Daily Mashriq

بی آرٹی منصوبہ چھ ماہ کا، منصوبہ بندی سال کی

بی آرٹی منصوبہ چھ ماہ کا، منصوبہ بندی سال کی

بی آرٹی سے متاثرہ دکانداروں اور ٹرانسپورٹر ز کو ایک سال تک بیروزگار ی الائونس دینے کے اقدام کی بجا طور پر تحسین کی جانی چاہئے لیکن اس میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ان کو ایک سال کی مدت کیلئے پیکج کیوں دیا جائے جبکہ صوبائی حکومت بی آر ٹی منصوبے کو چھ ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کا وعدہ کر چکی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ بی آر ٹی منصوبہ کی بروقت تکمیل ممکن نہیں۔ حکومتی دعوئوں کے برعکس دیکھا جائے تو موجودہ حکومت بی آر ٹی منصوبہ کسی طور مکمل کرتی دکھائی نہیں دیتی، صرف منصوبے پر کام کی رفتار اور کم سے کم مدت میں اس کی تکمیل کے حقیقی اندازے اور وقت کا تعین ہی نہیں بلکہ بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل کیلئے درکار وسائل بارے مشکلات کی بھی افواہیں ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ صوبائی حکومت پہلے ہی اسی فیصد بجٹ خرچ کر نے کا خود ہی عندیہ دے چکی ہے اور اسے بھی وسائل کی کمی سے ہی محمول کیا جانا چاہئے کہ صوبائی حکومت مبینہ طور پر ٹیکسٹ بورڈ سے چھ ارب روپے لینے کیلئے کوشاں ہے جبکہ ٹی ایم ایز کے حوالے سے حکومتی مساعی کا منشاء بھی اس قسم کی کوشش سے خالی نہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی اپریل کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے بھی تگ ودو کی افواہیں زیرگردش ہیں۔ ان ساری افواہوں پر کان دھرنے کی اسلئے ضرورت نہیں کہ صوبائی حکومت فنڈز کے مقررہ وقت کے اندر خرچ نہ کر سکنے کا ریکارڈ رکھتی ہے اور بجٹ کبھی بھی کسی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہا ہے، بہرحال محولہ صورتحال میں اس امر کی پوری صراحت کیساتھ وضاحت کی ضرورت ہے کہ کاروباری طبقہ کے چھ ماہ کیلئے متاثر ہونے پر ان کو سال بھر کا الائونس کیوں دینے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔ صوبائی حکومت کو اس امر کا بخوبی احساس ہوگا کہ بی آرٹی منصوبے کی بروقت تکمیل نہ صرف ان کی ذمہ داری اور وعدے کی تکمیل کیلئے ضروری ہے بلکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں آمدہ انتخابات پر اس منصوبے کے اثرات کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ بی آرٹی منصوبے کی تکمیل ہر قیمت پر مقررہ مدت کے اندر یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور صوبائی حکومت عوام سے کئے گئے وعدے کو نبھانے میں تغافل کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا خواب
ان دنوں خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں انسداد پولیو مہم میںہزاروں ٹیمیں گھر گھر جا کر پولیو کیخلاف مدافعتی قطرے پلانے کی اہم قومی ذمہ داری کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ گزشتہ روز کی شدید بارش کے دوران بھی اس مہم کا متاثر نہ ہونا پولیو ورکرز کے عزم وحوصلہ کی دلیل ہے لیکن جہاں یہ احسن کام اتنی ذمہ داری سے انجام دیا جاتا ہے وہاں بعض نادان حلقوں اور خود غرض عناصر کی جانب سے اس حوالے سے منفی آراء کا اظہار بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے منفی آراء کی شرح آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لیکن بہرحال معروضی حالات میں منفی آراء کی طرف زیادہ متوجہ ہونا فطری امر ضرور ہے۔ پولیو سے بچائو کے قطروں کی افادیت ثابت کرنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ بچوں کو خدانخواستہ معذوری کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے آزمودہ اور سہل طریقہ ہے جو ہر گھر انے کے دروازے پرمفت دستیاب ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی اس نعمت کی ناشکری کی جائے تو ان لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جاری پولیو مہم میں پولیو ٹیموں کیساتھ تعاون قومی، اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وطن عزیز میں وہ دن جلد آئے گا جب بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا جائے گا کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان پولیو فری ملک بن چکا ہے اور مزید انسداد پولیو مہم کی ضرورت باقی نہیں۔
بغیر نسخہ ادویات کی فروخت
ڈاکٹری نسخے کے بغیر ادویات کی فروخت ہمارے معاشرے میں عام ہے اور سب سے سنگین مسئلہ نشہ آور ادویات کی فروخت ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ بغیر نسخے کے ہر قسم کی ادویات کی فروخت ممنوع ہونی چاہئے کجا کہ میڈیکل سٹوروں پر کسی عام استعمال کی چیز کی طر ح دام دے کر نشہ آور ادویات خریدی جائیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں روز نت نئے نشہ آور اشیاء کے استعمال کی اطلاعات ملتی ہوں وہاں پر ادویات کے سٹوروں پر کھلے عام نشہ آور ادویات کی روک تھام پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ امر خاص طورپر ضروری ہے کہ ہر قسم کی نشہ آور اشیاء تک ان کی دسترس بہ آسانی ممکن نہ ہو۔خاص طورپر نشہ آور ادویات کی فروخت کسی بھی قیمت پر مستند ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہ کی جائے۔

اداریہ