اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں

اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے یہ شعر ان دنوں کہا تھا جب ہماری سوسائٹی کے نوجوان طبقہ کے رگ وپے میں ہیروئن اور آئس میتھ کرسٹل جیسی تباہ کن نشہ آور اشیاء اُتری نہیں تھیں اور اُترتیں بھی کیسے جب ان دنوں یہ اشیاء موجود ہی نہیں تھیں۔ ہم نے جب ہوش سنبھالا تو پشاور کی گلیوں اور بازاروں میں تمباکو، نسوار، چلم اور حقوں کی دکانیں موجود تھیں جن میں کھلے عام یہ نشہ آور اشیاء بکتی تھیں۔ ہمارے دیہاتی ماحول میں کوئی ہجرہ چلم اور چلم کشی کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا تھا۔ چلم کے علاوہ میٹھے گڑاکو کے حقہ کا استعمال بھی عام تھا۔ نواب تو حقہ کے استعمال کو اپنے لئے طرہ امتیاز سمجھتے تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نوابزادہ نصراللہ خان کا حقہ تو ان کی ذات گرامی کا طرہ امتیاز سمجھا جانے لگا تھا۔ حقہ کے علاوہ سگرٹ کے کش کھنچنا اور دھویں کے مرغولے اُڑانا فیشن جانا جاتا۔ نہ صرف ہمارے معاشرے میں بلکہ پوری دنیا میں تمباکو کا استعمال اس ہی روز سے جاری وساری رہا ہوگا جس روز سے یہ نشہ آور پودا دریافت ہوا تھا۔ ہم تمباکو کے بارے میں اپنے قارئین کو اتنا ہی یاد کرا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی فصل کو منافع بخش جان کر اس کی کاشت کو دھن دولت کمانے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا۔ تمباکو کے علاوہ کچھ اور پودے یا بوٹیاں بھی تھیں جن کے استعمال نے دنیا کی تاریخ میں بھونچال برپا کردئیے۔ آئیے ان میں سے ایک بھونچال کی داستان ہم آج کے کالم میں سنا کر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔یہ گیارہویں صدی عیسوی کی بات ہے ایران کے شہر نیشاپور میں بچپن کے تین دوست نظام الملک طوسی، عمر خیام اور حسن بن صباح ایک ہی مکتب میں پڑھتے تھے۔ کہتے ہیں بچپن کے ان تینوں دوستوں نے اپنے زمانہ طالب علمی ہی کے دوران آپس میںعہد کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی ایک، بڑا آدمی بن جائے تو وہ باقی کے دو دوستوں کی مدد کرے گا اور پھر اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ نظام الملک طوسی سلجوقی عہد سلطنت کا وزیراعظم بن گیا۔ اس کو اپنے عہد طالب علمی کا وعدہ یاد تھا، سو اس نے اس وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے حسن بن صباح اور عمر خیام کی بھرپور اعانت کی اور یوں عمر خیام فارسی زبان کے بے بدل رباعی گو شاعر بن کر سامنے آئے۔ ان کی شاعری میں ساغر ومینا کی باتیں ہوتیں اور رباعی میں خمار جیسی کیفیت پائی جاتی اسلئے عمر خیام کی شاعری کو خمریات عمر خیام کہا جانے لگا جبکہ ان کے برعکس حسن بن صباح نہایت چالاک اور زیرک آدمی تھا اس نے قزوین میں قلعہ الموت پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں جنت ارضی بنا ڈالی۔ روایت ہے کہ حسن بن صباح کی جنت میں حور وقصور بھی تھیں، دودھ کی نہریں بھی، وہاں غلمان بھی تھے اور اس جنت کے داروغے بھی، بڑی پرمنظر تھی حسن بن صباح کی وہ جنت ارضی۔ اس جنت کی سیر کرنیوالوں کو جی بھر کر بھنگ پلائی جاتی، اسے حور وقصور اور منشیات کا رسیا بنا کر اس سے وہ کام لئے جاتے کہ الحفیظ والامان کے الفاظ زبان پر آجاتے۔ یہ سب حسن بن صباح کے منفی ذہن کا جادو تھا۔ کل کی طرح آج بھی حسن بن صباح جیسے چالاک زیرک اور منفی ذہن کے لوگ اس دنیا میں موجود ہیں جو دھن دولت کی خاطر ہر وہ انسانیت سوز کام کر گزرتے ہیں جس سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہو، تمباکو کی کاشت، اس کا استعمال، پوست کی کاشت، افیون کا کاروبار، افیون اور بھنگ کا استعمال جیسی ساری باتیں پرانی ہو چکی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل، جس کو ہم ملک اور قوم کا سرمایہ کہتے نہیں تھکتے ہیروئین، کوکین، گٹکا، شیشہ اور آئس میتھ جیسے بہت سی نشہ آور اشیاء کے طوفان بلاخیز میں غرق ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف ہمارے اقتدار کے نشے میں غرق قیادت کو اس نسل کی تباہ حالی کی کچھ بھی تو پرواہ نہیں۔ حسن بن صباح کی جنت کی فاحشائیں پورن گرافی کی صورت عہد حاضر کے بچے بچے کے موبائل سیٹ میںدرآئی ہیں۔ والدین کو معلوم ہی نہیں کہ بچہ اپنے سٹڈی روم میں کیا کر رہا ہے۔ وہ دوستی یاری کے بہانے کن لوگوں سے مل رہا ہے۔ منشیات کا عفریت ہمارے تعلیمی اداروں میں گھس کر ہماری نوجوان نسل کو چاٹ رہا ہے اور ہم کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے یہ سب کچھ۔ کسی زمانے میں گراں خواب چینی افیون پینے کے اس قدر عادی ہو چکے تھے کہ چین کو افیونیوں کا ملک کہا جانے لگا تھا لیکن ماؤزے تنگ نے سب افیونیوں سے بحری جہاز بھر کر ان کے بیڑوں کو غرق کردیا
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ سے چشمے اُبلنے لگے
صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا چینی قیادت نے منشیات کے کینسر کو۔ کسی اخباری نمائندے نے چواین لائی سے سوال کیا کہ منشیات کے عادی لوگوں کے بیڑوں کو ڈبونے کے بعد آپ کو احساس نہیں ہوا کہ اس میں بہت سے بے گناہ لوگ بھی تھے، جس کے جواب میں چواین لائی نے کہا کہ ان بے گناہ لوگوں کی قربانیوں کے صدقے چینی قوم تعمیر وترقی کی اعلیٰ وارفع منازل حاصل کرے گی۔ آج ہمیں چین کی دوستی پر فخر ہے لیکن ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ انہوں نے منشیات کو جڑ سے کاٹ پھینکنے کیلئے کیا اقدام اُٹھائے۔ آخر ہم یہ سب کیوں نہیں کرسکتے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم سب نشے میں دھت ہوکر کہہ رہے ہیں:
نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں
چلو مے کدے میں وہیں بات ہوگی

متعلقہ خبریں