Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت نظام الدین اولیائ کوعوامی حلقوں میں حقیقی بے تاج بادشاہ کہا جا نے لگا۔ پھر اِن آوازوں میں اتنی شدت پیدا ہو گئی کہ بادشاہ علاؤالدین خلجی کی سماعت بھی ان سے محفوظ نہ رہ سکی 'حاسدوں نے بادشاہ سے کہنا شروع کر دیا کہ حضرت نظام الدین کے ہزاروں مریدین ہیں اور وہ کسی وقت بھی لشکر کا روپ دھار سکتے ہیں ۔ حاسدوں اور خو شامدیوں نے دن رات اِسی حاشیہ برداری سے بادشاہ کے ذہن کو منتشر کر دیا۔ اب بادشاہ دن رات اِس مسئلے کے بارے میں سوچتا رہتا کہ کس طرح پتہ چلایا جائے کہ حضرت نظام الدین اولیا اقتدار کی خواہش رکھتے ہیں یا نہیں کئی دن سوچنے کے بعد بادشاہ نے ایک طریقہ نکالا اور بہت ہوشیاری سے ایک مسودہ مرتب کرایا جس کا مضمون حسب ذیل تھا۔ سلطان المشائخ پو ری دنیا کے مخدوم ہیں۔ تمام ہند کے لوگ دنیاوی اور مذہبی معاملات میں آپ کی طرف رجوع کر تے ہیں۔

جبکہ اللہ تعالیٰ نے اِس ملک کی حکومت مجھے بخشی ہے اور عوام کی ذمہ داریاں میرے سپر د ہیں اِس لیے مْجھ پر لازم ہے کہ میں تمام امور میں آپ سے مشورہ کروں۔ براہِ کرم مجھے تحریر فرما دیجئے کہ میں کس طرح امورِ سلطنت چلاؤں اور کس کام میں میری سلطنت کی بہتری ہے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پوری کو شش کروں گا کہ آپ کے حکم کی تعمیل کر سکوں۔ پھر بادشاہ نے اِس تحریر کو اپنے بیٹے خضر خان کے ہاتھوں حضرت نظام الدین کے ہاں بھیجا۔

خضر خان شاہی مسودے اور مضمون سے بے خبر تھا۔ اْس نے جاکر نہایت احترام سے سلطان کا خط حضور کو پیش کر دیا۔ محبوب الٰہی نے چند لمحے بند لفافے کو دیکھا اور کھولے پڑھے بغیر ہی بولے 'بوریا نشین فقیروں کو شہنشاہی کاموں سے کیا غرض ؟ میں ایک خاک نشین فقیر کی حیثیت سے تمہارے شہر میں رہتا ہوں اور پچھلے کئی سالوں سے یہی میرا طر ز زندگی ہے' یہاں کے رہنے والوں کے لیے دعائے خیر کر تا ہوں اور میں جب تک زندہ ہوں یہ دعا کر تا رہوں گا۔ اس کے باوجود اگر شہنشاہِ ہند کو میرے یہاں قیام پر اعتراض ہے تو پھر میں اِس شہر کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر چلا جاتا ہوں کیو نکہ زمین بہت وسیع ہے۔ یہ بات کہہ کر خط پڑھے بغیر بادشاہ کے بیٹے کو واپس کر دیا۔ اور پھر خضرِ خان نے جاکر اپنے والد کو تمام تفصیلات بتا دیں۔

بادشاہ حیران تھا کہ محبوب الٰہی نے خط پڑھے بغیر وہی جواب دیا جو خط میں درج تھا بادشاہ بہت زیادہ حیرت میں تھا اور اِس طرح وہ حضرت نظام الدین کے روحانی تصرف اور کشف سے بھی واقف ہو گیا۔ پھر بادشاہ نے سب کے سامنے اعلان کیا۔ جو لوگ مجھے حضرت کے خلاف اکسا رہے تھے وہ ہمیشہ کے لیے اپنی گستاخ زبانیں بند رکھیں کیونکہ وہ تو واقعی بے نیاز مردِ قلندر ہیں 'جنہیں میری سلطنت سے کوئی غرض نہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ وہ ایک بڑے گناہ سے بچ گیا۔ پھر سلطان خلجی نے ایک معذرت نامہ حضرت کی خدمت میں بھیجا۔

متعلقہ خبریں