Daily Mashriq

عاصمہ جہانگیر۔۔ حریت فکر کی سچی علمبردار

عاصمہ جہانگیر۔۔ حریت فکر کی سچی علمبردار

حریت فکر کی علمبردار‘ جرأت و عمل کا مجسم نمونہ عاصمہ جہانگیر بھی رخصت ہوئیں۔ زندگی کا سفر تمام ہوا۔ اب وہ اپنے اور ساری انسانیت کے رب بزرگ کے حضور پہنچ چکیں۔ تین فوجی آمروں سے مردانہ وار لڑتی بھڑتی شاہراہ حیات پر انسانی حقوق کا علم اُٹھائے جدوجہد کرنیوالی یہ محترم خاتون اس ملک کے بے نوا طبقوں کی آواز تھیں۔ موت سے یاوری کس کو ہے، ذی نفس پر لازم ہے موت کا ذائقہ چکھے۔ دستور کی بالادستی‘ جمہوریت‘ آزادی اظہار‘ حقوق نسواں‘ ریاستی وغیرریاستی جبر و تشدد انہوں نے ہر موقع پر ثابت قدمی کیساتھ آواز حق بلند کی۔ ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ ان کی وفات نے پاکستانی سماج کے دوغلے پن کو ایک بار پھر عیاں کر دیا۔ مطالعہ پاکستان کی ہاج مولہ سے فیض پانے والوں نے سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا کیا‘ رہے نام اللہ کا۔ ہندی مسلمانوں کو خدائی اختیارات سنبھالنے اور جنت وجہنم کے پلاٹ الاٹ کرنے کا بہت شوق ہے۔ گھر میں چاہے اگلے وقت پکانے کیلئے کچھ نہ ہو یہ جہنم کی کڑاہی گرم کرنے اور جنت کی نہر پر قبضہ کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کاش ہمارے لوگ اپنی اپنی ذات میں خدا بننے کی بجائے اچھے انسان ہی بن جاتے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے گریبانوں سے اُلجھتے ہیں۔ دوسروں کے عقیدوں پر سوال اُٹھاتے ہیں، کبھی اپنے گریبان میں دیکھنے اور اپنے عقیدے پر غور کی زحمت نہیں کرتے۔ کیسے عجیب لوگ ہیں جن کا ایمان تہواروں اور دوسروں کے عقیدوں پر انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔ خوف خدا اٹھ گیا ہے اس سماج سے۔ احترام انسانیت اور حرمت نفس دونوں سے محروم ہے یہ سماج۔ ستم یہ ہے کہ پھر دعویٰ یہ ہے کہ ہم کوئی پسندیدہ مخلوق ہیں اور زمانوں کی پیشوائی کیلئے خلق ہوئے ہیں۔ ہائے کس عہد نفساں میں سانس لینے کی سزا پا رہے ہیں ہم، جہاں تکریم آدمیت چھوت کی بیماری ہے اور توہین انسانیت من بھاتا کھابا۔محترمہ عاصمہ جہانگیر اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ ان کی یادیں اور باتیں دونوں ہمارے درمیان رہیں گی۔ دو عشرے ادھر ان سے ایک انٹرویو کے دوران سوال کیا تھا۔ اپنے عقیدے بارے اٹھتے سوالات اور الزامات پر جواب کیوں نہیں دیتیں آپ؟۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ’’ہر انسان اپنے رب کو جوابدہ ہے اور مسلمان کی جوابدہی دوہری ہے، اللہ کیساتھ اللہ کے رسول مکرمؐ کو بھی جواب دہ ہیں۔ لوگوں کے الزامات اور فتوئوں سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تو میں ان پر وقت برباد کیوں کروں‘ کیا اس معاشرے میں منکرین خدا موجود نہیں؟ ذرا سا رُک کر بولیں‘ عقیدوں پر اعتراضات والزامات کا جواب اسلئے نہیں دیتی کہ میں لوگوں کو نہیں اللہ اور حضرت محمدؐ کو جوابدہ ہوں۔ میرے لئے یہی اطمینان کا فی ہے‘‘۔ تقریباً بیس بائیس سال بعد ان کی گفتگو آج ان کے انتقال کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہوئی ایک بدبودار بحث کو دیکھتے ہوئے یاد آئی۔ وہ اپنی مثال آپ تھیں جتنے ماہ و سال جئیں شان کیساتھ جئیں۔ جو حق تھا انہوں نے برملا کہا مصلحت کوشی اور مفاہمت دونوں ان کے خمیر میں شامل نہیں تھے۔ قید وبند‘ سڑکوں پر لاٹھیاں‘ پولیس کا بے رحمانہ تشدد ‘ فوجی آمروں کی دھمکیاں کوئی بھی بات انہیں خوفزدہ نہ کرسکی۔ ہماری تاریخ کے70 برسوں میں چند ہی خواتین ایسی ہوئیں جنہوں نے طمع کے گھاٹ پر اُترنے کی بجائے ثابت قدمی کیساتھ جو درست سمجھا وہ کہا وہی کیا۔ مارشل لائوں کا دبدبہ یا سمجھوتہ برانڈ، طبقاتی جمہوریت کی کھنک وہ کسی سے خوفزدہ نہ ہوئیں۔ دیکھنے میں وہ ایک عام سی خاتون تھیں‘ تکبر ونخوت سے یکسر محفوظ حلیم خوش گفتار مگر سادہ طبیعت۔ انہوں نے کبھی مظلوموں کی ذات پات پوچھی نا رنگ و نسل سے غرض رکھا۔ ظالم کا طبقہ اور طاقت انہیں خوفزدہ نہ کرسکا۔ یہی ثابت قدمی اور اصول پسندی تھی کہ انہیں چھوٹے صوبوں کے سیاسی کارکنوں‘ رہنمائوں‘ اقلیتی برادریوں اور دوسرے مظلوم طبقات نے ہمیشہ اپنا ہم نوا سمجھا اور مدد کو آواز دی۔روشن خیال سیکولر فہم کی حامل عاصمہ جہانگیر انسانوں کی مذاہب و عقیدے‘ ذات پات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کی قائل نہ تھیں۔ ان کے نزدیک بالادست استحصالی ایک طبقہ اور مظلوم دوسرا طبقہ تھے۔ بڑے باپ کی ذہین ودلیر بیٹی نے اپنے سفر حیات میں اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کیا کہ انسان وہی ہوتا ہے جو اصولوں پر ڈٹا رہے۔ کیسے کیسے عجیب رنگ و نسل کے بونے ان پر آوازیں کستے۔ فتوے پھینکتے رہے لیکن ان میں سے بھی جب کسی پر آڑا وقت آیا تو وہ مدد کرنے میں پیش پیش ہوئیں۔ کیانی وپاشا جوڑی کے میمو گیٹ سکینڈل کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جب وہ حسین حقانی کی وکیل بنیں تو مطالعہ پاکستان برانڈ حب الوطنی کے خوانچہ فروشوں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا، اس طوفان بدتمیزی کے ایک کردار نے کل سہ پہر اپنے فیس بک پیج پر مرحومہ کیلئے جو زبان استعمال کی وہ لال ٹوپی والے مسخرے کی تربیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ وہ انسان تھیں چار اور کے دوسرے لوگوں کی طرح فرق بس یہ تھا کہ انہوں نے زندگی بھر اپنے آنچل کو پرچم بنائے رکھا اور جبر وستم کا شکار انسانوں‘ طبقات اور برادریوں کی ڈھال بنیں۔ جہاں بڑے بڑے مردوں کا پتہ پانی ہوگیا وہاں عاصمہ جہانگیر اپنی فہم کی قوت کی بدولت ثابت قدمی سے کھڑی رہیں۔ وہ اس امر پر کامل یقین رکھتی تھیں کہ دستور نے اداروں کو جو اختیارات دئیے ہیں ان سے تجاوز ریاست اور سماج کیلئے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔ ان کا سفر حیات تمام ہوا‘ فیصلہ اس رب بزرگ و برتر کو کرنا ہے جو عادلین کا عادل ہے۔ لاریب کے عدل اسی کو زیبا ہے۔ انسان تو بس خسارے میں ہے اور خسارے سے بچنے کا راستہ وہی ہے کہ ظالم کو اس کے منہ پر ظالم کہا جائے اور مظلوم کی بہرطور ہم نوائی کی جائے۔ حق تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے وہ اپنی آزادی پسندی‘ دستور اور جمہوریت دوستی‘ جدوجہد اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کا دنیا میں اُجلا تعارف تھیں۔

اداریہ