Daily Mashriq

بحیرہ عرب میں غرقاب فلسفۂ تنہائی

بحیرہ عرب میں غرقاب فلسفۂ تنہائی

بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی نے پاکستان کے خلاف سفارتی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے اس ملک کو دنیا میں تنہا کرکے رکھ چھوڑنے کے الفاظ استعمال کئے تھے ۔مطلب واضح تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف الزام واتہام کی اتنی گرد اُڑائے گی کہ پاکستان کی پہچان اور شناخت ہی دنیا کے لئے مشکل رہے گی اور اس گرد آلود فضاء میں بھارت پاکستان کی جو چاہے شبیہ پیش کرے گا اور دنیا اسی کو من وعن قبول کرے گی ۔بھارت نے پاکستان کے بارے میں اس مودی ڈاکٹرائن پرپہلے مرحلے پر ہی جارحانہ انداز میں عمل کا آغاز کیا اور دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گردی کا منبع قرارد ینے کا ڈھول پیٹنا شروع کیا ۔امریکہ اور یورپ میں یہ سودا ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے کیونکہ خود امریکہ اور یورپ بھی بھارت کی اس مہم میں شراکت دار ہیں ۔امریکی میڈیا نے نائن الیون کے بعد جو پاکستان اور مسلمان مخالف لہریں اُٹھائی ہیں اب ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا روپ دھار چکی ہیں ۔مگر ایسا بھی نہیں کہ پورا امریکہ پاکستان اور دہشت گردی کے بارے میں''میڈ ان انڈیا'' چیونگم چبا رہا ہو ۔گو کہ امریکہ قانون اور پالیسی سازوں میں وہ آوازیں رفتہ رفتہ ڈوب رہی ہیں جو پاکستان کی قدر و اہمیت سے آگاہ ہیں مگر اس کے باوجود امریکہ ان آوازوں سے خالی نہیں ہوا۔پاکستان میں حکومت کا مطلب سول حکومت نہیں تھی جو آصف زرداری کی صدارت اور سرپرستی میں اس وقت پوری طرح امریکہ کے لئے خود سپردگی اختیار کئے ہوئے تھی بلکہ پاکستان میں'' رجیم چینج ''کا مطلب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طنابیں کسنا ،اس کی قیادت اور فیصلہ سازی پر کنٹرول حاصل کرکے اسے پولیس نما کوئی ادارہ بنا کر سول حکومت کے کنٹرول میں لانا تھا اور یوں پاکستان کی بھارت پالیسی میں بنیادی تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنا تھا ۔یہ ایک تجربہ اور جوا تھا ۔بالکل اسی طرح جیسے کہ عراق،لیبیا اور دوسرے ملکوں میں ہوا ۔جہاں حکمران اور حکومتیں طاقت کے زور پر بدل تو دی گئیں مگر اس سے خانہ جنگی ،فرقہ وارایت اور تشدد در تشدد کے عذاب اُبل پڑے اور یہ ملک آج تک امن کو ترس رہے ہیں۔

ان دنوں جب امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ جنوبی ایشیا کے حوالے اپنا ذہن بنا رہی ہے حسین حقانی ماضی کے اسی غصے اور ذاتی رنجش اور ردعمل پر مبنی ایک تحقیقی رپورٹ تیار کرکے وائٹ ہائوس میں فروخت کر رہے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو امریکہ کو پاکستان اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے بند گلی میں پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔پاکستان کو تنہا کرنے کی امریکی اور بھارتی مہم کو پہلا دھچکا اس وقت لگا تھا جب روس اور یورپ کے کئی ملکوں نے پاکستان کے ساتھ تجارتی ،عسکری اور سفارتی روابط بڑھانے کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔چین کی حد تک تو انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی عمارت دوطرفہ مفادات کے ساتھ ساتھ باہمی احترام اور داخلی معاملات میں قطعی عدم مداخلت کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے ۔اس بنیاد کو زمانے کی ہوائیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی مگر روس جیسے ملکوں کی افواج کا پاکستان آکر فوجی مشقیں کرنا بھارت کے فلسفۂ تنہائی کو لگنے والا پہلا دھچکا تھا ۔چین نے مسعود اظہر کے خلاف قرارداد کو ویٹو کرکے بھارت کو یہ واضح کیا کہ دنیا میں پہلا اور آخری سچ وہی نہیں جس کا منجن امریکہ اور بھارت فروخت کر رہے ہیں۔اب بحیرۂ عرب میں پاکستان کی دعوت پر کثیر الملکی مشقوں کا انعقاد تو فلسفہ تنہائی کو بحیرہ ٔ عرب میں غرقاب کرنے کے مترادف ہے ۔ان چار روزہ مشقوں میں آٹھ ملکوں کے بحری جہاز وں نے حصہ لیا جبکہ سینتیس ملکوں کی بحری فورسز نے مبصر کے طور پر شرکت کی ۔جن ملکوں کے بحری جہازوں نے حصہ لیا ان میں امریکہ اور چین بیک وقت شامل ہیں ۔اس سرگرمی کو سب سے بڑا بحری اجتماع کہا گیا ۔اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکاء اللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ کھلے سمند ر میں موجود خطرات سے کسی ایک ملک کو نہیں پوری دنیا کو خطرہ ہے ۔یہ سرگرمی بتا رہی ہے کہ دنیا پاکستان کو عالمی برادی کے ایک قابل اعتبار ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے ۔نائن الیون کی گرد جوں جوں بیٹھ رہی ہے دنیا کو پاکستان اور بھارت کے تنازعات کی شدت ،نوعیت اور پس منظر سے آگاہی ہوتی جا رہی ہے ۔اب یہ سودا گرم کیک کی طرح ہاتھوں ہاتھ نہیں فروخت ہونے کے دن لد گئے کہ پاکستان دہشت گردوں کا گڑھ ہے اور اس کی فوج دنیا میں دہشت گردی برآمد کر رہی ہے۔اب پاکستان کی ریاست طویل مدہوشی کے بعد بیداری کی انگڑائی لے چکی ہے ۔اس کی بولنے سمیت تما م حسیات اور صلاحیتیں لوٹ چکی ہے ۔جس کا ثبوت ہے کہ پاکستان دنیا کو بتا رہا ہے کہ بھارت اس کے وجود کو کس طرح زخم زخم کررہا ہے ۔امریکہ اور برطانیہ نے اس کے کس قدر مطلوب لوگوں کو اپنے پروں تلے چھپا رکھا ہے ۔بدلی ہوئی اس فضاء کا اظہار دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان بھی ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔اگر یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی مہم میں بھارت تنہا رہ گیا ہے ۔شاید یہ مقام ہے جہاں بھارت کو تنہائی سے نکالنے کے لئے سوچ سمجھ کر فوج کے ایک ذمہ دار شخص نے بھارت کو سازشیں چھوڑ کر سی پیک سے فائدہ اُٹھانے کی پیشکش کی ۔اب یہ بھارت پر منحصر ہے کہ وہ تنہائی کی راہ پر لڑھکتا ہے یا سی پیک سے فائدہ اُٹھانے والی اجتماعیت اور عالمگیریت کا حصہ بنتا ہے ؟

متعلقہ خبریں