Daily Mashriq

آخری ضمنی انتخاب کا نتیجہ اور 2018ء کے انتخابات

آخری ضمنی انتخاب کا نتیجہ اور 2018ء کے انتخابات

غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے اُمیدوار پیر اقبال شاہ نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو25 ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے شکست دیدی ہے۔ یہ نشست گزشتہ دسمبر میں جہانگیر ترین کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نااہلی کے بعد ہی خالی ہوئی تھی۔ وہ سنہ2015 میں اس نشست سے40 ہزار ووٹ کی اکثریت سے جیتے تھے۔ اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ لودھراں کا ضمنی انتخاب احتساب کے نام پر انتقام کا عوامی جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اب ووٹ کے تقدس کو پہچاننے لگے ہیں جس کی واضح مثال لودھراں کا ضمنی انتخاب ہے۔ مریم نواز نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ الیکشن2018 کیلئے سٹیج سج گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے شکست تسلیم کرکے اپنے افسردہ کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکست اپنی غلطی کا تجزیہ کر کے اسے درست کرنے اور زیادہ مضبوط بننے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کامیاب افراد، ادارے اور ملک اپنی ناکامیوں سے سبق سکھتے ہیں۔ خیال رہے کہ لودھراں کے اس حلقے میں یہ چار برسوں میں ہونیوالا تیسرا انتخاب تھا۔2013 کے عام انتخابات میں اس سیٹ پر صدیق بلوچ نے بطور آزاد اُمیدوار کامیابی حاصل کی تھی تاہم جعلی ڈگری ہونے کے باعث2015 میں جہانگیر ترین کی درخواست پر الیکشن ٹربیونل نے انہیں نااہل کر دیا تھا۔2015 کے ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین کامیاب رہے تھے مگر وہ گزشتہ برس دسمبر میں آئین کے آرٹیکل62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دئیے گئے تھے۔ ضمنی الیکشن جیتنے پر مسلم لیگ (ن) کی خوشی دیدنی ہونا فطری امر ہے، مسلم لیگ (ن) کی لودھراں کا ضمنی انتخاب جیتنے کیلئے زیادہ تیاریاں نظر نہیں آرہی تھیں اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کے کسی قدآور شخصیت نے اس ضمنی انتخابات کے کسی جلسے میں شرکت کی تھی اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون پنجاب نے حلقے کی مقامی قیادت کے دو تین نام لیکر ان کی اصلاحیت اور تجربے پر اعتماد کا اظہار کیا تھا جو درست ثابت ہوئے۔ ہمارے تئیں ضمنی انتخاب جیتنا یا ہارنا اتنی بڑی کامیابی یا ناکامی نہیں جو قابل ذکر ہو لیکن تحریک انصاف کو اس نشست کی ہار سے دھکچا لگنا دوتین وجوہات کی بنا پر فطری امر اسلئے ہے کہ مسلم لیگ (ن)کے برعکس تحریک انصاف نے اس نشست کی کامیابی کیلئے کافی سنجیدہ کوششیں کی تھیں، تحریک انصاف کیلئے اس نشست میں کامیابی اس لئے بھی ضروری تھا کہ یہ عمران خان کے قریبی ساتھی اور سکریٹری جنرل کا حلقہ تھا جس میں وہ بمشکل دو سال قبل ہی چالیس ہزار ووٹوں کی برتری سے جیتے تھے، علاوہ ازیں عمران خان نے اس حلقے میں آکر جلسے سے خطاب کر کے اپنا پورا وزن شکست خوردہ اُمیدوار کے پلڑے میں ڈال دیا تھا مگر اس کے باوجود چالیس ہزار ووٹوں کی برتری سے محرومیت اور چھبیس ہزار ووٹوں سے شکست کی وجوہات خواہ جو بھی ہوں مگر پی ٹی آئی کیلئے یہ کوئی اچھا شگون نہیں چونکہ عام انتخابات سے قبل کسی اور نشست سے جیت کر اس تاثر کا ازالہ کرنا ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی کے پنجاب میں بڑھتے قدم رک چکے ہیں۔ قبل ازیں چکوال کے ضمنی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو کامیابی نہ مل سکی تھی، ان ساری وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو اپنی غلطیوں کے ادراک اور پالیسی میں تبدیلی لانے کی طرف متوجہ ہونا ہوگا تاکہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کر سکے کیونکہ ایک بات تو بہرحال واضح ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اگر پنجاب میں کوئی مقابلہ کر سکتا ہے تو وہ پاکستان تحریک انصاف ہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کارکنوں کے نام جو پیغام دیا ہے اس میں موجود دانش اور اس پیغام کی اصابت بارے دورائے نہیں۔ تحریک انصاف میں نچلی سطح پر کام کرنے اور کارکنوں کو مقامی سطح پر منظم کرنے، ان کو تحریک دینے، انتخابی تیاریوں کی تربیت اور اس طرف متوجہ کرنے کی بجائے کارکنوں کو فیس بک او رجلسوں کی حد تک رکھنا پی ٹی آئی کی وہ غلطی ہے جس پر اگر اب بھی پوری طرح توجہ نہ کی گئی اور سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں نوجوانوں کی حمایت کے باوجود نوجوانوں کو کامیابی کیلئے مثبت انداز میں بروئے کار نہ لانے کی غلطی انتخابی دنگل میں تحریک انصاف کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی۔ تحریک انصاف کیلئے اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی اس لئے بھی ضروری ہے کہ اُن کی پالیسیاں اور حکمت عملی کی کامیابی اور مطلوبہ مقاصد کے حصول کی شرح حوصلہ افزا نہیں رہی ۔2018ء کے انتخابات میں کامیابی کوئی آسان ہدف نہیں جس کا حصول ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر اس لئے بھی ممکن نہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کو گزشتہ انتخابات میں جو جذباتی حمایت حاصل تھی اس میں بھی ٹھہرائوکی کیفیت آچکی ہے ۔

اداریہ