوں کے باعث بیرون ملک جانے سے روکا جائے۔ وزارت داخلہ کی اس نئی پالیسی کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ مذہب کا سہارالے کر کوئی مذہبی گروہ دوسرے مخالف مذہبی گروہ کے کسی شخص کا نام محض عناد کی بنا پر فورتھ شیڈول میں شامل نہیںکروا سکے گا۔

متعلقہ خبریں